حکومت نے پیپلزپارٹی کی طرف سے احتجاج پر متنازع آرڈینینس واپس لے لیا - Ummat News

حکمت والا

Well-known member
پاکستان کی حکومت نے پیپلز پारٹی کی طرف سے احتجاج پر متنازعہ اسپیشل اکنامک زونز (ترمیمی) آرڈیننس واپس لے لیا ہے جس کا مشورہ آئینی اسمبلی نے صدر کی منظوری اور دستخطوں کو ضروری بنا دیا تھا۔

اس پالیسی سے ہم آہنگ نہیں ہونے پر اسے واپس لے لیا گیا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس آرڈیننس کے بارے میں دستخط کر دیئے ہیں، جبکہ آئینی اسمبلی نے اس کو منحصر کیا تھا کیونکہ یہ ملکی پارلیمانی تاریخ میں سب سے بڑی حیرت انگیز واقعات میں سے ایک ہے کہ صدر کی منظوری اور دستخطوں کے بغیر آرڈیننس جاری کیا گیا ہے۔

اس نئے تحفظی معاہدے کی وجہ سے حکومت کو آئینی اسمبلی سے استقالت کر دیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کے مین بڈ نے یہ پتہ چلا تھا کہ اس پر بہت سے لوگ احتجاج کریں گے اور وفاقی حکومت کو اپنی برائی کھو چکی ہے۔

اس پالیسی سے ہم آہنگ نہیں ہونے پر اسے واپس لے لیا گیا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس آرڈیننس کے بارے میں دستخط کر دیئے ہیں، جبکہ آئینی اسمبلی نے اس کو منحصر کیا تھا کیونکہ یہ ملکی پارلیمانی تاریخ میں سب سے بڑی حیرت انگیز واقعات میں سے ایک ہے کہ صدر کی منظوری اور دستخطوں کے بغیر آرڈیننس جاری کیا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی نے اسgovernment پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں کہہا گیا ہے کہ وہ آئینی اسمبلی سے استقالت کر گئی ہے اور اس پر احتجاج کرتے رہیں گے۔
 
اس بات کا خیال ہے کہ اگر انہوں نے پہلے سے ہی اس پر احتجاج کرنے کا ارادہ کیا تو اس نتیجے پر آ سکتا تھا کہ وہ اسی طرح کا ایک اور خطرپूर्ण حادثہ ہو جاتا۔
 
اس پالیسی کو ایسا کرنے کا فیصلہ کیاجاتھا جو پاکستان کی حکومت کے لیے آئینی اسمبلی سے استقالت کر دیا جائے، جبکہ اس پر پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا تھا اور اب ان کا یہ فیصلہ ہوگیا ہے کہ وہ اس پالیسی سے استقالت کر گئی ہیں اور فوری طور پر اس کو واپس لے لیاجائیں گے۔

اس میں ایک بڑا سوال ہے کہ آئینی اسمبلی نے اس پالیسی کی منظوری دی تھی اور صدر کی منظوری اور دستخطوں کو ضروری بنا دیتھا، لہٰذا اس پر ایسا فیصلہ کرنا انہیں آج نہیں بھگت سکتا ہے۔

اس آرڈیننس کے بارے میں دستخط کرنے والے وزیراعظم شہباز شریف کی حیثیت کو یقینی بنانے کے لیے انھیں ایسا سولس کرنا پڑتا ہوگیا ہے جو انہیں اس پالیسی سے الگ ہونے سے روک دیتا ہو، لہٰذا اس کے بارے میں یہ فیصلہ ایسا نہیں لگتا جو انھیں آج بھی آئینی اسمبلی سے الگ کرتا ہو۔
 
اس وقت کی بات کروں تو یہ پالیسی کا نتیجہ بھی آگے چلا گیا ہے اور وہ ایک منظم تحفظی معاہدے میں تبدیل ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے اس حکومت کو بھی استقالت کر دیا جا رہا ہے۔

میں یہ سوچتا ہوں کہ اس پالیسی کا منصوبہ بننا ایک حقیقی چیلنج تھا اور اس پر لوگ اپنے دباؤ اور دھمکیوں سے متاثر ہوئے، جو اس کی ناقابل تسخیریت میں رہ گیا ہے.

یہ بات بھی کہنی چاہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اس معاہدے کی واپسی ایک بہت اچھا فیصلہ تھا، جس سے یہ پالیسی ہم آہنگ نہ ہونے پر واپس لے لی گئی تھی، جو اس کی معاشی موقف کو بھی بہتر بنانے میں مدد گیا ہے.

لیکن اسی وقت میں یہ بات یقین دہانی ہے کہ governments کے بہت سے معاشی منصوبوں کی ناقابل تسخیریت ہوتی ہیں، جس کے باعث اس پر لوگ احتجاج کرتے رہتے ہیں اور ایسی صورتحالوں سے بھی نجات پہنچنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
 
اس پالیسی کو واپس لے لیا جانا چاہیے، اس میں سارے لوگ نہیں اچھا سمجھتے تھے، یہ ایک بڑا خوفناک نقصان ہو گا اور یہ ملک کی معیشت پر اثر انداز ہونے کا خطرہ بھی ہے
 
اس پالیسی کو لائے جانے کی بات بہت اچھی ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ وزیراعظم کس نتیجے پر دستخط کرتے ہیں۔ اس پالیسی سے ہم آہنگ نہیں رہے تھے، اور اب واپس لے لیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی بات تو بھی اچھی ہے کہ وہ اپنے احتجاج کو جاری رکھیں گے، لیکن یہ دیکھنا منظم نہیں تھا کہ ایسا سے کون کیسے محنت کر رہا ہوگا۔
 
اس پالیسی کو واپس لینے کا یہ فیصلہ بھی politicization kiya gaya tha, jisse party ki side par aik big political point ban gaya hai. Yeh toh sirf issue ko resolve karne ki koshish hai ya yeh pehle se hi ek big move thi? Aur baat yeh hai ki government ne ye decision kaafi bhi late kardi thi, taki party ko apni reaction de sake. Toh ab to see karenge ki aapki party ne kya strategy laya hai apne protest ke liye aur phir uske result kaun-se honge? 🤔
 
اس پالیسی کی واپسی پر محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے اپنے پہلو کھو دیا ہے 🤔، اس آرڈیننس سے آئینی اسمبلی کو بے یقین رکھ کر ایسا کیا گیا تھا جیسے وہ اچھی طرح جانتے ہوں کہ انہیں اس پر استعمال کرنا ہوا ہے، لیکن وہی نہیں تو اس کی پوری جات بھی لپتی ہیں 🤷‍♂️
 
میں نہیں سمجھ سکتا کے کیا انہوں نے صرف ایک دفعہ بعد بھی اسی پالیسی پر دستخط کر دیئے? یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ وہ خود کو بھرپور طور پر معاشرے سے جڑا نہیں ہوتے۔

میری رائے میں یہ پالیسی کی واپسی ایکGood Decsion نہیں تھی بلکہ اس پر احتجاج کرنے والوں کو بالکل بھی لازمی نہیں ہوا کہ اس پر چلے آئیں، اور یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگ بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے۔
 
اس نئے تحفظی معاہدے کی وجہ سے وہ لوگ جو انہیں دیکھ رہے ہیں کہ یہ सरकار ہی تو تھی۔ اب جب اس پر احتجاج ہو رہا ہے تو وہ بہت خلیط ملوث ہو گئے ہیں. ان لوگوں کے لئے یہ پہلا اور آخری موقع بن سکتا ہے، نہ تو وہ اپنی حکومت کو چیلنج کر رہے ہیں، نہ تو وہ اس پر احتجاج کر رہے ہیں اور نہ ہی یہ ان کی پیار کی ایک سلوک ہو گیا ہے. :))
 
اس پالیسی کی وجہ سے بھارosa ho raha hai.

اس نئے تحفظی معاہدے پر پیپلز پارٹی کا احتجاج کیا ja raha hai, اور یہ پتا چلا کہ ان کا اچھa kya tha.

Government ko apni policiy se baat karne ki zaroorat hai.
 
اس پالیسی کو لینے والا یہ فیصلہ تو واضح طور پر غلط تھا، کیونکہ نہیں یہ پتہ چلا کہ آئینی اسمبلی میں سے جس معاونت کے لیے اسے لینا اچھا ہو گا وہ ہماری طرف سے ضرور ملے گی؟ انٹرنیٹ پر لوگ دیکھ رہے ہیں کہ اس پالیسی کو لینے والے وزیراعظم نے ایسا کیا تاکہ وہ اپنی برائی کھو سکیں، لیکن یہ تو ایک دھمی اچھا کہا جاسکتا ہے۔ اب پھر ان کو یہ پتہ چلا ہو گا کہ وہ اس معاملے میں کیا نہیں کیا، اور وہ پوری طرح سے اپنی تردید کی پکدے ہیں۔
 
اس پالیسی کو واپس لینے کا فیصلہ تو بھی نہیں ہوگا۔ یہ پیپلز پارٹی کی ایک چھوت پھنکی تھی اور اب وہ اس پر اپنی پہچان چھونے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس سے بھی انہیں فیصلہ لینا ہوگا کہ ان کے احتجاج میں جو لوگ شامل ہوتے ہیں وہ کون ہو گا؟ اس سے یہ بات بھی پتا چلا کہ پیپلز پارٹی کے احتجاج کی نہیں تھی بلکہ ان کا ایک سیاسی مظاہرہ تھا جس میں وہ اپنی رائے دیتے رہے گا۔ 🤔
 
اس حکومت نے پیپلز پारٹی کا ایسا پھینک دیا ہے جس سے وہ اپنی برائی کھو چکی ہے۔ اس نئے تحفظی معاہدے پر حکومت کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اپنی پارلیمانی تاریخ میں سب سے بڑی حیرت انگیز واقعات میں سے ایک بن جائیں۔ اور اب وہ لوگ ہم آہنگ نہ ہونے پر اسے واپس لے لیا گیا ہے، یوں کی government کو اپنی برائی کھونے کی جائے گی۔
 
اس پالیسی کی واپسی ایک بڑا قدم ہے 🤔، مگر یہ سوچنا مشکل ہے کہ آئینی اسمبلی نے اس پر دستخط کیسے کر دیئے؟ اور اس پالیسی سے ہم آہنگ نہیں ہونے پر اسے واپس لے لیا گیا، یہ تو دوسرا سوال ہے کہ کیوں؟
 
اسپیشل اکنامک زونز کو واپس لانے کی یہ پالیسی تو چاہے جوش میں ہو، چاہے احتجاج ہو رہا ہو، اس کا انصاف ہی نہیں ہوا تھا۔ سچ کی بات یہ ہے کہ آئینی اسمبلی نے بھی اپنا موقف چھپایا ہے، جس میں کہ کہنے میں انہیں مہربانی سے کہنا چاہئے کہ وہ اس پالیسی سے بھاگتے ہوئے تھے، کیونکہ یہ ملکی تاریخ میں سب سے بڑی حیرت انگیز باتوں میں سے ایک ہے جب ادارے اپنے ہی کے خلاف کام کر رہے تھے۔
 
اس پالیسی کی وجہ سے بہت سارے لوگ نا خوش ہیں، لہٰذا میں اسے واپس لے لیا گیا ہے۔ مجھے یہ اچھی بات سمجھی بھی آئی کہ یہ ملکی پارلیمانی تاریخ میں سب سے بڑا حیرت انگیز واقعہ ہے جب صدر کی منظوری اور دستخطوں کے بغیر آرڈیننس جاری ہوتا ہے۔ ابھی یہ کہتے تھے کہ اس پالیسی سے ہم آہنگ نہیں ہونے پر اسے واپس لے لیا گیا تھا۔

یہ بات بھی اچھی ہوگئی کہ پیپلز پارٹی نے政府 پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے، اور وہ آئینی اسمبلی سے استقالت کر گئی ہے۔ مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ ان کی بات بالکل درست ہوگی۔

اس معاملے میں پتہ چلا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کو اپنی برائی کھو چکی ہے، اور ابھی یہ کہتے تھے کہ اس پر بہت سے لوگ احتجاج کریں گے۔
 
اس gobierno کی policy ko kyu khol do? 🤔 yeh to ek aisi cheez hai jis par sabhi se mulaqaat karke bhi unhen samajh me nahi aaya. logon ke liye yeh to ek badi problem hai, jo ki shayad wo government pehli baar dekha hai. ab ye to kuch aur kya karega? 🤷‍♂️
 
اس بات کو پوراً سمجھنا مشکل ہے کہ حکومت نے یہ آرڈیننس واپس لے لیا کیسے? ایسی صورت حال میں پیدل آندھیوں کی دلیلاں تو اتنی ہیں کہ جب سے یہ بات سامنے اٹھی کہ اس آرڈیننس پر حکومت نے بھرپور استعمال کیا تو سمجھنا مشکل ہوتا تھا کہ وہ کیوں کر رہی تھی؟ اب جب یہ آئینی اسمبلی سے استقالت کر لی گئی ہے تو اسے ایک نئی دھار ہوا ہے، اور یہ بھی کہنے کو کافی تھا کہ وفاقی حکومت کو اپنی برائی کھو چکی ہے.
 
واپس
Top