خان یونس میں لکڑیاں چنتے2فلسطینی بچے اسرائیلی ڈرون سے شہید - Ummat News

اتوار کو خان یونس میں ایک بھائی اور ان کے بچوں کا بدترین شکار ہوا، ان دونوں بچوں کو اسرائیلی ڈرون سے شہید کردیا گیا ہے۔

غزہ میں بریٹانوی نشریاتی ادارے ٹائمزآف نے بتایا کہ یہ واقعات پوری رات گزرتے ہوئے ہوئے، جس میں انہی دو بھائیوں کی شہادت تھی اور وہ ایک سکول کے قریب ہی تھے۔

ابو عاصی نے بتایا کہ وہ اسی دن لندن میں رہتے تھے، وہ اپنی شہادت کے بعد اپنے گhar کے سامنے ہی جھک کر ہی انتقال کر گئے تھے۔

ابو عاصی نے بتایا کہ اس دن انہوں نے بھائی سہیل کو لین دین میں ایک لکڑی لنی تھی، جس پر وہ اپنے گhar واپس آ رہے تھے اور اس لکڑی کا استعمال کر کے ان کی پوری دائیرہ میں گھومنے کا منصوبہ بناتے تھے۔

اس پر اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے میں ایک ڈرون حملہ کیا جس سے ان دونوں بچوں کو شہید کردیا گیا۔

آئی ایف ایل کے مطابق یہ دو بھائی جنرل سہیل اور فادی ابو عاصی تھے، جن کی عمریں 11 اور 8 سال تھیں۔ ان دونوں کو اسرائیلی فضائیہ نے شہید کر دیا۔

سہیل نے اپنی پچھلی سے بتایا کہ وہ اس دن اپنے گھر آ رہے تھے، جب ان کی گاڑی اٹھتی ہوئی اس پر اسرائیلی فوج نے حملہ کیا۔

ان دونوں بچوں کو شہید کردیا گیا، جس کے بعد ان کے شہید کرنے والے آسٹریلوی ڈرائیور نے اس کے خوف کی وجہ سے اپنی آنکھیں بھون لیں اور خود بھی گھبرا گئے۔

ابو عاصی نے بتایا کہ ان دونوں کو شہید کردیا گیا تو اس سے پوری دائیرہ میں گھبری ہوئی اور لوگوں کی توجہ ان کے جسمانی अवشیش سے ہی ہوئی، جس نے انہی دونوں کو شہید کر دیا۔
 
اس صورتحال کی پوری تفصیل سمجھتے ہوئے میں صرف ایک بات یہ ہے کہ اس طرح کی بے حد وحشیانہ حملوں پر ٹیکسٹرز اور نٹیجے کو پوسٹ کرنے کی جگہ ہوتی ہے ناہیں تھک دیتے؟

جب اس طرح ایک بچے کا انتقال ہو رہا ہے تو نہیں وہ اپنی زندگی کو کس طرح لینے کی کوشش کر رہا تھا؟

فادی اور سہیل کی شہادت کی وجہ یہ تو نہیں ہوگی کہ وہ اسے اپنی زندگی میں لینے کی کوشش کر رہے تھے?

جب ہمیں ایک فیک ٹیوز کو دیکھتے ہیں تو یہ بتاتا ہے نہیڰ کہ وہ کس طرح جانتے تھے؟
 
یہ دیکھنے کی بے حسی کا واقعہ تھا! ابو عاصی کو اس دن وہاں رہتے ہوئے اور شہید کر دیے جانے کے بعد اپنی پوری دائیرہ میں ہی جھک کر ہی انتقال کر گئے تھے! یہ ان کی بے سانسی شہادت کو دیکھنے والوں پر غور کرنا چاہیے...

تمام یہی نہیں، وہاں کے لوگوں کی گھبراہٹ اور دھونے پانے کی وجہ سے وہ ڈرائیور بھی اپنی آنکھیں بھون لگے تھے! یہ تو تمام کچھ نہیں بلکہ ایک دہلیز ڈریم سے زیادہ ہوا...

اور ان دو چھوٹے بچوں کی شہادت! ان کا کیا ذمہ دار تھا؟ ان کو لین دین میں ایک لکڑی لینی پڑی تو اسرائیلی فوج نے ڈرون سے شہید کر دیا... یہ بھی نہیں بلکہ ایک بڑے دہش کے بعد...

ایسے معاملات میں سچائی کی تلاش کرتے رہو!
 
😞 یہ دو بچوں کی شہادت کے بعد میرا دہرنا نہیں ہو رہا، ان کے والدین اور اس دائریت کی وہ لوٹیں جو انھوں نے دیں، یہ سب میں ایک گھنٹا بھر کے لئے ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔

اس دائریت میں لوگ اپنی زندگیوں سے لڑ رہے ہیں اور اب ان دو بچوں کی شہادت کا یہ راز واضع ہو گیا ہے کہ انسان کو بھی جنا نہیں چاہیے۔

اس دائریت میں لوٹیں اور گھنٹیاں لڑتے رہتے ہیں اور اب ان دو بچوں کی شہادت کا یہ راز ایک بار پھر مجھے یاد دلا رہا ہے۔

اس دائریت میں لوگوں کا سجدہ اٹھانے لگا ہو، لوگ ان دو بچوں کو واپس پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ اب وہیں ہیں اور اب انھوں نے ایک ایسا شہید کردیا ہے جو کوئی نہ کوئی بچہ بن سکتا ہے۔
 
🤕 یہ بھی تو ایک بڑی ہانی ہے کہ شہادت کے بعد انسان کی آنکھیں دھون پڑتی ہیں اور جسم بھی گھبرتا ہے، انہی دو بچوں کو شہید کرنا بھی نہیں تو کچھ ہوسکta ہی نہیں؟ یہ ایک نوجوان جو اس لکڑی سے اپنی زندگی چلائے رہے تھے، اب وہ کس کی لکڑی چلا رہا ہے? 💔
 
عزیز اللہ یہ واقعہ بہت دیر سے منہ گھونپتی ہی رہی، اس کے بعد بھی ناقدین کی پالیسی کو تبدیل کرنے میں بھی مایوس ہو جاتے ہیں۔ یہ واقعات غزہ میں ہوئے، اور اس پر اسرائیلی فوج نے حملہ کیا جس سے دو بچے شہید ہو گئے۔ یہ ایک بدترین واقعہ ہے، جس پر کوئی بات کرنا بھی آسان نہیں ہوگی۔
 
یہ واقعات گھبرانے والے ہیں! دو بچوں کی شہادت سے پوری دائیرہ میں چٹکی لگ رہی ہے، ان کے والدین کے لئے ایسا واقعہ بھی نہیں تھا جس پر انہوں نے اپنے منصوبے کو بھگتایا ہوتا، وہ صرف اپنی شام کے بعد ہی گھر آتے اور نئی صبح کو کھانا پکایا کر کے لین دین میں بھاگ جاتے تھے۔ اس واقعہ سے ان کے والدین کے لیے کیا کہنا، وہ ایک ڈرائیونے کی گریوٹس کا شکار ہوئے!
 
यہ بھی ایک دریازہ ہے جہاں انسانی زندگی کے لالچ سے ہم اپنی جان میں چپکتا ہو جاتے ہیں، دو بچے جو ایک لکڑی لینے کی کوشش کر رہے تھے، اس لکڑی کی توجہ انہیں اپنی جان سے ملا دی۔ ابھی 11 اور 8 سال کی عمر میں یہ دو بچے شہید ہو گئے، یہ ایک دریازہ ہے جو انسان کو اپنی جان کے لالچ سے محو عذاب کر دیتا ہے، کیا یہ لالچ کھیلنا ہی تھا جس نے ان دو بچوں کی زندگی کو ختم कर دیا؟
 
یہ کھبھرے دھونپ کی پہلی یوم ہے، ایک بچہ ایسے ہی جب وہ اپنے گھر آ رہا تھا تو اسرائیلی فوج نے حملہ کیا اور اس کے بعد ایک دوسرا بھی شہید ہو گیا… ان دونوں کی لچک کتنے تھی کہ انہیں ایسا شکار ہوا … اب لوگوں کو پتہ چل رہا ہے کہ اسرائیلی فوج جیسے حریفوں کے سامنے ہمیشہ اس طرح کی لچکیاں نہیں دیکھتے… 🚨😱
 
اس سے پھر یہ ایک دوسرا واقعہ پیش آ رہا ہے جب تک کہ ہمیں یہ بتایا نہیں جاتا کہ یہ دنیا کس وجہ سے اس طرح رہ رہی ہے؟ میں سوچتا ہوں کہ آج بھی کبھی ایسے واقعات آتے ہیں جو ہمہ وقت سے لگ رہے ہیں۔ میری ماموں نے ہمیشہ بتایا کرتا تھا کہ دنیا میں دوسرا ایسا واقعہ نہیں آ سکتا۔

اب میرا بچا 11 سال کی عمر میں شہید ہو گیا ہے اور اس کے بعد تو ہمیں اس کے والد کا حال پکرایا جاتا ہے۔ میری ماں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ ایسے ساتھیوں میں رہتی تھیں جن میں سے اکثریت ہی انیس سال کی عمر میں آئیں ہوئی تھیں اور اب وہ تمام شہید ہو چکی ہیں۔ یہ دیکھ کر مجھ پر غم نہ رہا مگر مجھ پر یہ بات بھی رہتی ہے کہ یہ دنیا کی کیا پریشانیوں سے لادا ہوا ہے؟
 
ایسا ہونے پر گھباڑا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایک لکڑی کے پہلے سے بھی حملہ کیا، نا تو ان دو بچوں کو شہید کر دیا تاکہ لوگوں کی دیکھ بھال کرے؟ یہ ایک حقیقی نہانہ ہے۔

اس کی پہلی بار جاننا ان دو گاڑی وालوں کو اور ان کے گھروں کے لوگوں کو ہی ہوتا ہے جو انہی دونوں بچوں کی شہادت سے پوری دائیرہ میں گھبرا رہے تھے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کے بارے میں لوگ سوچتے رہتے ہیں کہ اس نے انہی دو بچوں کی شہادت میں مدد کی تھی، تو اب یہ یقیناً صاف ہوتا ہے کہ لوگ انہی بچوں کو شہید کرنے میں شامل نہیں رہتے تھے۔
 
اس حادثے پر اسرائیلی فوج کی جانب سے اس طرح کی brutalities ko kabھ نahi dekھنا چاہیئے... Israel ki zindagi mein kuchh sahi nahi hai. Kyun is tarah ke children ko shahid kar diya gaya? Isliye Israel par bandh ho jaye!
 
یہ تو ایک دھمکی تھی... اب یہ لوگ کیسے گھبرتے ہیں؟ ان دو بچوں کو شہید کردیا گیا اور اس سے ان کی آنکھیں چل پڑتی ہیں؟ نہ تو یہ واقف ہیں کہ انسان کی جان ایسا قیمتی ہے جس پر کسی کی دھمکی سے خوف ہو سکتا ہے... اور نہ ہی ان دو بچوں کو شہادت کا شکر دیتے ہیں؟ وہ لوگ جو ان کے شہید ہونے سے بھی آگھوش ہوتے ہیں، وہ بہت ہی منصفانہ ہیں...
 
اس واقعات سے ہمیں کیا سیکھنا پڑتا ہے؟ اسے دیکھنے پر یہ بات بھی اچھی لگتی ہے کہ انسان کے ذہن میں ایسا واضح نہیں تھا کہ ایک لکڑی سے دائیرہ گھومنا بھی ممکن ہو گا، اس لیے ایسا تو انسان کی ذہنی صلاحیت سے ہی نہیں جاتا بلکہ فوجی ادارے کے ذریعے ایسی جگہوں پر حملے سے جھیلنے کی یہ شہرت حاصل کرتی ہے جو انسانی زندگی کو بھی اس طرح ہی تباہ کرتی ہے۔

اس واقعات کا تعلق بھی غزہ میں دیکھنا پڑتا ہے۔ یہاں لوگ اپنی زندگی کی پریشانیوں سے بھاگتے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے جھیلتے ہیں، ان سب کو نئی زندگی سے اچھا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے اور اس کے بجائے ایسے واقعات سے جھیلنے کی ضرورت نہیں ہوتی، یہاں انسان کو ان سب کے معاشرتی اور سماجی تنازعات کو حل کرنے کی طاقت ملنی چاہئے اور اپنی زندگیوں کی بھی دیکھنا پڑتا ہے،

اسے ساتھ ہی یہ بات بھی اچھی لگتی ہے کہ انسان کو اپنے فوجی اداروں کی جانب سے ایسے حملے پر عمل کرنے کی ہدایت نہیں ہونا چاہئے جس سے ان سب کے حیات تباہ ہو جائیں، اس لیے ان فوجی اداروں کو ایسی کارروائیاں کرنے کی پوزیشن سے ہٹانے کی ضرورت ہے۔
 
عجibuں سے اس دھچکا لگ رہا ہے! ان دو بچوں کی شہادت تو کیا بتائے؟ انہیں شہید کرنے والے اسرائیلی فوج کے لوگوں نے اپنی آنکھیں بھون لیں؟ یہ تو انسانیت کی گنجائش سے باہر ہے۔
 
اس دuniya mein kis bhi cheez mein aapko shakti dena chaahiye, wo cheez hai jismein aap apne bachon ki suraksha hoti hai. Ab ye sab kuch sunkar mere mann mein ek hi baat aa rahi hai ki kyun nahi humein yahaan par apni awaz uthani chahiye? Hum kis tarah se apne bachon ko surakshit rakhein, is liye hamaari zarurat hai koi aajad kaam karna jo hamare bachon ko suraksha dena chahta ho.
 
یہ گھٹنے دہ واقعہ غزہ کی وہی ایسی بات ہے جو ہمیشہ روسا رہے ہیں اور ان کے باوجود بھی یہ اچانک ہو گیا ہے۔

جب تک ہمیں ان چھوٹلو کو شہدت کے نام پر پوسٹ کرنا نہیں پڑا تھا تو یہ سب واضح نہیں تھا لیکن اب جب ان کی شہادت سے ہم جڑے ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ایسی بات ہے کہ ہمیں اس صورت حال پر بھی چٹکاء لگنے دو گا۔

اس واقعات سے انسafolke.com نے یہ کہا ہے، “غزہ میں ایک سکول کے قریب شہدت کرنے والے دو بچوں کو ایک اسرائیلی ڈرون سے شہید کردیا گیا ہے” اس پر یہ بات کہی جائے تو یہ ایسا واقعہ ہے جو ہمیشہ روسا رہا ہے۔
 
یہ واقعات ایک شدید خطرات پر مشتمل تھا... ابھی دھمکی لگتی ہے تو اس کا مقابلہ نہیں ہو سکتا بلکہ جب دھمکی ملتی ہے تو بے پناہ حقیقت کی طرف بھاگنا چاہئے... یہ دو بچے اپنے مستقبل کے لئے لڑ رہے تھے، نہیں ہی کہ اس کے خلاف لڑتے تھے، اور ان کی شہادت نے پوری دائیرہ کو آگے بڑھایا...
 
یہ واقعات بھوت کے لیے بھی زیادہ تراقمی ہیں، ان دو بچوں کو شہادت دے کر اسرائیلی فوج نے کیا ہے وہ تو اس پر ہم آزاد ہیں۔ ابھی تک یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ جو کیونے کر رہے ہیں وہ اپنے کھلے جھانک کر رہے ہیں۔

اس دن سے کیا ان دونوں بچوں کو شہادت دے کر اسرائیلی فوج نے ہمیں کیا ہے؟ پھر ان دونوں کی ماں کو کیا ہو گا، ابھی تک اس کی بات بھی نہیں ہوئی۔ یہ سارے واقعات ایک دھمن ہونے کی بات نہیں کہتے، ان دو بچوں کو شہادت دے کر اسرائیلی فوج نے صرف اپنی ممانعت پر چل رہا ہے۔
 
واپس
Top