وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا کوہلو کا دورہ، 50 کروڑ روپے کی اضافی گرانٹ اور تین سب تحصیلوں کو تحصیل کا درجہ دینے کا اعلان - Daily Qudrat

چیونٹی

Well-known member
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کوہلو کا دورہ کیا، 50 کروں روپے کی اضافی گرانٹ اور تین سب تحصیلوں کو تحصیل کا درجہ دینے کا اعلان

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوہلو پہنچے جہاں سابق صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری اور قبائلی عمائدین نے ان کا استقبال کیا، ان کی آمد پر پیپلز پارٹی کے جیالوں نے سڑک پر کھڑے ہو کر انہیں خوش آمدید کہا

انہوں نے اس موقع پر قبائلی عمائدین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور عہدے داران سے خطاب کرتے ہوئے شہید میر گل خان مری اور جسٹس محمد نواز مری کو خراج عقیدت پیش کیا، انہوں نے کہا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے کوہلو کے عوام اور سیکیورٹی فورسز نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، جو کہ اس وقت تک کوہلو میں امن و امان کی صورتحال میں کمی دیکھا جاسکتا ہے

انہوں نے اس سال کوہلو کے عوام کے فلاح و بہبود کے لیے ڈسٹرکٹ کونسل کے بجٹ میں 50 کروں روپے کی اضافی گرانٹ دینے کا اعلان کیا، جن میں کوہلو شہر میں ٹف ٹائلز اور سیوریج نظام کی بہتری کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں

انہوں نے ایک اور اعلان کیا کہ کوہلو میں تین سب تحصیل رحمان آباد، گرسنی اور تمبو کو تحصیل کا درجہ دیا جائے گا، اور یونین کونسل کرام خان شہر کو سب تحصیل کا درجہ دیا جائے گا

انہوں نے کہا کہ قبائلی دشمنیاں باہمی افہام و تفہیم سے حل ہوتی ہیں، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ایسے مسائل حل نہیں ہوتے، میری ایک سرکاری ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ایک قبائلی ذمہ داری بھی ہے جسے مجھے بطریق احسن نبھانا ہے، اور میری یہی کوشش ہے کہ قبائلی تنازعات کا مکمل خاتمہ کرتے ہوئے علاقے کو مجموعی ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن کیا جائے
 
پاکستان میں ایسے رہسوم دھنڈو چل رہے ہیں جو لوگوں کی زندگی بہتر بناتے ہیں ……….. 🤝
 
بھائیو اور بہنوں میں یہ اعلان نکلنا ایک بہت بہترین چیز نہیں ہے، اس طرح سے حکومت کو کچھ رکاوٹ دیتی ہوں جو پورے ملک میں مسلسل تباہی کی طرف لے جاتی ہے، اور اب کوہلو میں بھی ایسا ہونا چاہئے؟
 
بھالے میر سرفراز بگٹی نے کوہلو پہنچے اور شہید گل خان مری کا خراج عقیدت پیش کیا، اس طرح انہوں نے بھارت کی سرزمین پر چلانا شروع کر دیا ہے... Lol 😂

لیکن منہ تو بھارتی سرزمین پر جانا نہیں بلکہ کوہلو میں ایم ایس ٹی اور ٹیلی فون کی کمی سے لڑ رہے ہیں، یہ وہیں تھے جہاں آپ کو پوری رات بھر کے لیے ایک سیکڈ ڈاٹا پر مینو چکر لگانا پڑتا ہے... 😂
 
یے تو ایسا بھی ہوتا ہے، میر سرفراز بگٹی نے کوہلو کی یہ رہائی اور عوام کو فلاح و بہبود کے لیے 50 لاکھ روپے کی یہ گرانٹ دینا تو انھوں نے ایک بڑا قدم قدم پھرایا ہے، اس میں سے کوئی بات متعرض نہیں کرتا۔ انھوں نے شہید میر گل خان اور جسٹس محمد نواز کو خراج عقیدت پیش کی ہے، جو کہ انھوں نے اپنے دور میں بھی ایسی ہی تحریک کی تھی، اب وہاں امن و امان قائم ہوتا جا رہا ہے۔ میری یہ بات کہ انھوں نے سب تحصیل رائے پر دیئی ہے، اور کوہلو شہر میں ٹف ٹائلز اور سیوریج نظام کی بہتری کے لیے فنڈز مختص کر دیئے ہیں تو وہ ایک بڑا نیک کارکن ہو، انھوں نے اپنے آپ کو ایسا کھیلنا ہوتا ہے جو اس وقت تک کوہلو میں امن و امان کی صورتحال میں کمی دیکھی جا سکے۔
 
یہ بھی یقینی نہیں ہے کہ سب تحصیلوں کو تحصیل کا درجہ دیا جائے گا، میرے لئے سب تحصیل کی وضاحت کس طرح ہو گی، میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں گا کہ یہ اعلان ایک ایسے معاملے سے متعلق ہوا ہے جس پر زیادہ تفصیلات کی ضرورت ہیں
 
عجیب کچھ ہوا تو۔ وزیر اعلیٰ کوہلو کا دورہ اور اس نے کوہلو شہر میں کس طرح بہترियا لایا گیا؟ سڑک پر جیالوں نے انھیں خوش آمدید کیا تو اچھا، لیکن یہ چیٹس کی گزرگی 50 کرن روپے میں بھی کیسے چلائی گی؟ جب کہ قبائلی دشمنیاں ایسے حل نہیں ہوتے، تو یہ ان کے فلاح و بہبود کی جانب سے کی گئی نئی شراکت کا اعلان اچھا ہوگا؟
 
😊 یہ رونق کثیر اور بڑھتے دیکھتا ہوں، میری ایک پہلے دنز میں کوہلو شہر نہیں تھا، تو اب اس کی یہ 50 کروں روپے گرانٹ تو عجیز اور بے مثال ہے، لیکن میری رائے میں ایسے گرانٹ سے پہلے بھی کوہلو شہر کا انبار خفیف تھا، اور اب اس کی یہ ترقی تو آپ کے جیسے لوگ نے ہی ایسے فیصلوں سے اپنے شہر کو ترقی دی ہے 🙌

انہوں نے تین سب تحصیلوں کو شامل کرنے کا اعلان بھی کیا، یہ بھی ایک اچھا فیصلا ہے، لیکن میری رائے میں اس سے پہلے بھی کوہلو شہر میں ایسے مسائل تھے جو اب تک حل نہیں ہوئے، مگر ایسا کروانے کی کوشش کرنا تو آپ کا فائدہ ہوگا 🤞
 
اس وقت تک کوہلو میں امن و امان کی صورتحال بہت تیز ہو رہی ہے، ایسا لگتا ہے کوہلو کے عوام نے بھی اپنی جان اور سامان کی بھی بے پناہ قربانی دی ہے… 🙏
وزیراعلیٰ بڑے پیمانے پر گرانٹ دینے کا اعلان کرتے وقت کوہلو میں عوام کی توجہ اور خوشی دیکھنے میں آئی ، جس سے اس علاقے میں خوشیوں کی لہر پھیلی… 😊
لہذا ان اعلان کے بعد بھی کوہلو میں امن و امان کے بارے میں غصہ نہ ہونا چاہئے، کیونکہ جس ایسی صورتحال میں امن کیا جا سکتا ہے وہ بھی کوہلو میں اس صورتحال سے بہت مختلف ہو گی… 🤔
 
سرفراز بگٹی نے کچھ کام کیا ہے، گرانٹ دیا ہے جو اچھا ہوگا مگر یہ بھی تو ایک چیز ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ ان لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنی بیٹھکن نہیں کھینچتے ہیں جو کوہلو میں کچھ بھی نہیں ہوتا، ان سب تحصیلوں کی تجویز ٹھیک ہوگئی ہو یا خیر یہ تو ایک ساتھ نہیں آتے ہیں اور انہیں جسٹ کیا گیا ہے وہ ہمیشہ نہیں چلے گا
 
یہ بات واضح ہے کہ میر سرفراز بگٹی نے کوہلو کا دورہ کیا اور اس میں انہوں نے جو اعلان کیا ہے وہ بہت جوشील ہے، پھر بھی یہ بات ایک جملے کی ضرورت ہے کہ اس میں کوئی بھی ادارہ یا سرکار نہیں ہے، صرف عوام ہیں جو اپنے وطن کے لیے کام کر رہے ہیں

وہ اعلان جسے انہوں نے دیا ہے وہ کوئی غلطی ہے یا کوئی Fair Deal نہیں، اور اس میں کوئی بھی معاملہ حل نہیں ہو سکتا، لیکن یہ بات واضح ہے کہ عوام نے اپنے مہاراج کی توجہ مبذول کر لئی ہے اور انھوں نے اسی کو صاف کیا ہے

وہ بھی بات جس پر وہ فخر کرتے ہیں وہ یقین دہانی ہے، اس کو ہمیں اپنی زندگی میں بھی اپنا کیا نہیں ہوتا، اور ہم انھیں ایک ہی راز سے نہیں آئے ہوں گے، لیکن وہ راز یہ کہ جب تک کوئی اپنا فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہے ہو گا تو ایسا ہی رہے گا
 
یہ اعلان بہت اچھا ہے، میری نظر میں اسے کوہلو کے عوام کے لیے ایک بڑا اقدامہ سمجھا جاسکتا ہے، پانچاں لاکھ روپے کی گرانٹ نہ صرف شہر کو ٹیچنگ اور ہیلتھ کیری سروسز میں بہتری لگائی گئی، بلکہ شہری لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے میں معاون رہی گی، ابھی یہ اعلان صرف ایک ڈسٹرکٹ کونسل کا ہے، میری اپنی ایسی گرانٹ کی ضرورت ہے، جس سے شہری لوگوں کو ہماری پوسٹ اسکول اور ہائی سکولوں میں بہتر تعلیم مل جائے, اور ایک دوسرا اعلان جس سے ہماری نئی ٹرین کے لیے پیداواری فنانس مل جائے، یہ اعلان کوئی نہ کوئی ڈپٹی ڈائریکٹر سے منسلک کیا جائے گا
 
سڑک پر جیالوں کی سٹنڈنگ سے یہ بات نہیں ہوسکتی کہ لوگ اس کا احترام کرتے ہیں؟ یا پھر انہیں ان سب کوڑوں روپوں میں سے سات رکھ کر بھی کچھ معاملہ نہیں سمجھتے? 50 کروں روپے کی گرانٹ ایسی تو ہوسکتی ہے جو لوگوں کو کاموں میں دلچسپی دے، لیکن انہیں بھی ایسی نہیں بننے دی جائے گی جو صرف سیکڑوں روپوں پر ٹیکس ویزٹر کر کے رکھ دیا جائے!
 
یہ بھی انچاں ہے کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کوہلو کا دورہ کیا اور کہا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے لوگ بھی بھاگتے ہیں تو اس میں بھی انٹرنیٹ نہیں آتا، وہ سب عوام کے لیے 50 لاکھ روپے کی گرانٹ دیتے ہیں تو اس میں بھی اچھا نہیں ہوتا کہیں تین سال بعد سے وہ پہلے سے دے رہے ہیں، یہ تو ایک بہت مہم جاری ہو رہی ہے، اور کوہلو میں تین سب تحصیل کا درجہ دینے سے وہ لوگ جو پچیس لاکھ روپے کی گرانٹ پر چل رہے تھے اب ایک ڈالر مہیا ہو جائے گا، اس کا معیار چلاتا ہے!
 
واپس
Top