پاکستان میں بدعنوانی کی وہ صورتحال جو لوگوں میں چھپائی ہوئی ہے اس پر ایک سروے کا نتیجہ آئا ہے جس کے مطابق پانچ سو سات فیصد افراد نے یہ تصدیق کر دی ہے کہ وہ نہیں دیکھے ہیں کہ ان کی پیداوار یا ذخائر کو غارتا جارہا ہے۔
نائٹ ریپورٹس کے مطابق سرکاری اداروں میں رشوت دینے کے نوبت پیش کرنے کی بھی یہ رہی ہے کہ صرف چالیس فیصد افراد کو یہ تجربہ ہوا ہے لیکن ان تمام افراد میں سے صرف پانچ فیصد نے بتایا کہ ان سے رشوت دھندے تھے اور ان کے ساتھ بدعنوانی کی صورتحال کو آگے بڑھایا گیا ہے۔
اوہ شخص جو اپنے علاج گئے وہ اسٹیشن پر آئے تو کہا اور نہیں، ان کا مطالبہ مافوق قیمتی تھا اور ان کی یہ رائے بھی 76 فیصد نے دے دی ہے کہ ان سے کوئی رشوت دینے کی نوبت پیش نہیں آئی۔
چالیس فیصد لوگ جو اپنی زندگی میں کوئی سرکاری ملازم کا ملاقات کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ان کی ساتھ ایسی صورتحال نہیں آئی ہے جس میں اقرباؤ پروری نے میرٹ کو نقصان پہنچایا ہو۔
اس کے برعکس صرف باریس فیصد لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ان سے رشوت مانگی گئی ہے اور وہ اس نوبت کو پیش کرنے میں مستعد ہیں۔
میں اس سرکاری اداروں میں رشوت دینا کیسے آئے گا؟ میرا ایک وکیل بھی نہیں ہے، پھر یہ سب کچھ کیوں ہوتا ہے? میرے گروپ میں لوگ جو اپنی زندگی میں کوئی سرکاری ادارہ سے ملے ہیں وہ سب کہتے ہیں کہ ان کی وہ صورتحال نہیں آئی ہے جو لوگوں میں فیکٹریوں اور سٹیشنز پر دکھائی دیتی ہے۔ یہ سب تماشا ہوتا ہے، میرا خیال ہے کہ لوگ بہت سی صورتحالات میں گم ہو جاتے ہیں اور ان کی وہ رائے دہے جو ان پر تھپھंड پڑتا ہے۔
میٹھا ہو، لوگ بہت ہی سے دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ایسی صورتحال ہوتی ہے جس میں لوگ اپنے ذخائر کو غارطا جاتے ہیں اور ان سے رشوت لی جاتی ہے۔ میرے لئے یہ کھلے اور دیکھنا یوں ہی ہے جیسا کہ میٹرک اور اسکول کی پریشیں کی ایسی صورتحال ہوتی ہے جس میں بہت سارے ملازمتوں میں دیکھ رہے ہیں کہ یہاں بھی ہوا ہو گی اور لوگ دیکھ کر ہی اس پر غور کرنے لگے گے۔
یہ بھی تو کچھ حقیقت ہے جو لوگ نہیں دیکھ رہے ہیں...सरکاری اداروں میں بدعنوانی بڑا مسئلہ ہے، لیکن عوام کی جانب سے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کس طرح وہ اپنے ذخائر کو غارہ رہے ہیں...چالیس فیصد لوگ کہتے ہیں نہیں دیکھے ہیں، بلکہ وہ 76 فیصد کے مطابق کہتے ہیں ایسی صورتحال نہیں آئی ہے...لگتا ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے...
تو یہSurvey کیا ہوا ہے پھر 76 فیصد لوگ کہتے ہیں نوبت پیش نہیں آئی تو کیوں? میٹرو پر چل رہا تھا اور اسکٹر ہوا تو اچانک ساتھ اتر گئے اور کہنے لگے وہ نہیں دیکھتے ہیں کہ ان کی کس پیداوار کو غارتا جارہا ہے.
اور تو یہ بھی نہیں کہ پانچ فیصد لوگ بتاتے ہیں کہ ان سے رشوت دھندے تھے اور وہ بدعنوانی کی صورتحال کو چھپا رکھتے تھے.
لگتا ہے کہ لوگوں کی بات میں بھی کچھ نہ کچھ دھول پڑی ہوگی
بھیڑوں کی لپٹ میں چھپا کر بدعنوانی کا ایسا جال بن گئی ہے جس سے لوگ نہیں سمجھتے کہ وہ غارت گراہے ہوئے ہیں، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جس شخص کو رشوت دی گئی ہے وہ اسی سے بدعنوانی میں اپنے ہی جال کو مضبوط کرتا ہے
بہت دیر ہو گیا ہے کہ لوگ بدعنوانی کی بات چیت نہ کر رہے ہیں، سرکاری اداروں میں انصاف نہیں ہوتا۔ ایساSurvey دیکھنا بہت ہی کہرام کن ہے، کہ لوگ جو گھروں میں دھنڈے نہیں ہوں وہ بھی نہیں دیکھتے لیکن ان کا ملازم ہونے سے ان کو بھی شکار ہوتا ہے اور اس صورتحال کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ یہSurvey دیکھنے کے لئے ایک پریشانی ہے جو ہمیں اٹھانے کی ضرورت ہے۔
علاوہ ازیں یہ بھی دیکھنا مشکل ہے کہ آئین کی تعینات سے نکل کر ایسے لوگ کو ملازم بنایا جاتا ہے جو اس نوبت پر پہنچنے والوں کے لیے بے حد منافقت کرتے ہیں۔ اگر چارٹرڈ ایسوسی ایٹس کی ان کے پاس ذخائر ہوتی ہیں تو وہ اور بھی اپنی معیشت کو بدلنا نہیں دیتے جیسا کہ یہ رپورٹ سائن کرتی ہے۔
اس سروے کی نتیجے پر مشاورت کرتے ہوئے، یہ دکھائی دیتا ہے کہ لوگ بھاگ رہے ہیں اور سرکاری اداروں میں بدعنوانی کی صورتحال کو جاننا نہیں چاہتے . یہ ایک حقیقت ہے کہ ان لوگوں کا ملازمت کا تجربہ زیادہ تر لوگ دیکھنے سے نکل گئے ہیں، لیکن وہی لوگ جو اپنی جائیداد پر بدعنوانی کی صورتحال کو جانتے ہیں ان میں بھی اچھائی کا معیار زیادہ نہیں ہوتا . ان تمام ملازمتوں میں جہلت کی صورتحال رکھتی ہے، جو وہ لوگ سمجھنے کے قابل ہیں جن کو یہ تجربہ ہوا ہے اور ان لوگوں کی اچھائی کا معیار تھوڑا زیادہ نہیں ہوتا .
بہت جھوٹے لوگ ہیں یہ نائٹ ریپورٹس کا ایک مہماتوال پہلا۔ اسی طرح سے دیکھنا تو چاہئے لیکن واضح رکھو کہ غالباً یہ لوگ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جو معاشی طور پر نچوٹے ہوتے ہیں اور ان کی صحت کا بھی کیا ہال ہے؟
لوگ رشوت کے لئے مستعد ہونے کی بجائے اپنے معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں اور اپنی ملازمتوں میں بھی اس طرح کے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی میرٹ کو نقصان پہنچائے! یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ اس طرح سے جو بھی ہوتا ہے وہ آپ کے لیے ایک کٹر تاریکی ہو جائے گا!
اس سرکاری سروے کی یہ رپورٹ پورے ملک میں چھوڑا ہوا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ لوگوں کی ایسے معاملات پر نظر انداز ہونے سے بدل کر بہت زیادہ توجہ دینے لگے ہیں جو پاکستان میں دیکھے جارہے ہیں۔
ایسا کیا محسوس ہوتا ہے، پانچ سو سات فیصد لوگ بتائیں کہ ان کی پیداوار کو غارتا جا رہا ہے اور یہ تصدیق ہے کہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی بھی جاری ہے، لیکن پانچ فیصد کی یہ رائے کو دیکھتے ہیں تو یہ سب کچھ شہرت کے لیے ہو سکتا ہے...
اس سرورٹس میں جو لوگ شرکت کرائی ہے وہ سب کے سامنے ہیں، اور یہ واضح نہیں ہوتا کہ ان کی بات کتنے حقیقہ کار ہیں... چالیس فیصد لوگ بتائیں کہ ان سے رشوت دھندے تھے اور یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ ان کی بات کی کتنے قدم ہیں...
یہ لوگ جو اپنی زندگی میں کوئی سرکاری ملازم کا ملاقات کیا ہے وہ بتائیں کہ ان کی ساتھ بدعنوانی کی صورتحال نہیں آئی ہے اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ان کی بات کی کتنے فائدے ہیں...
لگتا ہے کہ وہ لوگ جو بدعنوانی کی صورتحال کو دیکھتے ہیں ان سے بڑی توجہ نہیں دی جاتی ہے، اس لیے ان کی بات کو کم ڈیٹ کیا جاتا ہے...
یہ بات کیا ہے؟ سبسک्रائیب کر لیا ہوتا تو لوگ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ واضح نہیں ہے کہ پیداوار یا ذخائر کو غارتا جارہا ہے یا نہیں? تو لوگ چالیس فیصد دیکھتے ہیں اور فیلڈ رپورٹ کر لیا ہوتا ہے، پانچ فیصد میں سے صرف پانچ فیصد بھی اس نوبت کو پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ کیا کہتے؟
جب لوگ اپنی زندگی میں ایسا کچھ دیکھتے ہیں جو انہیں خوش نہیں کرتا تو وہ دیر سے آئتے ہیں اور ان کی رائے بھی آدھے میں ہوتی ہے، لگتا ہے کہ انہیں واضح نہیں ہو سکتا کہ ان کے ساتھ کوئی رشوت دھندے تھے اور بدعنوانی کی صورتحال کو آگے بڑھایا گیا تھا۔
یہ بات یقینی نہیں ہو سکتی کہ لوگ اپنی زندگی میں ایسا کچھ دیکھتے ہیں جو انہیں خوش نہیں کرتا، لیکن وہ اسے آئنڈر ایڈ سے شائع کر دیں تو اس پر رائے بھی دیر سے آ جاتی ہے؟
جب کوئی بے پناہ کچھ دیکھتا ہے تو وہ اس پر یقین نہیں کرتا، لیکن اسے اپنی زندگی میں دکھایا جاتا تو لگتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ مستعد ہوتے ہیں۔
اس نوبت پر یہ بات کیا ہے؟ لوگ اپنی زندگی میں دکھائی دیتے ہیں تو انہیں واضح نہیں ہوتا کہ ان سے رشوت مانگی گئی ہے یا نہیں؟ یہ یقینی نہیں ہو سکتی کہ لوگ اپنی زندگی میں دکھائی دیتے ہیں اور ان پر کوئی رشوت مانگی گئی ہے یا نہیں، لیکن اس پر رائے بھی دیر سے آتی ہے۔
یوں ہی آتا ہے کہ لوگ بدعنوانی کی صورتحال پر بات نہیں کرتے، پھر بھی وہ سرکاری اداروں میں رشوت دینے کا تجربہ کئی بار کر لیں گے جس سے ان لوگوں کو بھی واضح ہوا کہ بدعنوانی کی صورتحال میں آگے بڑھنا ہمیشہ معذور ہوتے ہیں۔ یہ دیکھنا بھی نوجوانوں کے لیے متبہم ہے جس سے وہ اپنے فٹنر کو کیسے بھونگے اور سرکاری ملازمت کا معاملہ کیوں حل کر سکتے ہیں۔
بھائی تو یہ Survey تو بے داعوٰی ہے! کون سی سات فیصد لوگ رشوت مانگی ہوئی ہے تو ان کو بھی وہ رشوت دینے کی نوبت پیش کرنی چاہیے? اور وہ لوگ جو ان سے نہیں مانگنے دیئے تو ان کے لیے نوبت پیش کرنی چاہیے؟ یہSurvey تو ایک جھوٹا کاروبار ہے!
لگتا ہے پہلے اس Survey کے نتائج کو ڈنو! اور پھر ان لوگوں سے پوچھیں جو رشوت مانگی ہوئی ہے وہ کیا بتاتے ہیں؟
یہ بھی کثرت ہوئی بات ہے کہ لوگ پیداوار یا ذخائر کو غارتا جارہا ہے اور ان کی ساتھ بدعنوانی کیا جارہا ہے. لیکن وہ بھی لوگ جو رشوت دینے کی نوبت پیش کرنے میں مستعد ہیں وہ معزز لوگ نہیں ہیں. ان کا جو منصب یا علاج وغیرہ ہوا ہو وہ بھی وہی رکاوٹ سے گزرتے رہتے ہیں.
یہSurvey کا نتیجہ پاکستان کے لوگوں کے لیے چیلنجنگ ہے، جو نہیں دیکھتے کہ ان کی پیداوار یا ذخائر کو غارتا جارہا ہے وہ بھی ایک واضح رائے نہیں لگتی ہے... 76 فیصد افراد کو یہ تجربہ نہیں ہوا کہ ان سے کسی سے رشوت مانگی گئی ہو اس کی واضح رائے دیکھنے میں بھی آدھائی فیصد مستعد نہیں ہیں... یہ survey ایک بات کی پتا لگاتی ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کی صورتحال کچھ لوگوں کو دیکھنے نہیں آئی جبکہ اس کو دیکھ کر بھی اکثر لوگ مستعد نہیں ہیں...
اس سرورے کی نتیجے سے کچھ کوشش کرنا پڑا… پیداوار یا ذخائر کو غارتا جانا بھی، اور رشوت دینے کی نوبت پیش کرنے کے نوبت… یہ سب دیکھتے ہیں تو لوگ ہرے ساتھ گئے ہیں اور اب یہ بات چیت ہونے کی تاخیر کر گئی ہے… آگے بڑھنے والی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو کچھ لوگ بدلیں پر چڑھنے لگے ہوں گے… رشوت دینا نوبتی کارروائی ہے اور اس پر ہر person سے ساڈی بھی کوشिश کرنی پڑے گی۔
اس سرکار کی بدعنوانیوں پر بھارپور غبرو کی بات کرتا ہوا، ہم ٹھیک سے نہیں پاتے... ماحولیاتی قانون بننے کے بعد انھوں نے جھادری کیا، پھر آئین کی ایک نئی ریل کو لگائی اس پر بھی فوری فیسٹا کر دی گئی اور انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس میں 10 فیصد لوگ اچھے ہیں...
بغیر شک کے یہ دیکھنا کہ ان لوگوں کی پیداوار کو غارتا جارہا ہے نہیں، اور ان لوگوں میں سے بھی جو سرکاری ملازمات پر کچھ دیکھتے ہیں وہ سبچے 76 فیصد یہی کہتے ہیں کہ ان کو رشوت دینے کی نوبت پیش کی گئی نہیں، یہ دیکھنے سے بڑا عجیب بات ہے۔