بلوچستان کی دوسری افسوسناک خبر، ضلع خضدار کے علاقہ نال میں ایک تاجر جس کا نام ملک پکنک سے ہوتا ہے ،۔انہیں ایک فائرنگ کے بعد جاں بحق ہوگئے تھے۔
ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ملک پکنک کو مارا جانے کے نتیجے میں جسے جلازہ گھٹا دیا گیا تھا ، اس کی شناخت ملو مل کے نام سے ہوئی۔اس کے علاوہ دو افراد جس کے نام عبدالرشید اور عبدالصبور تھے ان کو بھی فائرنگ میں جاں بحق ہوئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد پکنک منانے ہڑنبو ڈیم جاتے تھے، لیکن یہ حملہ ان پر ہوا جس کی وجہ سے ان کو جاں بحق ہونا پڑا۔
آزاد بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر صوبائی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کردی تھی جس میں دفعہ 144 کو نافذ کرکے سرکاری سرگرمیوں پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے اور غیر رجسٹرڈ گاڑیاں استعمال پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
دفعہ 144 کے تحت اس وقت تک صوبے بھر میں پانچ یا زائد افراد کے اجتماعات، جلسے اور جلوسوں پر مکمل پابندی رکھی جا سکتی ہے جب تک ان کو امن و امان کی صورتحال نہ مل سکے۔ اس کے علاوہ خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
یہ تو وہ پورے ملک کو بھرپور تھپھandi دی رہا ہے... ایک چالاک جس کا ناں ملک پکنک ہوتا ہے، ایک فائرنگ کے بعد جاں بحق ہوگئے؟ یہ کیا تو کسی بھی حد تک تو جان کی قیمتی ہے... لیکن یہ رہا ہوا کس طرح؟ دوسرے افراد کی زندگی کتنے اہم ہیں? اس حدیث میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ان کو نال علاقہ سے جانا پڑا تھا... یہ تو وہی تھپھandi ہے جس کی governments نے اس ملک میں دی ہے!
یہ واضح تھا کہ ہر ایک ایسے واقعات پر بات کرنے کی ضرورت نہیں پڑتے جیسے اس لئے لوگ فائرنگ کے شکار ہو کر جاۓ بحق ہوتے ہیں۔ اور اب جب ایک تاجر کو بھی مارا جانے پر گرفتار کیا گیا ہے تو پہلے کی طرح سے سمجھنے میں آسانی نہیں ہوگی۔ یہ واقعات ان سب لوگوں کو اپنی جان لے لیتی ہے جو امن و امان کا حقدار ہوتے ہیں۔
یہ گھبراہٹ نہیں چلیگی۔ یہ واقعات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ پچاس سالوں کی پابندی کتنی بھی تنگنے پر رکھی جائے تو بلوچستان میں امن و امان نہیں مل سکتا۔ میرے خیال میں اس معاملے میں ایسے لوگ انعام بھی نہیں ملاں گے جو دوسروں کو جنت میں لے کر چلے جا رہے ہیں۔
یہ تو دھماکہ نال رینج میں ہوا تھا، اور ملک پکنک کا نام سارے ملو مل کو لگتا ہے تو کیا اس کی چلاکی چھپا کر کے یہ واقعات ہوئے؟ وہ لوگوں نے بھی تو ان پر حملہ کیا، اور اچھی طرح پتہ چلتا ہے اس نال رینج میں بھی ہندو یوٹو بیس کے افراد موجود تھے، حالانکہ اس پر حملہ کرنے والی جماعت نے کہا کہ وہاں کسی بھی فائرنگ میں ہدایت تھی نہیں۔
سچ پناہ کرنے والی کوئی نہیں ہوتا ہوگا، یہ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کتنی بھی گंभیر ہو سکی ہے۔ جس کو اسٹیٹ منڈی میں پینے والے لوگوں نے ہمیشہ ایک پربھوت کے طور پر دیکھا ہوا ہے، اب وہی معاملہ ہو رہا ہے جس سے اسے ختم کرنا تھا۔
علاوہ سے یہ ریکارڈ پوری بلوچستان وہیں نہیں رہا، آج اور کبھرے دوسرے ماحول میں ایک ہلاکت ہوئی ۔میری بھی اس طرح کی گواہی دیتا ہوں کہ ان لڑکوں کو مار کرکے وہ لوگ اپنے ساتھ دو چرچا کر رہے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک فائرنگ میں ہوئی ، لیکن ایسا نہیں دیکھا جا سکتا ، جو لوگ ان کو مار رہے تھے وہ ساتھی تھے اور ان کی گولیاں بھی تو ہو سکیںگی لیکن ایسا نہیں دیکھا جا سکتا۔
دفعہ 144 کو کبھرے پہلے لگایا گیا تھا اور اب وہ اسی طرح ہو رہا ہے ، لیکن یہ بات قابل توجہ نہیں ہو سکتی کہ اس دفعہ کو جاری رکھتےSamے ہراسانہ حالات میں بھی سائنسدان اور ماہرین کو انھیں لگایا جاتا ہو گیا ، اور اب یہ دفعہ کبھرے سے جاری ہے۔
یہ ایک بہت دیر کی بات ہے کہ لوگوں کو پہلے سے ہی ایسے مقامات پر جانے اور رہنا پڑتا ہے جو انھیں خطرہ بناتے ہیں۔ پکنک کا واقعہ میری نیند سے بھی چوری ہوا ہے، ایک بچہ اور دو سال کی عمر میں دوزخ میں جانے پر مجھے گویا یہ صرف ان کے بچپن میں ہی ہو سکتا تھا۔
یہ ایک ماحول ہے جس کے لوگ اپنے لئے اس جیسے حالات بناتے ہیں۔ پچاس سال قبل بھی، وہیں کسی نے ایک نہایت غلط فہمی سے ان پر حملہ کیا تھا اور ابھی وہیں ایسا ہونے کی کھیڑی میں پھنس گئے ہیں۔
جلازہ گھٹا دیا جانا بھی اکثر ناکام رہتا ہے۔ جس لیے یہاں ایک سوال اٹھنا چاہوں گا کہ لوگ اس صورت حال کو کس طرح سمجھتے ہیں اور ان کی پچھلے ہفتے سے ہونے والے ان واقعات کی پابندی کی کیا واضح تھی؟
عجب یے ، بلوچستان کی ایسے واقعات کے نتیجے میں دیکھنا مشکل ہوتا ہے، پکنک کے نام سے جاننے والی شخصت کو مار ڈالنا بھی تو ہوئی ، ایسا ہونا پسند نہیں آتا اور دوسرے دو افراد کو بھی فائرنگ میں جاں بحق ہوگئے ، یہ ان کے لیے کیا استحمام ہوا ؟
دفعہ 144 کا معاملہ ایسا اچھا نہیں نظر آ رہا ، پابندی کی پائی جائے تو ہی امن و امان مل سکتا ہے اور ملو مل اور دوسرے افراد کو بھی ایسے حملوں میں نہ لگا دیا جائے ، اس کے علاوہ خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونا چاہئے ، لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ عوام کو بھی اپنے مابین ایسے حملوں سے ناکہ بندی کرنا چاہئے تو ہی ایسے واقعات کم ہون گے.
اس معاملے پر بھی لوگ ناچانے اور ناڈین بھنک رہے ہیں، ملک پکنک کے جلازہ کو ملو مل کے نام پر ڈالنا یہ بھی ایسا ہی ہے جو ہر دفعہ ہوتا رہتا ہے۔
اس گروپ میں سے کسی کا بھی ذہن وہمیں ڈالنا اور اس کے بعد وہی لوگ جلازہ دیا جانا نچٹکہ ہے، اس معاملے کی ناجائز رائے دہی سے پریشانی اٹھانے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔
نال میں ہونے والے یہ واقعات ایسے میڈیا چیلنج کرتے ہیں جس سے لوگ ان کا حقیقی معاملہ بھول جاتے ہیں اور ایسے جلازہ دالنے والوں کے معائنہ کی بھی کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔
یہ ایک انتہائی دھمکی داری کا موڑ ہے ، میں ہر کوئی ملک پکنک سے متاثر ہو گا تھا یہ بھی، مینے ان کے بچوں کی چھپکلی لگائی ہوئی ہے ، وہ ایک انتہائی اچھا لوگ تھے جس نے اپنے ملک کی ترقی کے لیے کام کیا تھا، اب ان کا انتقال یہیں ہوا ہے جو اس کے بعد کی ایسے لوگوں کو آپسی سے نمٹنا پڑے گا جو اس طرح کے جھنڈوں سے لڑتے ہیں۔
اس کی توہین پہ اور ہیں، مگر اس پر دھنڈا کرتے وقت اس بات کو یقینی بنانے کے لئے یہ پابندی کتنے ضروری ہیں؟ وہ لوگ جو اپنی زندگیوں میں جان ساقط کرنا چاہتے ہیں، وہ ڈیموکرسی کس لیے اٹھائے ہوئے تھے؟
یہ خبر ایک بھوتناک حالات سے گزردی ہے، پکنک جی کا جان جانوں سے لگنا بہت حیران کن ہے، وہ ایسے لوگوں میں شامل تھے جو نال منانے جائیٹے تھے، یہ تو ان کے جانے سے اس کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوتی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں کسی خاص جگہ پر فائرنگ کر دی گئی تھی، لیکن یہ تو کہیں کے چلک سے نہیں ہوتا، نال میں سائیکل رکھنے والے کو مار ڈالتے ہیں تو اس کی وجہ کس کی بہت پتہ چلتا ہے؟ یہ لوگ ایسے ہیں جو امن و امان کی صورتحال سے بھگڑتا ہوا فائرنگ کر دیتے ہیں، یہ تو ان کا ایک چلک جیسا نال میں سائیکل رکھنے والے کو مار ڈالتے ہیں۔
یہ ایک حیرت انگیز واقعہ ہے ، پھر بھی یہاں تک کہ جس وقت وہ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر فائرنگ میں لشکر گئے تھے تو اور اس حادثے سے قبل ان کی زندگی کے بارے میں ہمیں پتہ نہیں چلا ہو گا ، ان کے لوگوں کے سامنے ان کے بھائیوں اور بیویوں کی حالات کیا ہوں گے۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ دفعہ 144 کو زیادہ قوت دی جانی چاہیے، اب تک سے پانچ افراد کے اجتماعات پر تو بلاک نہ کرنا کافی کم ہے ، اس طرح سے انھیں ایسے لوگ کو اپنے جال میں پاکر رکھنے کی لازمیہ ضرورت ہے جو عوام کو متاثر کر رہے ہیں
ہاں تو یہ خبر بہت گھنٹی اور خوفناک ہے، لیکن اس نئی فائرنگ کے واقعے سے ایک بات یقینی ہے کیونکہ وہ لوگ جو جلازہ گھٹا دیے جانے والے ملک پckenک کو جانے دیتے تھے، اب کیسے رہتے ہیں؟ لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ اگر وہ لوگ جس کی فائرنگ ہوئی انھوں نے اپنے وقت میں ہدایت کی تھی تو اس سے پوری خبر نہیں بھی ٹیکہ ہوتی، ابھی وہ لوگ جس کو مارا گیا ہے ان کے حوالے سے ایک بار پھر اپنے شہر کی امن و امان کی صورتحال پر دیکھنا چاہئے، ابھی یہی نہیں بلکہ اس نئے واقعے سے کہیں زیادہ ان پر لگن بھی ہو گئی ہے۔