وزیراعظم مستعفی

Yemen میں وزیراعظم سالم صالح بن بریک نے استعفیٰ دیا ہے، جس سے یمن کی قیادت میں تبدیلی آئی ہے۔ اس کا فیصلہ عرب میڈیا کے مطابق یمن کی صدراتی قیادت کی کونسل نے قبول کر لیا ہے۔

صدراعظم سے استعفیٰ دینے والے سالم صالح بن بریک کے فیصلے کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروپ جنوبی عبوری کونسل نے یمن کے جنوبی اور مشرقی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور سعودی عرب کی سرحد کے قریب پہنچ گئے تھے، جسے سعودی عرب نے اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

وزیراعظم کا استعفیٰ دینے کے بعد یمن کی حکومت نے وزیر خارجہ ڈاکٹر شائع محسن الزندانی کو ملک کا نیا وزیر اعظم مقرر کر دیا ہے۔
 
اس گمراہی میں تو یہ سب بھی بن گیا ہے، یمن کی حکومت نے ایسے شخص کو وزیراعظم مقرر کیا ہے جس کی پہلی بار خبر تھی اور اس نے یمینی حکومت میں بھی کام کیا ہے، اب وہ وزیر اعظم ہو گئے تھے تو وہ کوئی نہیں سمجھتے تھے، اس طرح کی تبدیلیاں بے فایڈ ہوتی ہیں، انہیں پچیس سال سے حکومت میں تھا اور اب وہ وزیر اعظم بن گئے ہیں تو یہ کونسی بدیل ہوگا، یمن کی قیادت کی کونسل کو بھی اس کی بات پتہ ہو گئی ہے، اب انہیں خود کو سنبھالنے کی जरور ہوگی
 
یہ بھی تو ہو گیا، وہی پچتا جو ہوتا، مگر کیا نتیجہ نہیں جس سے یمن کے لوگ اٹھتے ہیں! سالم صالح بن بریک کا استعفیٰ دینا بڑا ایک قدم ہے، مگر یہ تو ہمیں دیکھنے لئے نہیں بلکہ یمن کی عوام کو یہ دکھانا ہے کہ انہیں حکومت کرنے کی سہولت مل گئی ہے! اب یہ تو دیکھنا ہو گا کہ انہوں نے جسے چیلنج کیا تھا وہ کیسے انکشاف کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں!
 
اس سے پتہ چalta ہے یمن کی 政ری و्यवसیت کونسول نے اور بھی زیادہ چیلنج لینا شروع کر دیا ہے. انہوں نے دوسرے گروپ کو انہیں تیز pace پر چلنا پڑا ہے جبکہ وزیراعظم کا استعفیٰ دینا سب کو ایسا محسوس ہوتا ہے۔ یمن کی حکومت کو اپنی انٹرنیشنل پوزیشن کو بھی اپنی اور ان کی قیادت میں تبدیلی کے بعد مستحکم کرنا ہوگا. 💡
 
یمن میں وہ بدلाव آ گیا ہے جس سے پوری دنیا کو ایک دوسری طرف کھینچ دیا جا رہا ہے۔ یمن کی صدرتی قیادت کی کونسل نے وزیراعظم سالم صالح بن بریک کے فیصلے پر قبول کر لیا ہے، یہ ایک اچھی بڑی بات ہے۔ اب تک کیا ہوا تھا وہ سارے بدلاؤ کئے جانے کے بعد یمن کو ایسا لگ رہا ہے جو صحت مند اور دلچسپ ہو گا۔ یمن کی حکومت نے وزیر خارجہ ڈاکٹر شائع محسن الزندانی کو ملک کا نیا وزیر اعظم مقرر کر دیا ہے، یہ بھی ایک اچھا قدم ہے۔ اب ہمیں یمن کی حکومت سے پوچھنا چاہئے کہ وہ کیسے یمن کو بہتر بنائے گا۔
 
سالم صالح بن بریک کی استعفیٰ لینے کے بعد یہ بات بھی معلوم ہو گئی ہے کہ اس گروپ نے کیسے کامیابی حاصل کی؟ کیا انھوں نے کوئی معاہدہ کیا تھا? یہ سب کچھ سوشل میڈیا پر بھی معلوم ہوتا ہے مگر کون سی معلومات واضح اور موثوق نہیں ہوتیں؟
 
یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یمن میں کسی بھی تبدیلی کی وجہ سے اس کی قیادت کو تھोडا کمزور نہیں بنایا گیا ہے، بلکہ اب وہ ایک ایسے رہنما کے حوالے کرتا ہے جس کے لیے صدر کی پوزیشن کے لئے بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔ یمن کی حکومت کو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ وہ اپنے رہنما کے لئے ایک مستحکم نظام قائم کرے، نہ کہ کہیں نہ کہیں ان کی حیرت پھنکیں۔
 
یہ نہیں سچ ہو سکتا کہ سالم صالح بن بریک نے اپنی حکومت چھوڑنے کا فیصلہ ہی اس لیے کیا کیونکہ وہ جنوبی عبوری کونسل کو یمن میں پھنسنا نہیں چاہتا تھا? یہ ایک اور معاملہ ہو سکتا ہے، لیکن ملکی سطح پر معاملات بہت پیچیدہ ہیں تو یہ کچھ بات نہیں...

ملک میں بدلتے حالات کی وجہ سے ڈاکٹر شائع محسن الزندانی کو وزیر اعظم مقرر کرنا کیوں نہیں تھا؟ یہ ایک معاملہ کچھ مختلف ہے، لیکن وہ انہیں ملک میں بدلتے حالات کی وجہ سے وزیر اعظم مقرر کرنے کا کوئی علاج نہیں دیتا...
 
سالم صالح بن بریک کا استعفیٰ دینا یمن کی زندگی میں ایک اچھی بات ہوگئی ہے، لیکن اس کے پیچھے کیا نتیجہ آئے گا، یہ توہین پھیلائی جاسکتا ہے یا ایک نئی ترقی کا راستہ بن سکتا ہے? سعودی عرب کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروپوں کو اس وقت تک بھڑکاوٹ دینا مشکل ہوگا، اور یمن کے لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ سے زیادہ جانتے ہیں کیونکہ وہ ان کے خلاف پوری طرح سے تیار تھے 🤔
 
اس کھلے رونگی اور بیرونی تعاون سے یمن کی حکومت میں تبدیلی آئی ہے! حال ہی میں وزیراعظم صاحب استعفیٰ دے گئے تھے، اب ملک کا نیا وزیر اعظم مقرر ہوا ہے। یہ ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ اپنے پورے کیریئر میں یہی رکاوٹ سے باہر نکلنا چاہتے تھے، لیکن کوئی بات یہ توہم ہے کہ وہ اتنی تیزی سے یہ فیصلہ لیا کیا اور اپنے استعفیٰ کی घोषणا کر دیا!
 
یہ بات بھی دیکھنا چاہیے کہ یمن کی حکومت میں تبدیلی ہوگئی ہے، لیکن ان تمام تبدیلیوں سے پہلے یمن کے لوگوں کو بھی اپنی حکومت کی صورتحال پر اچھی وغیرہ نہیں پاتا تھا؟ آج تک یمن میں ایسا ہی ہوا رہا ہے، حالانکہ اب وزیر اعظم نے استعفیٰ دیا ہے لیکن یمن کی حکومت کے ساتھ اس کا تعلق بھی اچھی طرح نہیں ہوتا تھا! 😐
 
سالم صالح بن بریک کی جانب سے استعفیٰ دینا بھی ایک اچھا decision tha 🤔, لیکن یہ سوال ہے کہ انھوں نے اس فیصلے سے پہلے کیا strategy tha? کیا وہ یمن کی صدراتی قیادت کی کونسل سے مخالف ہو گئے تھے؟ یا تو وہ صرف اپنی سیاسی زندگی میں ایک change chahiye tha?

اب جب انھوں نے استعفیٰ دیا ہے تو یمن کی حکومت نے ایک fresh face lai hai 🤞, لیکن دیکھنا ہی کہ اس decision ka effect kya hoga? کیا یمَن کی حکومت انھیں trust kar payegi? یا انھیں politics mein apna new position banane ke liye ek challenge mil gaya hai 🤷‍♂️.
 
واپس
Top