Wives should shout at their husbands Rani Mukerji statement goes viral | Express News

طوطا

Well-known member
rani مکھرجی نے کہا ہے کہ بچوں کو پھر ایسا طرز عمل اختیار کرنا ہوتا ہے جو ان کی والدین کے سامنے وہ دیکھتے ہیں، لہٰذا عزت اور احترام کی بنیاد گھر سے ہوتی ہے۔ اگر کوئی بچا ایسا دیکھتا ہے کہ اس کے والدین کے درمیان انصاف نہیں ہوتا، تو وہ اسے سمجھ لیتا ہے کہ عورتوں سے ایسا برتاؤ عام بات ہے اور اس کی ذمے داری باپ کی ہوتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ احترام سے پیش آئے، کیونکہ بچے روزمرہ کے مناظر سے ہی سیکھتے ہیں اور اس لیے گھر میں ماں پر باپ پر آواز بلند نہیں کرنی چاہیے بلکہ ان کے الفاظ میں ’’ماں کو باپ پر چلّانا‘‘، جسے وہ درست طریقہ قرار دیا ہے۔
 
یہ بچوں کے لئے ایک اہمLESSیہ ہے کہ انھیں سیکھنا چاہیے کہ گھر میں معاشرت کی ذمہ داریاں کس طرح بڑھتے ہیں، اور اگر وہ ان کی والدین کی سہولتیں نہیں دیکھتے تو ان کو اچانک یہ بات سامنے آئی کہ گھر میں بھی ایسا ہی معاشرت ہے۔
 
Wow! 🤯 ان ماں جو اپنے بیوے کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آتی ہیں، وہ بچوں کو بہت ایک اور طریقہ سکھاتا ہے جس کی وجہ سے بچے اپنے ماں پر باپ پر دباؤ نہیں پاتے। Interesting! 🤔
 
یہ تو کیا کہیں نہیں، کہ اس وقت تک بچوں کو اپنے والدین کی نظروں سے سیکھنا پڑ رہا ہے کہ ان کی ماں باپ پر کون سی قیمتی جگہ ہے، اور وہ لوگ جو اس نئی نسلی تناؤ کے دور میں بھی یہی طرز عمل اختیار کرتے ہیں، تو انہیں ہر ایسی گھریلو مہلک کی پناہ ملنے کی ایک اور شاندار موقع ملا ہوا ہو گا۔
 
بچوں کی یاد دिलاتے ہوئے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو سیکھنے کے لیے ہی نہیں بلکہ مظاہرہ کرنے کے لیے بھی اٹھتے ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی جسمانی صورت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی لیکن دل کا ایسا ہمبستا ہوتا ہے جو انہیں اپنے مرض کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
 
میری یादوں میں لگتا ہے کہ غلطی سے بھرپور تصور کیا جا رہا ہے... کیا کوئی بچا ہے جو اس طرح ہوتا دیکھتا ہے؟ والدین کے درمیان میرے گروپ میں نہیں رہا جس کی وجہ سے کوئی بھی بچا بڑھتا ہوا اسے سمجھ لیتا ہے... آج کے دنوں میں ماں کے علاوہ کتنی بھی نہیں، اور بچے اس کو بھی بڑھاتے گئے...
 
بچوں کی صحت اور Mental WellBeing بہت اہم ہے، اس لیے پہلے تو والدین کو اپنے بیٹھنے والی ساتھ ان کے ساتھ ایسا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے جو انہیں محسوس ہوا کرتا ہو، پھر فوری طور پر نہیں بنتا کہ وہ ایسی طرح آئیے جنہوں نے ان کی والدین سے کیا ۔ اگر بچے کو یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ والدین کے درمیان انصاف نہیں، تو وہ اس کا احاطہ کر لیتے ہیں اور غلط فہمی کی وجہ سے اپنے ماں باپ پر بالکل بات نہیں کرتی ۔ اس لیے یہ اچھا ہے کہ لوگ بچوں کو ان کی والدین کی طرف مفت جانے دیں، نہ کہ ان کی غلطیوں پر ان کا فائدہ اٹھاتے ۔
 
واپس
Top