گووندا اور ان کی اہلیہ سنیتا آہوجا کے درمیان جو بڑھتے ہوئے اختلافات اور افیئر میں آگے بڑھ رہے ہیں، ان پر اب ونے آنند کی لب کشائی کر دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دونوں کی خاندانی زندگی میں حقیقہ کلام کو چھپانا ضروری نہیں ہے، لیکن اس معاملے کو میڈیا کی سنسنی سے دور رکھنا ضروری ہے۔
ونے آنند نے کہا، ’میں اپنے ماموں اور ممانی کا رشتہ دل سے چاہتا ہوں اور یہ معاملہ نجی ہی رہنا چاہتا ہوں۔‘ وہ اس بات پر زور دیا کہ دونوں میں سے کوئی بھی کسی دوسرے کے بارے میں غلط بات نہ کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب جو لوگ گووندا اور اس کی خاندانی زندگی پر افواہاں پھیلاتے رہے ہیں وہ ان کے بیانات پر نہیں منہ گزارتے۔ ونے آنند نے ایک بار پھر انھوں نے یش وردھن کی تعریف کر دی ہے اور اسے بے حد ٹیلینٹڈ اور مستقبل میں روشن آکے دکھایا ہے۔
اس سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ شہرت اور کام کے نام پر کئی لوگ گووندا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس عمر میں ذمہ داریوں کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔
گووندا نے کہا تھا کہ ان کی شادی کو 37 برس ہو چکے ہیں اور اس میں دو بچے ہیں، بیٹی ٹینا اور بیٹا یش وردھن۔ گووندا نے اپنی فلمی زندگی کی خصوصیات کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے politics میں قدم رکھا ہے، اور اس سلسلے میں انھوں نے کئی تحریکوں میں حصہ لیا ہے۔
فی الحال یہ خاندان اپنے اختلافات کو حل کرنے کی عمدہ کوشش کر رہا ہے اور اس سلسلے میں ایک نئی زندگی کے لیے بھی پریشان ہوا ہوگی۔
گووندا اور ان کی اہلیہ سنیتا آہوجا میں جو بڑھتی جارہی ہیڈٹھوٹ ہے، اس پر اب ونے آنند نے اپنی بات کی ہے۔ اور یہ بات کہتے ہوئے کہ دونوں کی خاندانی زندگی میں حقیقت کو چھپانا ضروری نہیں ہے، لیکن اس معاملے کو مीडیا سے دور رکھنا چاہئے۔
گووندا اور ان کی اہلیہ میں جو حالات بدتے جارہے ہیں، اس پر اب ونے آنند نے اپنی بات کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں میں سے کوئی بھی کسی دوسرے کے بارے میں غلط بات نہ کر سکتا ہے۔
نے آنند کی بات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے ماموں اور ان کی مامی کا رشتہ دل سے چاہتے ہیں اور اس معاملے کو نجی رکھنا چاہتے ہیں۔
گووندا اور سنیتا آہوجا میں جو حالات بدتے جارہے ہیں، اس پر اب ونے آنند نے اپنی بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہوئے کہ دونوں میں سے کوئی بھی کسی دوسرے کے بارے میں غلط بات نہ کر سکتا ہے۔
جیسا کہ وہ اپنی فلمی زندگی کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ شہرت اور کام کے نام پر لوگ ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس عمر میں ذمہ داریوں کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔
اس خاندان کی گھنٹیاں مننا ہی تو مشکل ہیں، بلکہ وہاں کچھ دیر سے ہی ایسا محسوس ہوتا رہا ہے جو لوگ انھیں ناواقف اور غلط باتوں پر چلنے والے دکھتے ہیں…
گووندا اور ان کی اہلیہ کے درمیان اس معاملے میں یہ بات ضروری ہے کہ ایسی نئی زندگی کے لیے جو بھی فیصلہ ہوتا ہے، وہ ذمہ داریوں اور حقیقت کے ساتھ ہونا چاہیے۔
گووندا اور ان کی اہلیہ کو اس طرح کی صغیر ذیادتیں سے بچانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی خاندانی زندگی میں حقیقت پر چل پائے، لیکن یہ معاملہ نجی ہونے پر جاری رہنا چاہیے… انھوں نے اپنے ساتھیوں اور عمر بھارتی کے ساتھ ساتھ یش وردھن کی تعریف کرنی چاہیے، جبکہ جو لوگ افواہاں پھیلاتے ہیں وہ ان کے بیانات پر منہ نہ گزر سکتے…
ago ko dikhayi de rahi hai ke jab tak hum apni ghaybaton ko chhupaye nahiinge to tab tak humara family ki life meha jhooth bolne ka mauka nahi milega. lakin ye maamle media se door rakhna bhi zaroori hai kyunki agar media yeh maamle khabar kar degi to logon ko zyada tension ho jaygi. Vinod ne apni family life meha sach bolne ka faisla kiya hai lekin usko media ke peechhe nahi chalna padega kyunki abhi tab tak yeh maamle media se door rahna zaroori tha.
اس معاملے پر توجہ دی جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں خاندانوں کو اپنے اختلافات کو حل کرنا چاہیے اور ایسے لوگوں سے دور رہنا چاہیے جو ان کی زندگی پر افواہیں پھیلاتے ہیں۔ گووندا نے بھی اپنے بیانات میں کہا ہے کہ اس معاملے کو سماجی توجہ سے دور رکھنا چاہیے اور حقیقی کلام کو چھپانا ضروری نہیں ہے۔ ابھی یہ خاندانی زندگی ایک نئی زندگی کی طرف بڑھنے کے لئے پریشان ہو رہا ہے اور میڈیا کی سنسنی سے دور رہنا ضروری ہے۔
گووندا کی شادی اچھی نہیں ہوئی؟ انھوں نے تین سाल کی بیٹی لے کر کئی فلموں میں کام کیا تو یہ بات کیسے چل سکتی ہے کہ انھوں نے شادی میں حقیقہ کلام پکڑا ہوا ہے؟
اس معاملے میں سب کو سمجھنا ضروری ہے، جو دونوں بھائیوں کے درمیان یہ اختلافات ہیں اور ان پر میڈیا کی سنسنی نہیں لگنی چاہئیے۔ وہ گویاندا جو اس معاملے میں غلط بات کرتا ہو وہ سچائی سے دور ہوتا ہے اور اگر وہ جھٹلے ہوا تو پھر یہ نہیں چلا سکتا کہ وہ ہر کوئی اس پر منہ گزرے۔
یہ معاملہ کچھ عرصہ سے شروع ہوا تھا اور اب تک نہیں سمجھ آئی، لہٰذا میں سوچتا ہوں کہ ان دونوں کو ایک دوسرے پر یقین کرنا چاہئیے اور ان کی زندگی کو سمجھنا ضروری ہے۔ گووندا بھی اس بات پر زور دیا کہ شہرت اور کام کے نام پر لوگ نہیں فائدہ اٹھاتے بلکہ ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں۔ لیکن میں سوچتا ہوں کہ اگر اس معاملے کو سمجھنا ہو تو، یہ سب کچھ کسی ایسے معاملے سے متعلق ہو گا جو لوگوں کی زندگی کو متاثر کرے اور انھیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کی اجازت دیے۔