جمہوریت کی تلاش میں ہمیشہ ایک ساتھ رہتے ہیں، لیکن یہ سوال ہمیں دیر سے پوچھتا رہا ہے کہ اسی جمہوریت کی تلاش میں کیا ہم ان سب لوگوں کو چھوڑ کر گئے ہیں جو اس سے ملازمت یا فائدہ حاصل کرنے میں دلچسپ ہوتے ہیں؟
جب تک ہم یہ سمجھتے رہوں گے کہ جمہوریت کی صرف ووٹ ڈالنے اور حکومت کی تشکیل کا عمل ہے تو اس سے جمہوری نظام کی بنیاد پر ہمیں کچھ نہ ملتا ہے۔ یہ دیکھنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو جو اس سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ جمہوریت کی حقیقت کیسے سمجھ سکتے ہیں یا یہ معاشرے میں ان کا انحصار ایک طاقت ور اشرافیہ کے کنٹرول پر ہوتا رہتا ہے؟
سفید گھاس کی دیکھ بھال کرتے ہوئے، جو ہم کو ایک ساتھ لے آتا ہے وہی ہم میں ہے، ہمارے اس گھاس کو پکڑنا کس کا کام ہے؟ یہ دیکھنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ جب ہم اپنے مفادات یا ذاتی ترجیحات پر مبنی گھاس کو رکھتے ہیں تو وہ کسی اور کی پیروں میں چل دیتا ہے۔
جمہوریت کا سفر ایسا ہوتا ہے جیسے بے پناہ گھاس کو رکھنے والے لوگ اچانک ہی اپنی طاقت سے اسے پکڑ لیتے ہیں، لیکن ان کا یہ کام کسی بھی وقت اس گھاس سے باہر چلا گیا ہوتا ہے جب انہیں اچانک ایک نئا غور آتا ہے، جیسے وہ اپنے پرانے گھاس کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ سے کچھ نہ کچھ آدھم اور ماحول کا نقصان ہوتا ہے اور وہ اپنی طاقت سے اس کو چھوڑ کر باہر بھاگ جاتے ہیں۔
جمہوریت اور اس کی گھاس کو پکڑنے والے لوگوں کے انحصار کو سمجھنا بھی مشکل ہوتا ہے، ایسا لگتا ہے جیسے جمہوریت سے جڑے لوگ وہی ہیں جنہیں یہ غور اٹھنے کا موقع نہیں ملتا، ان کی پیروں میں گھاس پھیلنے کا کام ان سب کو کرتی ہے جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
موروثی یا خاندانی اشرافیہ کا نظام یا نجی سطح کی ملکیتوں کی بنیاد پر چلنے والی کارپوریٹ جمہوریت نے یہ راز ایک دفعہ سچ کیا ہے۔
جمہوریت اور عوام کی بالادستی کے لیے، بھرپور مخالفت و قیادت کی ضرورت ہے جس سے یہ سمجھا جا سکے کہ اسی نظام پر بھروسہ کرکے آگے چلنا نہیں چلا سکتا۔
وہ لوگ جو دوسرے کو اس لیے جھٹکے کی وجہ سے بدنامی کرتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت یا ذاتی ترجیحات کو اپنا لینا چاہتے ہیں، ان کی واضح تعرفیں جہاں سے اچانک ایسی نئی پہچان آتی ہے کہ وہ اپنی طاقت کو اس سے چھوڑ کر باہر بھاگتے ہیں۔
اس لاتالہ خیل میں لوگ جو جمہوریت کا شکار ہو گئے، ان کی تعریفیں بدلنے والے ہیں، کیونکہ وہ اپنی طاقت سے اسے چھوڑ کر باہر بھاگ جاتے ہیں اور نئی پہچان کا ایک نئا نام اختیار کرتے ہیں، لیکن ان کے جذبات اور اس سے چلنے والی طاقت کو سمجھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
بڑی سی تعداد میں لوگ یہ نئا نام اختیار کر لیتے ہیں، لیکن وہی ہی رہتے ہیں جو پہلے سے رہتے تھے اور وہی ہی نئی پہچان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بڑھا لیتے ہیں۔
جمہوریت کے نام پر طاقت ور سیاسی اشرافیہ کی بدلی جڑی ہوئی ہے، جو واضح طور پر ووٹوں سے نا گزشتہ نا انفرادی فیصلے پر مبنی ہے۔
اس وقت پاکستان اپنے ایسے ڈرامے کی کہانی کے طور پر موجود ہے جس کا اسکرپٹ ہمیشہ سے ایک ہی جیسا ہے اور کچھ تبدیلیوں یا ترامیم کے ساتھ بس اس کے کردار تبدیل کردیے جاتے ہیں۔
جمہوریت کی تلاش میں اس طرح کی ہمیشہ سے موجود تہذیب کو دیکھ کر، یہ واضح نہیں ہوتا کہ جمہوری معاشرے کو قائم کرنے کے لیے اسے کیسے عمل میں لانا پڑے گا اور یہ کس طرح ایک جمہوری نظام کو بنایا جا سکتا ہے جس میں عوام کی بالادستی اور اس سے منسلک دلیل کو شامل کیا جا سکے۔
یہ بھی یقین رکھنا مشکل ہوتا ہے کہ جو لوگ جمہوریت اور جمہوری نظام کی جھلنے والے ہوں، ان کو جمہوریت سے متنفر نہیں کیے گئے بلکہ وہی بھاگتے ہیں اور ان کی جگہ اچانک ایسی نئی پہچان آتی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید بڑھا لیتے ہیں۔
جسے ہم نے سمجھایا کہ جمہوریت کے ساتھ ان کے تعلقات اس طرح ہوتے ہیں، اسی طرح سے یہ بھی محض تصنیف کے طور پر نظر آتی ہے۔
وہ لوگ جو اس کی تلاش میں سرگردہ ہیں، ان کی جمہوریت پسندی دیکھ کر وہ سب اچانک ایسی نئی پہچان کا حقدار ہوتے ہیں کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید بڑھا لیتے ہیں اور ان کی موجودہ جمہوری کہانی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
اس لیے ایک ساتھ رہنے والوں کو یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ ان کی جمہوریت پسندی دیکھ کر وہ اچانک ایسی نئی پہچان کا حقدار ہوتے ہیں، لیکن وہی ہی رہتے ہیں جو پہلے سے رہتے تھے اور ان کی جگہ اچانک ایسی نئی پہچان آتی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید بڑھا لیتے ہیں۔
پاکستان میں جمہوریت کی تلاش میں، یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس نظام کو قائم کرنے کے لیے اسے کیسے عمل میں لانا پڑے گا اور یہ کس طرح ایک جمہوری نظام کو بنایا جا سکتا ہے جس میں عوام کی بالادستی اور اس سے منسلک دلیل کو شامل کیا جا سکے۔
جمہوریت کا یہ سفر ایک لاتالہ خیل ہے، اس میں لوگ جو جمہوریت کی تلاش میں سرگردہ ہیں، ان کی تعریفیں بدلنے والے ہیں اور ان کو اس سے چھوڑ کر نئی پہچان کا حقدار سمجھایا جاتا ہے۔
جب تک ہم یہ سمجھتے رہوں گے کہ جمہوریت کی صرف ووٹ ڈالنے اور حکومت کی تشکیل کا عمل ہے تو اس سے جمہوری نظام کی بنیاد پر ہمیں کچھ نہ ملتا ہے۔ یہ دیکھنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو جو اس سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ جمہوریت کی حقیقت کیسے سمجھ سکتے ہیں یا یہ معاشرے میں ان کا انحصار ایک طاقت ور اشرافیہ کے کنٹرول پر ہوتا رہتا ہے؟
سفید گھاس کی دیکھ بھال کرتے ہوئے، جو ہم کو ایک ساتھ لے آتا ہے وہی ہم میں ہے، ہمارے اس گھاس کو پکڑنا کس کا کام ہے؟ یہ دیکھنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ جب ہم اپنے مفادات یا ذاتی ترجیحات پر مبنی گھاس کو رکھتے ہیں تو وہ کسی اور کی پیروں میں چل دیتا ہے۔
جمہوریت کا سفر ایسا ہوتا ہے جیسے بے پناہ گھاس کو رکھنے والے لوگ اچانک ہی اپنی طاقت سے اسے پکڑ لیتے ہیں، لیکن ان کا یہ کام کسی بھی وقت اس گھاس سے باہر چلا گیا ہوتا ہے جب انہیں اچانک ایک نئا غور آتا ہے، جیسے وہ اپنے پرانے گھاس کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ سے کچھ نہ کچھ آدھم اور ماحول کا نقصان ہوتا ہے اور وہ اپنی طاقت سے اس کو چھوڑ کر باہر بھاگ جاتے ہیں۔
جمہوریت اور اس کی گھاس کو پکڑنے والے لوگوں کے انحصار کو سمجھنا بھی مشکل ہوتا ہے، ایسا لگتا ہے جیسے جمہوریت سے جڑے لوگ وہی ہیں جنہیں یہ غور اٹھنے کا موقع نہیں ملتا، ان کی پیروں میں گھاس پھیلنے کا کام ان سب کو کرتی ہے جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
موروثی یا خاندانی اشرافیہ کا نظام یا نجی سطح کی ملکیتوں کی بنیاد پر چلنے والی کارپوریٹ جمہوریت نے یہ راز ایک دفعہ سچ کیا ہے۔
جمہوریت اور عوام کی بالادستی کے لیے، بھرپور مخالفت و قیادت کی ضرورت ہے جس سے یہ سمجھا جا سکے کہ اسی نظام پر بھروسہ کرکے آگے چلنا نہیں چلا سکتا۔
وہ لوگ جو دوسرے کو اس لیے جھٹکے کی وجہ سے بدنامی کرتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت یا ذاتی ترجیحات کو اپنا لینا چاہتے ہیں، ان کی واضح تعرفیں جہاں سے اچانک ایسی نئی پہچان آتی ہے کہ وہ اپنی طاقت کو اس سے چھوڑ کر باہر بھاگتے ہیں۔
اس لاتالہ خیل میں لوگ جو جمہوریت کا شکار ہو گئے، ان کی تعریفیں بدلنے والے ہیں، کیونکہ وہ اپنی طاقت سے اسے چھوڑ کر باہر بھاگ جاتے ہیں اور نئی پہچان کا ایک نئا نام اختیار کرتے ہیں، لیکن ان کے جذبات اور اس سے چلنے والی طاقت کو سمجھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
بڑی سی تعداد میں لوگ یہ نئا نام اختیار کر لیتے ہیں، لیکن وہی ہی رہتے ہیں جو پہلے سے رہتے تھے اور وہی ہی نئی پہچان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بڑھا لیتے ہیں۔
جمہوریت کے نام پر طاقت ور سیاسی اشرافیہ کی بدلی جڑی ہوئی ہے، جو واضح طور پر ووٹوں سے نا گزشتہ نا انفرادی فیصلے پر مبنی ہے۔
اس وقت پاکستان اپنے ایسے ڈرامے کی کہانی کے طور پر موجود ہے جس کا اسکرپٹ ہمیشہ سے ایک ہی جیسا ہے اور کچھ تبدیلیوں یا ترامیم کے ساتھ بس اس کے کردار تبدیل کردیے جاتے ہیں۔
جمہوریت کی تلاش میں اس طرح کی ہمیشہ سے موجود تہذیب کو دیکھ کر، یہ واضح نہیں ہوتا کہ جمہوری معاشرے کو قائم کرنے کے لیے اسے کیسے عمل میں لانا پڑے گا اور یہ کس طرح ایک جمہوری نظام کو بنایا جا سکتا ہے جس میں عوام کی بالادستی اور اس سے منسلک دلیل کو شامل کیا جا سکے۔
یہ بھی یقین رکھنا مشکل ہوتا ہے کہ جو لوگ جمہوریت اور جمہوری نظام کی جھلنے والے ہوں، ان کو جمہوریت سے متنفر نہیں کیے گئے بلکہ وہی بھاگتے ہیں اور ان کی جگہ اچانک ایسی نئی پہچان آتی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید بڑھا لیتے ہیں۔
جسے ہم نے سمجھایا کہ جمہوریت کے ساتھ ان کے تعلقات اس طرح ہوتے ہیں، اسی طرح سے یہ بھی محض تصنیف کے طور پر نظر آتی ہے۔
وہ لوگ جو اس کی تلاش میں سرگردہ ہیں، ان کی جمہوریت پسندی دیکھ کر وہ سب اچانک ایسی نئی پہچان کا حقدار ہوتے ہیں کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید بڑھا لیتے ہیں اور ان کی موجودہ جمہوری کہانی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
اس لیے ایک ساتھ رہنے والوں کو یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ ان کی جمہوریت پسندی دیکھ کر وہ اچانک ایسی نئی پہچان کا حقدار ہوتے ہیں، لیکن وہی ہی رہتے ہیں جو پہلے سے رہتے تھے اور ان کی جگہ اچانک ایسی نئی پہچان آتی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید بڑھا لیتے ہیں۔
پاکستان میں جمہوریت کی تلاش میں، یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس نظام کو قائم کرنے کے لیے اسے کیسے عمل میں لانا پڑے گا اور یہ کس طرح ایک جمہوری نظام کو بنایا جا سکتا ہے جس میں عوام کی بالادستی اور اس سے منسلک دلیل کو شامل کیا جا سکے۔
جمہوریت کا یہ سفر ایک لاتالہ خیل ہے، اس میں لوگ جو جمہوریت کی تلاش میں سرگردہ ہیں، ان کی تعریفیں بدلنے والے ہیں اور ان کو اس سے چھوڑ کر نئی پہچان کا حقدار سمجھایا جاتا ہے۔