خیبرپختونخوا میں لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک بار پھر متحرک ہو گیا ہے، جس سے ملک بھر میں سماجی تناؤ برقرار رہتا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا اور پنجاب میں لاپتہ افراد کے کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے صوبوں میں ایسی صورتحال پائی گئی ہے جو دوسرے کا خंडنہ بھی ہے۔
chyberpaktunkhwa میں لاپتہ افراد کے مجموعی طور پر 3730 کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے 2760 کیسز نمٹائے جا چکے ہیں جبکہ 970 کیسز تاحال زیرِ تفتیش ہیں۔ ان لاپتہ افراد میں سے 1804 کو ٹریس کر لیا گیا ہے، جن میں سے 707 افراد کو اپنے گھروں تک واپس پہنچایا گیا ہے۔ تاہم، 88 لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں اور ان کے خاندان ہلاک ہو چکے ہیں۔
ملک بھر میں پچاس ہزار سے زائد لاپتہ افراد کیسز رپورٹ ہوئی ہیں، جن میں سے پچاس ہزار سے بھی زائد نمٹائے جا چکے ہیں۔ ان میں سے تین دہائیوں سے لاپتہ افراد کیسز کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ معاملہ اب بھی متحرک ہے۔
chyberpaktunkhwa میں لاپتہ افراد کے مجموعی طور پر 3730 کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے 2760 کیسز نمٹائے جا چکے ہیں جبکہ 970 کیسز تاحال زیرِ تفتیش ہیں۔ ان لاپتہ افراد میں سے 1804 کو ٹریس کر لیا گیا ہے، جن میں سے 707 افراد کو اپنے گھروں تک واپس پہنچایا گیا ہے۔ تاہم، 88 لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں اور ان کے خاندان ہلاک ہو چکے ہیں۔
ملک بھر میں پچاس ہزار سے زائد لاپتہ افراد کیسز رپورٹ ہوئی ہیں، جن میں سے پچاس ہزار سے بھی زائد نمٹائے جا چکے ہیں۔ ان میں سے تین دہائیوں سے لاپتہ افراد کیسز کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ معاملہ اب بھی متحرک ہے۔