خبریں ہیں کہ خیبرپختونخوا کے بالائی اضلاع میں شدید برفباری کے دوران، جس سے 3000 سے زیادہ افراد برف میں پھنس گئے تھے، اس واقعات میں 31000 افراد کو بحال کر لیا گیا۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق، برفباری نے مختلف علاقوں میں شہریوں اور سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور کیا، تاہم بروقت کارروائی کرتے ہوئے ریسکیو ٹیموں نے تین دن تک مسلسل امدادی خدمات انجام دیں۔
فوری طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ ہیوی مشینری کی مدد سے صاف اور سافٹ لانڈنگ سے ساٹھ اہم سڑکوں کو برف سے صاف کیا گیا تاکہ آمد و رفت بحال ہو سکے۔
ایک رپورٹ میں بتایا گئا ہے کہ، وادی تیراہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں دن رات ریسکیو آپریشن جاری رہا، جس میں پانچ سو پینتیس ریسکیو اہلکاروں اور ایک سو نوے گاڑیوں نے حصہ لیا۔
متاثرہ اضلاع میں عوام کو فوری سہولت فراہم کرنے کے لیے بتیس عارضی ریسکیو پوائنٹس قائم کی گئیں۔
ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل بلال احمد فیضی نے کہا ہے کہ، برفباری کے دوران ریسکیو اہلکاروں نے مشکل موسمی حالات کے باوجود عوام کی مدد کو یقینی بنایا اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گئے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق، برفباری نے مختلف علاقوں میں شہریوں اور سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور کیا، تاہم بروقت کارروائی کرتے ہوئے ریسکیو ٹیموں نے تین دن تک مسلسل امدادی خدمات انجام دیں۔
فوری طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ ہیوی مشینری کی مدد سے صاف اور سافٹ لانڈنگ سے ساٹھ اہم سڑکوں کو برف سے صاف کیا گیا تاکہ آمد و رفت بحال ہو سکے۔
ایک رپورٹ میں بتایا گئا ہے کہ، وادی تیراہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں دن رات ریسکیو آپریشن جاری رہا، جس میں پانچ سو پینتیس ریسکیو اہلکاروں اور ایک سو نوے گاڑیوں نے حصہ لیا۔
متاثرہ اضلاع میں عوام کو فوری سہولت فراہم کرنے کے لیے بتیس عارضی ریسکیو پوائنٹس قائم کی گئیں۔
ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل بلال احمد فیضی نے کہا ہے کہ، برفباری کے دوران ریسکیو اہلکاروں نے مشکل موسمی حالات کے باوجود عوام کی مدد کو یقینی بنایا اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گئے۔