پشاور میں ایک شاندار واقعہ ہوا جس پر کوئی بات کہنے کی ضرورت نہیں، شاہ منصور صوابی میڈیکل کمپلیکس میں جوڑے ہی ہونے والے ایک عائلے میں بھارتیہ تالاب کے پانچ بچے کی ولادت ہوئی ہے۔
اس خیرِ خواہہ کے بعد جسے لوگ ہر سال دیکھتے ہیں، ایک عورت نے اپنے ہاں بیک وقت پانچ بچوں کی ولادت کر دی۔ اس خیرِ خواہہ کو کس کی نیند سونے دیتی ہی نہیں پھر بھی ان میں ایک لڑکا اور چار لڑکیاں شامل ہیں، یہ واضح تھا کہ ان کے لیے ایک جدید طبی سہولت کی ضرورت ہے جس میں وہ اپنے بچوں کو پہلے سے زیادہ بہتر ڈالنے کا موقع مل رہا ہے۔
اس خیرِ خواہہ میں ایک اور بات جو اچھی لگتی ہے، ہے کہ والدین نے اپنے بچوں کی حالت کو خطرے سے باہر تسلی بخش قرار دیا ہے، یہ بات ہمیں خوش تھی اور پریشانی کا کہنا نہیں تھا کہ انھیں یہ معاملہ کیسے حل کرنے دیں گے۔
وہ خیرِ خواہہ جو پانچ بچوں کی ولادت کے بعد ہوتا ہے وہ بہت روایتی بات ہے، اور ابھی یہ لگتا ہے کہ اس پر کوئی بات نہیں کہنی پائے। لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ صرف ایک خیرِ خواہہ ہے یا اس میں شائقین کو اور بھی دلچسپی ہے؟ کیا وہ میری نیند سونے دیتی ہے ؟
اس واقعے سے میرے لئے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ زندگی بھی عجیب ہوتی ہے اور نا طبیعی چیزوں میں بھی کچھ حقیقی کامیابیاں ملتی ہیں
اس شاندار واقعے سے جوڑے ہوئے والدین کو ایک بات یقینی ہوگی کی یہ معاملہ حل کرنے کے لیے کچھ سمجھ و عمل ضروری ہے، نا تو انھیں یہ بات تھی کہ ان کو یہ معاملہ کیسے حل کرنا پائے گا؟ اور نا تو اس خیرِ خواہہ کی جس کے لئے اب لوگ ایک نیا نام دیں گے، اس لیے انھیں ایک معقول نظام کی ضرورت ہوگی جو انھیں اپنے بچوں کو بہتر زندگی دینے کا موقع دے
میری بات یہ ہے کہ یہ عورٹ نے شاندار کام کیا ہے اور میرے لیے یہ ایک بڑا افتخار ہے کہ وہ اپنے پانچ بیٹوں کو जनم دیں گے! یہ ان کی صلاحیت اور طاقت پر مشتمل ہے، میری نیند اس جگہ سونے کے لئے نہیں ہے جہاں وہ اپنے بیٹوں کو پہلے سے زیادہ بہتر ڈال کر رہی ہے! انھیں میرا بھی کھیلا ہے اور وہ اسے کچھ نہ کچھ دھندلے سے بھی مل رہی ہے!
ایسا تو بہت عجیب ہے، اور خوش نہیں تھا کہ پانچ بچوں کی ولادت پر ہونا، ایک سے زیادہ بھی نہیں۔ وہ لوگ جو اپنی زندگی میں کسی کے لیے ہمیں خوش کرنے کا موقع ملا ہو، وہ لوگ دیکھنا چاہتے ہngen کہ اس معاملے کو حل کرنے کا طریقہ کیسا ہو گا?
بچوں کی سंख्यہ ہمیشہ تو چیلنج رکھتی ہے لیکن ان کے والدین نے ایسا کردار ادا کیا ہے جو ہمیں حیران کر دیتا ہے، کہوں نہ کوہی کی ایک عورت نے پانچ بچوں کی ولادت میں ہمیشہ سے نئی ریکارڈ بنائی ہے جس سے ہم سب محفوظ ہیں۔
وہاں کی خیرِ خواہہ ایک دوسرے کی بن بھابہ ہو رہی ہے، پانچ بچوں کی ولادت کے بعد یہ کہنا ہے ان کی والدین نے اپنے بیٹے کو بھی پیدا کر دیا ہے! اور وہی بات جسے میں پہلے بتایا تھا کہ ایک عورت نے پانچ بچوں کی ولادت کی ہے، اب اس کو پانچ لڑکیوں اور ایک لڑکا سے بھر دیا گیا ہے! یہ تو ایک عجیب خیرِ خواہہ ہے، لیکن وہی بات جو میرے मन میں آئی ہے، کہ انھوں نے اپنے بچوں کی حالت کو خطرے سے باہر تسلی بخش قرار دیا ہے اور یہ بات ہمیں خوش لگتی ہے کہ انھیں اس معاملے کو حل کرنے میں مدد مل گئی ہے!
میں تو واضح ہو گیا ہے کہ جوڑے ہونے والے لوگ ایسے ہیں جس کے لیے ہر سال دیکھنے والے جو خیرِ خواہہ کا واقعہ ہوتا ہے اور اس پر کچھ نہیں کہنا ہوتا، لेकिन یہ بات بھی صاف تھی کہ پانچ بچوں کی ولادت ایک عورت کو ایسا کرنے میں مشکل نہیں ہوگا اور اس لیے انھیں ایک جدید طبی سہولت کی ضرورت ہے جو انھیں اپنے بچوں کو بہتر ڈال سکے۔
اور یہ بات تو جھیل پھیلنے والی ہے کہ والدین نے اپنی بیٹیاں اور بیٹوں کی حالت کو خطرے سے باہر تسلی بخش قرار دیا ہے، یہ تو چلو کئی سال پہلے بھی اس طرح کا واقعہ دیکھنے کے لیے بھی تھا اور اب بھی اس پر کوئی بات نہیں کہنی ہوتی کیوں؟ پھر کیا یہ ایک نویسی ہے?
ابھی یہاں تک پہچانائیں کی جاتی ہیں کہ شاہ منصور صوابی میڈیکل کمپلیکس میں ایک خیرِ خواہہ ہوئی، ابھی یے وہی بات ہوا جیسا کہ پہلے بھی سمجھیں گی۔ مینے اپنے بچوں کو ناکام نہیں رکھنا چاہئیں تو کیوں کہیں ایسا ہونا پڑتا ہے؟ نہ صرف اس سے میں اپنی زندگی بھر دوسروں کو دیکھتے رہاؤں بلکہ یہ بھی کہاؤں گا کہ شاہ منصور صوابی میڈیکل کمپلیکس کی سروسز وغیرہ بہتر نہیں ہوتیں۔
ہمیشہ سے لگتا تھا کہ یہ بھارتیہ تالاب کے ساتھ ایک عورت کی دلیلا ہو گیا ہے جو نیند سونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ لیکن پچیس بچوں کی ولادت کرنے والی عورت کو ایسا کیا کرنا ہوا جس کے بعد لوگ اس کی نیند سونے دیتے ہیں، یہ تو ایک حیرت انگیز بات ہے!
اس سے پہلے بھی ایسی کوئی بات نہیں تھی جس پر لوگ اس وقت ہر سال دیکھتے ہیں۔ ایک عورت نے اپنے ہاں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا پیدا کر دیا ہے، اب تو یہ ایک شاندار واقعہ ہو گیا ہے!
ابھی تک جیسا کہ لوگ کہتے تھے کہ ایسا کچھ نہیں ہوسکتا، اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس سے پہلے کیا کرنا تھا!
بھارتیہ تالاب کی ولادت ہونے والے ان بچوں کو اپنی زندگی کا پہلا دن بھی نہیں سنا چکے ہیں، ایسی صورتحال میں ان کی والدین کو پہلی چٹان لگ رہی ہے، اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنے اولاد کے لیے ایک نئی دنیا کا عہد کھول رہے ہیں۔ یہ خیرِ خواہہ دیکھ کر ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ پeshawar میں بھی اچھے لوگ اور خوشحالی کا راز کھونے والے لوگ موجود ہیں۔
ہمارے اس خطے میں ایسے واقعات ہوتے ہیں جو دل کو چھو بھرتے ہیں. یہاں تک کہ ایک عورت نے اپنے ہاں پانچ بچوں کی ولادت کی، یہ تو ان سے وعدہ تھا! میرے خیال میں اور ایک بات واضح ہے کہ یہ خیرِ خواہہ اس وقت تک تھی جب وہ عورت اپنے لیے ایک modern clinic کی ضرورت سے محض باخبر نہیں رہ سکی.
میری پوری ذہنی کھل کر ایک بات ہے، نہ تو دیر ہے اور نہ ہی کچھ بھی دیر کی ضرورت ہے، چاہے کوئی ایسا واقعہ ہو جس پر لوگ تبازن کرتے ہیں یا ان کے بعد میری ذہنی کھل کر کچھ اور سوچنا ہوتا ہے، اس کے ساتھ میں کوئی بات نہیں کرتا تھا، صرف اپنے اندر دھونے والی نہیں، لेकن اب تو پانچ بچوں کی ولادت ہوئی ہے اور والدین نے ایسا ہی کیا تھا جو میرے اندر دھونے والے کو دلچسپ بنا رہے ہیں، فائٹنگ ایک لڑکا بھی ہو گیا ہے، تو واضح طور پر میں سوچنا شروع کرتا ہوں گا کہ کیا اس پانچواں لڑکا کو یہاں تک کی اچھائی ملگی ہو گی جس سے اسے اپنے دو بھائیوں اور دو بہنوں کے مقابلے میں ایک اچھی پوزیشن حاصل کر سکے، میری کوشش نہیں ہوتی کہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ فائٹنگ جسم کو بہتر بناتا ہے، نہ تو یہ صحت مند ہے اور نہ ہی ایسا کیا جا سکتا ہے، پھر میرا فائٹنگ کا مشاہدہ کرتے ہوئے میں سوچوں گا۔