حکومت کے پاس دکھانے کو کچھ نہیں صرف کہتے ہیں کریں گے، محمد زبیر - Daily Ausaf

خیالات

Well-known member
سورکٹ میں تین سال گزشتہ گروتھ ریٹ نے دیکھا کہ ملک میں سارے شعبے منفی ہو رہے ہیں، سرمایہ کاری نہیں ہوتا تو روزگار پیدا نہیں ہوسکتا، اس لیے یہ کہلا کہ اگر معاشی پالیسی میں बदलाव نہیں ہوتا تو ملک کی بھر پور پیداواری صلاحیتوں کو ظاہر نہیں کر سکتا، اس لیے گزشتہ تین سال کے دوران یہ غلط فہمی نہ ہو سکتی ہے۔

سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے ایک پروگرام میں کہا کہ ملک کی آبادی تین سال میں بڑھ چکی ہے لیکن روزگار پیدا ہونے کی بجائے اس کی تعداد ختم ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ آج کل ملک میں آبادی کے حساب سے روزگار پیدا نہیں ہورہا، انweisٹمنٹ ٹو جی ڈی پی 51 سالہ تاریخ کی سب سے کم ترین سطح پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کل ملک میں معاشی پالیسی کی بدولت روزگار پیدا نہیں ہوتا، اس لیے گزشتہ تین سال کے دوران یہ بات غلط فہمی بھی نہیں ہو سکتی کہ ملک کی معیشت مستحکم ہوئی ہے۔

شہباز شریف نے کہا تھا کہ وہ 6 ماہ میں اس کے بعد معاشی سولچ بڑھا دیتا ہو گا لیکن آج تک چار سال گزر گئے ہیں، ان کا معاشی طریقہ یہ ہے کہ جب وہ پیٹرول پر خرچہ کرتے ہیں تو ملک کی وہ گاڑی چلتی نہیں جس کی ذمہ داری وہ ہیں، اس لیے یہ کہنا کہ وہ معاشی سولچ بڑھا دیتا ہو گا یہ غلط فہمی ہے۔

اس کے علاوہ شہباز شریف نے کہا کہ ان کی پالیسی میں وہ اس بات کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ جب وہ پیٹرول پر خرچہ کرتے ہیں تو ملک میں گاڑی چلائی جاتی نہیں، اس لیے یہ کہنا کہ وہ معاشی سولچ بڑھا دیتا ہو گا یہ غلط فہمی ہے۔

شہباز شریف کے بعد رانا احسان افضل نے بھی ایک پروگرام میں اس معاشی پالیسی پر تبصرہ کیا جس کی وجہ سے ملک میں روزگار پیدا نہیں ہورہا، انہوں نے کہا کہ جب وہ حکومت ملی تو ملک کے دیوالیہ ہونے کی بات کئی بار کہی جارہی تھیں، لیکن ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کی بجائے اس معاشی پالیسی پر چلایا گیا جو روزگار نہیں پیدا کرسکتا ہے۔
 
یہ غلط فہمی تو بہت ہی دھماکیلی ہے 🤦‍♂️، گزشتہ تین سال میں روزگار نہیں پیدا ہوسکتی ہے تو کہاں سے لوگ روزگार تلاش کریں? آبادی کی تعداد بڑھ رہی ہے لیکن اسے روزگار نہیں مل پائے؟ یہ معاشی پالیسی کے بارے میں بات کرنا ہو رہا ہے، سچ کی جان بھرکے چلو
 
یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ملک کی معیشت میں بھی ایسا ہی صورت حال موجود ہے جیسا کہ گزشتہ تین سالوں میں روزگار پیدا نہ ہونے کے بارے میں بات کی جا رہی ہے، اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ملک کی معیشت پر بھی ایسی گریٹھ ریٹ موجود ہے جو روزگار پیدا نہیں کر سکتی۔
 
جب تک آج کل ہوا دکھائی دیتی رہے تو میں سوچتا تھا کہ ملک کی معیشت مستحکم کرنے کے لئے جیسے ہی پریشانیاں آ رہی ہیں وہ حل کر لیے جاتے ہیں، آج میں یہ دیکھتا ہوں کہ اسے حل کرنے کی کوئی بھلکی نہیں تھی…
 
سارے شعبے منفی رہ رہے ہیں اور سرمایہ کاری نہیں ہوتا تو روزگار پیدا نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک گھٹنا کا وقت ہو گیا ہے، میرا خیال ہے کہ ملک کی معاشی پالیسی میں تبدیلावہ موڑ لازمی ہے تاکہ روزگار پیدا ہوسکے اور گھروں کو stabilise kiya ja sake. 🤔
 
جب تک انھوں نے پیٹرول کو یہاں پر خرچ ہونے کی پالیسی کیے رکھی ہے ملک میں روزگار پیدا نہیں ہوسکتا، ایسے میں ان کے لیے یہ بات غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ وہ معاشی سولچ بڑھا دیتے رہیں گے، انھیں اپنے پرانے مینوں کو تبدیل کرنا چاہیے جس سے ملک میں روزگار پیدا ہوسکے
 
تمام لوگ تھوڑا سا سوچ لیتے ہیں یہ وہی پالیسی جو انہیں آج تک روزگار نہ دی رہی ہے، اور اب وہ لوگ ان کی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہیں جنہوں نے اسے اپنی صلاحیت سے نہیں پورا کیا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ وہ لوگ اسی پالیسی پر چلے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں روزگار نہیں ہوسکتی، یہ تو غلط فہمی ہے کہ وہ لوگ اس پالیسی پر تبصرہ کرتے ہیں اور انہوں نے اسے اپنی صلاحیت سے پورا نہیں کیا ہے، یہ تو بے عقلانہ ہے۔
 
میری بھی یہ بات ہمیشہ بتانی چلی آ رہی ہے کہ اس میں سے کوئی بھی شعبہ و نہیں آتا، میرا کہنا ہوگا اور تھوڑا ہی دیر بعد وہ آتا ہے۔ یہ معاشی پالیسی اس لیے نا کام्य ہے کیونکہ وہ لوگوں کو روزگار پیدا کرنے میں دلچسپی نہیں دیتا، آج کل یہ سارا پیسہ صرف غاروں میں لگایا جاتا ہے جو کہ بھلے ہیں نہیں، میرا مشن اس کا خلاصہ بننا ہے اور یہی کیونکہ میری ماں نے بتایا تھا میں بھی ایسا آتا ہوں گا۔
 
یہ تو باہوت ہے کہ لوگ اپنی غلطیاں اور غلط فہمیوں پر چیت کر رہتے ہیں، شہباز شریف کی پالیسی میں اس بات کو ظاہر کرنا کہ ملک میں گاڑی چلائی جاتی نہیں تو وہ تو غلط فہمی ہے۔ آج کل معاشی پالیسی پر بات کرتے Samay karta hai, par uska matlab yeh nahi hai ki vah gair-samajhdaari se karta hai.
 
شہباز شریف کی یہ پالیسی تو بھی کچھ دیر تک لازمی بنائی رہی، جس کے نتیجے میں ملک میں روزگار پیدا ہونے سے بھرے ایک موسم میں اب انھوں نے ان کو ختم کر دیا ہے ،یہ غلط فہمی ہے کہ وہ معاشی سولچ بڑھای گئے، اور جس کی وجہ اس کے بعد ملک میں روزگار پیدا نہیں ہوسکا، ایک لامبی میرا۔
 
یہ بہت غلط فہمی ہے کہ ملک کی معیشت مستحکم ہوئی ہے، یہاں کچھ لوگ صرف کہتے ہیں کہ وہ معاشی سولچ بڑھا دیتے ہیں لیکن وہ اس بات کو ظاہر نہیں کر پاتے کہ ان کی پالیسی کی وجہ سے روزgarہ پیدا نہیں ہوتا، کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ معاشی پالیسی جس کی وجہ سے ملک کی آبادی بڑھ رہی ہے لیکن روزگار پیدا نہیں ہورہا، آج کل ملک میں آبادی کے حساب سے روزگار پیدا نہیں ہورہا، انweisٹمنٹ ٹو جی ڈی پی 51 سالہ تاریخ کی سب سے کم ترین سطح پر ہے، یہ بھی غلط فہمی ہے کہ ملک کی معیشت مستحکم ہوئی ہے۔
 
اس کا مطلب تو بھی کچھ نہیں ہوا، گزشتہ تین سال کی بے کار سرمایہ کاری سے ملک کو کیا فائدہ ہوا؟ روزگار پیدا نہ ہونے کی سہولیات مل کر بھی پوری نہیں ہوئیں، گزشتہ چار سال کی معاشی پالیسی میں کیا نا لازمی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے؟ پتہ چلتا ہے تین سالوں میں ملک کے روزگار کی سہولیات ختم ہوئی ہیں، اب بھی یہ معاشی پالیسی جاری ہے جو روزgars کی بھی نہیں ہوسکتی۔
 
جب تک میں یہ بات سمجھتا تھا کہ ملک کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور روزگار پیدا ہوتا جارہا ہے، لیکن اب یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ یہ سچ نہیں ہے... :(
میں تو سوچتا تھا کہ وہ معاشی پالیسی جس کو شہباز شریف نے اپنائی ہے، اس سے ملک کی معیشت مستحکم ہوگی اور روزگار پیدا ہونگی، لیکن اب یہ بات بھی واضع ہو گئی ہے کہ یہ پالیسی نہیں working...
جس طرح شہباز شریف نے بتایا ہے کہ وہ پیٹرول پر خرچہ کرنے کے بعد ملک کی گاڑی چلتی نہیں، اسی طرح وہ معاشی سولچ بڑھانے کا بات کرتے ہیں، لیکن اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ان کی پالیسی میں اس بات کو جگہ نہیں دے سکتے...
 
اس معاشی بات کو سمجھنا ضروری ہے، آج ملک میں سارے شعبے منفی ہو رہے ہیں، سرمایہ کاری نہیں ہوتا تو روزگار پیدا نہیں ہوسکتا، یہ غلط فہمی نہیں ہے کہ ملک کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے، مگر اس وقت بھی روزگار پیدا نہیں ہوتا تو کیا یہ معاشی پالیسی صحیح ہے؟
 
اس معاشی صورتحال سے انساف نہیں مل رہا۔ بھائیو اگر معیشت میں نئے طریقے اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے تو پیداواری صلاحیتوں کی پوری کوشش کرنے پر روزگار پیدا ہوسکتا ہے۔
 
سورکٹ میں تین سال گزشتہ گروتھ ریٹ نے دیکھا کہ ملک میں سارے شعبے منفی ہو رہے ہیں، یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ روزگار پیدا ہونے کی بجائے اس وقت ملک میں روزگار ختم ہوئے۔ 🤦‍♂️

میں نے بھی گزشتہ تین سالوں میں کہا ہوگا اور آج کہا جوہو گا کہ اس معاشی پالیسی کو چیلنج کرنا ہے، نہ تو یہ پالیسی ملک کی معیشت کو مستحکم کر سکتی ہے اور نہ ہی روزgar پیدا کر سکتی ہے۔

شہباز شریف جیسے شخصوں کو یہ سچائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ آج تک چار سال گزر چکے ہیں، انھیں تو یہ بھی بات مل چکی ہوگی کہ ان کی معاشی پالیسی نے کبھی بھی روزgar پیدا کرنے میں مدد نہیں کی۔

میں اس بات پر ٹھوس یقین رکھتا ہوں کہ آج تک چار سال گزر گئے ہیں تو پورے ملک میں روزگار پیدا نہیں ہوا، انہیں اپنی پالیسی پر تبصرہ کرنا چاہئے اور اس معاشی پالیسی کو چیلنج کرنا چاہیے جو ملک کی معیشت کو مستحکم نہیں کرتے اور روزگاریں پیدا نہیں کر سکتی ہیں۔
 
جی تو یہ کہنا غلط ہے کہ ملک میں روزgarو پیدا نہیں ہورہا، مگر انہیں معلوم نہیں کہ روزgar کیسے پیدا ہوتا ہے؟ اس لیے شہباز شریف کی پالیسی پر تبصرہ کرنے سے بھی فائدہ نہیں ہوسکتا
 
واپس
Top