سکولوں سے باہر 25 ملین بچے: حکومت کی تعلیمی پالیسی نہیں بلکہ عوام کی بوجھ ہے
پاکستان میں تعلیم پر ہونے والا اخراجات گھر سے باہر 500 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جو کہ حکومت کی بھرپور سرگرمیوں کے باوجود اس سے زیادہ بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ملک میں تعلیم پر 280 ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں جبکہ حکومتی سرمایہ کاری صرف 220 ارب روپے تک ہی پہنچ گئی ہے، یعنی تعلیم کا 56 فیصد بوجھ عوام پر 44 فیصد ریاست کی جانب سے عائد ہوتا ہے۔
نجی اسکولوں کی فیسوں پر والدین 1310 ارب روپے، کوچنگ اور ٹیوشن پر 613 ارب روپے اور دیگر ذاتی تعلیمی اخراجات پر 878 ارب روپے خرچ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بوجھ اسکولوں میں جانے والے معاشرتی اور سماجی ماحول سے ملتا ہے جہاں تعلیم کی بنیاد ہی وہی ہوتی ہے جو اسکولوں میں دی جاتی ہے۔
ایک پالیسی مکالمے میں آئی سی اے پی ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان ہمایوں نے کہا، "جب گھریلو اخراجات تعلیم میں حکومتی سرمایہ کاری سے زیادہ ہوتے ہیں تو یہ ایکویٹی کے سنگین بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے، نہ صرف اخراجات کو کم کیا جائے بلکہ تعلیمی نظام کو بھی مضبوط کیا جائے، وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے اور مساوات کا تحفظ کیا جائے"۔
عالمی بینک کی سینئر ایجوکیشن سپیشلسٹ عزہ فرخ نے کہا، "پرائیویٹ سکولوں کا پھیلاؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ خاندان حکومتی نظام سے باہر نکلنے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ ان کی اچھائی کی وجہ سے وہ یہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی طاقت کو حکومت کی سرکردگی میں استعمال نہ کریں بلکہ خود کا مہیا بنائیں"۔
ICAPS کے پروگرامز کے ڈائریکٹر احمد علی نے کہا، "نجی اخراجات میں اضافہ حکومت کے لیے ایک واضح پالیسی پیغام ہے۔ اس رجحان کا تقاضا ہے کہ عوامی تعلیمی نظام کو مضبوط کیا جائے، وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے اور مساوات کا تحفظ کیا جائے، خاص طور پر لڑکیوں اور پسماندہ گروہوں کے لیے"۔
پاکستان میں تعلیم پر ہونے والا اخراجات گھر سے باہر 500 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جو کہ حکومت کی بھرپور سرگرمیوں کے باوجود اس سے زیادہ بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ملک میں تعلیم پر 280 ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں جبکہ حکومتی سرمایہ کاری صرف 220 ارب روپے تک ہی پہنچ گئی ہے، یعنی تعلیم کا 56 فیصد بوجھ عوام پر 44 فیصد ریاست کی جانب سے عائد ہوتا ہے۔
نجی اسکولوں کی فیسوں پر والدین 1310 ارب روپے، کوچنگ اور ٹیوشن پر 613 ارب روپے اور دیگر ذاتی تعلیمی اخراجات پر 878 ارب روپے خرچ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بوجھ اسکولوں میں جانے والے معاشرتی اور سماجی ماحول سے ملتا ہے جہاں تعلیم کی بنیاد ہی وہی ہوتی ہے جو اسکولوں میں دی جاتی ہے۔
ایک پالیسی مکالمے میں آئی سی اے پی ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان ہمایوں نے کہا، "جب گھریلو اخراجات تعلیم میں حکومتی سرمایہ کاری سے زیادہ ہوتے ہیں تو یہ ایکویٹی کے سنگین بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے، نہ صرف اخراجات کو کم کیا جائے بلکہ تعلیمی نظام کو بھی مضبوط کیا جائے، وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے اور مساوات کا تحفظ کیا جائے"۔
عالمی بینک کی سینئر ایجوکیشن سپیشلسٹ عزہ فرخ نے کہا، "پرائیویٹ سکولوں کا پھیلاؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ خاندان حکومتی نظام سے باہر نکلنے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ ان کی اچھائی کی وجہ سے وہ یہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی طاقت کو حکومت کی سرکردگی میں استعمال نہ کریں بلکہ خود کا مہیا بنائیں"۔
ICAPS کے پروگرامز کے ڈائریکٹر احمد علی نے کہا، "نجی اخراجات میں اضافہ حکومت کے لیے ایک واضح پالیسی پیغام ہے۔ اس رجحان کا تقاضا ہے کہ عوامی تعلیمی نظام کو مضبوط کیا جائے، وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے اور مساوات کا تحفظ کیا جائے، خاص طور پر لڑکیوں اور پسماندہ گروہوں کے لیے"۔