وزارتِ سائنس پیکرٹ منصوبے میں بڑا مالی اسکینڈل بے نقاب، افسران کے خلاف کارروائی شروع | Express News

مچھر

Well-known member
اسلام آباد:
وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ذیلی ادارے پاکستان کونسل فار رینوایبل انرجی ٹیکنالوجیز (پیکرٹ) میں بھرپور مالی بے ضابطگیوں کا شکار ہوا ہے، جس کی ایک جانب سے وزیر اعظم کے ہمراہ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بھرپور انتقامی کارروائی شروع کر دی ہے۔

وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے تین دن کے اندر تحریری وضاحت طلب کرنے والی سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ایک خط میں ان کی جہت پر تھوڑا بھی یقین رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔

وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے واضح کیا ہے کہ منصوبے میں پانچ لاکھ روپے کی رقم پر مبنی 80 لاکھ روپے کی ادائیگی کی جانی چاہئیے، لیکن حال ہی میں انہوں نے ایک رپورٹ میں یہ بات کہی ہے کہ منصوبے کے اکاؤنٹ میں صرف چار لاکھ 188 روپے موجود ہیں، جو اس سے زیادہ نہیں۔

وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا ہے کہ منصوبے کی مجموعی نگرانی پراجیکٹ ڈائریکٹر کی ذمہ داری تھی، لیکن انہوں نے قواعد و ضوابط کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے، جو اس سے زیادہ خطرناک ہیں۔

وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے انسداد بدعنوانی اور بدانتظامی کی کارروائی جاری رہے گی، اس کے لئے وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ایک سرکاری مینجمنٹ کارپوریشن ایجنسی (سمیکا) کو منصوبے کی انکوائر کے لئے مقرر کر دیا ہے۔
 
عجीब ہے، حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستان کونسل فار رینوایبل انرجی ٹیکنالوجیز (پیکرٹ) کی بھرپور مالی بے ضابطی اور بدانتظامی ، اس میں سے ایک ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ناکام رہنے کا حال بھی شامل ہے، government ne yeh johar karta hai, sab kuch to phir bhi chalta hai... 🤔
 
عجیب hai, پکرٹ میں بھی یہی بدعنوانی کے مظاہر تھے جو اس وقت کی کوئی نہ کوئی ادارے میں دیکھنے میں آتا ہے۔ لگتا ہے کہ چھوٹے سے بڑے دونوں اس بات کو فراموش کر رہے ہیں کہ جب نئے منصوبے پر پانچ لاکھ روپے کا وازن لیا جاتا ہے تو یہ بھی یقین رکھنا چاہئیے کہ اس سے زیادہ نہیں پڑega؟ اور اب پکرٹ میں بھرپور انتقامی کارروائی ہو رہی ہے، لیکن اقدامات کو کیا ہوا دیکھنا چاہئے۔ سمیکا کو منصوبے کی انکوائر کرنے پر مقرر کرنا گھمندا ہے، نہیں تو یہ معاملے میں کچھ تبدیلی کا hopes karega.
 
بھول بھول، کون سی نوجوانیں پوری دنیا میں پیسٹ اور فیشن کے ساتھ دکھائی دیتے رہتے ہیں؟ ان کی وکالت کرنے والا ایک ذرائع، پی کرٹ، بھری پھیری کرنے لگا!

کیوں ان کو لگتا ہے کہ انہیں پانچ لاکھ روپے پر مبنی 80 لاکھ روپے ادائیگی کرنا چاہئیے؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے بھی بڑھیں گے؟

انسداد بدعنوانی اور بدانتظامی کی کارروائی ایک چہرے کی بات ہے، لیکن یہ تو ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر کے لئے آوارہ اور خطرناک ہونے سے پہلے ہی ہو چکی ہے۔
 
اس شکار پر تھوڑی بھی نظر دیتے ہیں، واضح طور پر 80 لاکھ روپے کی ادائیگی میں صرف چار لاکھ 188 روپے، یہ کتنا غلطی ہے؟ منصوبے کی مجموعی نگرانی پراجیکٹ ڈائریکٹر کی ذمہ داری تھی، لیکن وہ قواعد و ضوابط کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھاسکے؟ یہ تو ایک بڑا جھٹکا ہے!
 
یہ تو بھرپور چیلنج ہے! سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایسے ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر جو اچھے نہیں کام کر رہے، انہیں انتقامی کارروائیوں سے ناکام کرنا پڑا تھا! اور اب ان کے بھلے لئے ہمیشہ انکوائر کے لئے سمیکا کو مقرر کر دیا جاتا رہتا ہے... یہ تو معمول ہے!
 
تھوڑا سا اس تیز گریٹر وولش نے بھی بھرپور پائے چکا ہے، میرے لئے ایک رات کو کے ساتھی کیمپنگ کرنا بہت اچھا محسوس ہوتا ہے۔ انڈیا کی ناکام پالیسیوں کے بارے میں سمجھنے والے لوگ صرف دیکھ رہے ہیں، میرا خیال ہے کہ وہ اچھی طرح واضح نہیں کر رہے۔
 
یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ معیشت کی پوری بھرپور تھی... اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا! پھر بھی، وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو بھی اچھی طرح سمجھنا چاہئیے کہ کس طرح معاشی معاملات میں دھोखہ ڈالنے سے ایک معیشت کو خطرہ پہنچا سکتی ہے!
 
ایسا اچھا کہ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے تین دن میں اس بدعنوانی پر جوکہ کیا ہوا واضح کر دیا ہے، پچاس لاکھ روپے کی ادائیگی پر چار لاکھ اٹھ Hundred روپے صرف ریکارڈ کر رہے تھے؟ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ڈی پی ایف کون میں بھرپور بدعنوانی کی طرف توجہ دیتا ہے اور وہ سب کو بھگاد کر رہا ہے؟
 
اس سے پچھلے کچھ سالوں سے پی کرٹ میں ناکام ہونے کی گنجائش تھی، لکین اب یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ اس پر کام کرنا چاہئیے؟ کیا وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی انتقامی کارروائی کافی نہیں تھی؟ پانچ لاکھ روپے کی رقم پر مبنی 80 لاکھ روپے کی ادائیگی میں صرف چار لاکھ 188 روپے کا باقی رہ جानا، یہ تو بھرپور بدعنوانی ہے!
 
اس ملک میں بھی لوگ ابھی ہی بدعنوانی سے خوفزدہ ہو چکی ہیں، اور ابھی سے وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے منصوبے کی پچاس لاکھ روپے کی رقم پر مبنی ادائیگی کا مطالبہ کرنے کے بعد بھی ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر کو اس بات پر یقین نہ کرنے دیا ہے کہ منصوبے کے اکاؤنٹ میں کتنے پچاس لاکھ روپے ہیں اور کتنے روپے ادائیگی کی جا رہی ہیں؟ یہ تو ایک بڑا معاملہ ہے، جس سے لوگ ناخوش ہو کر دیکھ رہے ہیں۔
 
اس کونسيل میں بھی یہ ہمت نہیں ہوسکتی اور یہ رپورٹ تو واضح ہے کہ منصوبے میں کتنے پینے کی گئی تھیں اور اس سے اب کتنے روپے چاہئیے تھے؟ ان ملازمتوں پر ہر کوئی اپنی نظر رکھ رہا ہے اور اب واضح ہوتا ہے کہ ان میں بھی بدعنوانی کی جھگڑی چل رہی ہے۔
 
عجیب hai yeh baat, jo bhi PKCRT ko 80 lakh rupey payane ka mana raha tha, ab wo sirf 4 lakh 188 rupey hi paya rahega... yeh toh kya hai? badle ki cheez bari ya choti nahi hoti, aaj bhi pehle se hi to paye hue honge.
 
یہ بہت غضبناک ہے، وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ایک رپورٹ میں 80 لاکھ روپے کی ادائیگی کا ذکر کیا، لیکن منصوبے کے اکاؤنٹ میں صرف چار لاکھ 188 روپے موجود تھے! یہ بہت خطرناک ہے اور وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے اس کے بارے میں واضح کیا ہے، انہوں نے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے، جو بھی اس سے زیادہ خطرناک ہے!
 
یہ بھی تو عجیب ہے، وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ایسے منصوبے کی تجزیہ یوں کر دی ہے کہ پانچ لاکھ روپے کی رقم پر مبنی ادائیگی میں صرف چار لاکھ روپے بچے ہیں! یہ تو ایک بڑا معذور ہے، اور وہ ناکام ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر کو انکار کر دیا ہے؟ اس کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف کارروائی شروع کرنے میں لگتا ہے کہ یہ ایک بڑا قدم ہے! :))
 
یہ واضح ہے کہ پی کے آرٹ نے بھرپور مالی بدعنوانی سے جڑا ہوا ہے، لیکن یہ بات ضروری ہے کہ اس کی ایسی صورت حال کی پہلی بھی نہیں ہوئی ہوگی۔ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو ان میں صحت مند اور قواعد پر چلنے والی کارروائی کرنا چاہئیے، نہ کہ اس میں لچکدار ہونا چاہئی۔ یہ بھی دیکھنی چاہئیے کہ منصوبے کی مجموعی نگرانی کو کس طرح معالج کیا گیا ہے، اور اس میں ناکام ہونے کی وجوہات کیا ہیں?
 
کیوں آنکڑھیں ہوئیں؟ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو ان ملازمتوں پر توجہ نہیں دی جاتی جو وہ کرسکتا تھا، اور اب وہ 80 لاکھ روپے کی ادائیگی کی ڈیٹا پر چل پڑے ہوئے ہیں؟ اس طرح کی بدلیں تو ہونا ضروری تھی، مگر یہ پورے منصوبے پر نہیں ہوئی، آپ دیکھتے ہیں کہ لاکھوں روپے میں کتنے نقصان ہوئے، اس کی واضح تفصیلات نہیں دی گئی، مگر یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ منصوبے میں بھرپور بدعنوانی اور بدانتظامی ہوئی، اب ان سے انتقام لیا جائے گا۔
 
واپس
Top