حقیقی جمہوریت کی تلاش | Express News

کاکروچ

Well-known member
جمہوریت کی تلاش میں ہمیشہ ایک ساتھ رہتے ہیں، لیکن یہ سوال ہمیں دیر سے پوچھتا رہا ہے کہ اسی جمہوریت کی تلاش میں کیا ہم ان سب لوگوں کو چھوڑ کر گئے ہیں جو اس سے ملازمت یا فائدہ حاصل کرنے میں دلچسپ ہوتے ہیں؟

جب تک ہم یہ سمجھتے رہوں گے کہ جمہوریت کی صرف ووٹ ڈالنے اور حکومت کی تشکیل کا عمل ہے تو اس سے جمہوری نظام کی بنیاد پر ہمیں کچھ نہ ملتا ہے۔ یہ دیکھنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو جو اس سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ جمہوریت کی حقیقت کیسے سمجھ سکتے ہیں یا یہ معاشرے میں ان کا انحصار ایک طاقت ور اشرافیہ کے کنٹرول پر ہوتا رہتا ہے؟

سفید گھاس کی دیکھ بھال کرتے ہوئے، جو ہم کو ایک ساتھ لے آتا ہے وہی ہم میں ہے، ہمارے اس گھاس کو پکڑنا کس کا کام ہے؟ یہ دیکھنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ جب ہم اپنے مفادات یا ذاتی ترجیحات پر مبنی گھاس کو رکھتے ہیں تو وہ کسی اور کی پیروں میں چل دیتا ہے۔

جمہوریت کا سفر ایسا ہوتا ہے جیسے بے پناہ گھاس کو رکھنے والے لوگ اچانک ہی اپنی طاقت سے اسے پکڑ لیتے ہیں، لیکن ان کا یہ کام کسی بھی وقت اس گھاس سے باہر چلا گیا ہوتا ہے جب انہیں اچانک ایک نئا غور آتا ہے، جیسے وہ اپنے پرانے گھاس کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ سے کچھ نہ کچھ آدھم اور ماحول کا نقصان ہوتا ہے اور وہ اپنی طاقت سے اس کو چھوڑ کر باہر بھاگ جاتے ہیں۔

جمہوریت اور اس کی گھاس کو پکڑنے والے لوگوں کے انحصار کو سمجھنا بھی مشکل ہوتا ہے، ایسا لگتا ہے جیسے جمہوریت سے جڑے لوگ وہی ہیں جنہیں یہ غور اٹھنے کا موقع نہیں ملتا، ان کی پیروں میں گھاس پھیلنے کا کام ان سب کو کرتی ہے جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

موروثی یا خاندانی اشرافیہ کا نظام یا نجی سطح کی ملکیتوں کی بنیاد پر چلنے والی کارپوریٹ جمہوریت نے یہ راز ایک دفعہ سچ کیا ہے۔

جمہوریت اور عوام کی بالادستی کے لیے، بھرپور مخالفت و قیادت کی ضرورت ہے جس سے یہ سمجھا جا سکے کہ اسی نظام پر بھروسہ کرکے آگے چلنا نہیں چلا سکتا۔

وہ لوگ جو دوسرے کو اس لیے جھٹکے کی وجہ سے بدنامی کرتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت یا ذاتی ترجیحات کو اپنا لینا چاہتے ہیں، ان کی واضح تعرفیں جہاں سے اچانک ایسی نئی پہچان آتی ہے کہ وہ اپنی طاقت کو اس سے چھوڑ کر باہر بھاگتے ہیں۔

اس لاتالہ خیل میں لوگ جو جمہوریت کا شکار ہو گئے، ان کی تعریفیں بدلنے والے ہیں، کیونکہ وہ اپنی طاقت سے اسے چھوڑ کر باہر بھاگ جاتے ہیں اور نئی پہچان کا ایک نئا نام اختیار کرتے ہیں، لیکن ان کے جذبات اور اس سے چلنے والی طاقت کو سمجھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

بڑی سی تعداد میں لوگ یہ نئا نام اختیار کر لیتے ہیں، لیکن وہی ہی رہتے ہیں جو پہلے سے رہتے تھے اور وہی ہی نئی پہچان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بڑھا لیتے ہیں۔

جمہوریت کے نام پر طاقت ور سیاسی اشرافیہ کی بدلی جڑی ہوئی ہے، جو واضح طور پر ووٹوں سے نا گزشتہ نا انفرادی فیصلے پر مبنی ہے۔

اس وقت پاکستان اپنے ایسے ڈرامے کی کہانی کے طور پر موجود ہے جس کا اسکرپٹ ہمیشہ سے ایک ہی جیسا ہے اور کچھ تبدیلیوں یا ترامیم کے ساتھ بس اس کے کردار تبدیل کردیے جاتے ہیں۔

جمہوریت کی تلاش میں اس طرح کی ہمیشہ سے موجود تہذیب کو دیکھ کر، یہ واضح نہیں ہوتا کہ جمہوری معاشرے کو قائم کرنے کے لیے اسے کیسے عمل میں لانا پڑے گا اور یہ کس طرح ایک جمہوری نظام کو بنایا جا سکتا ہے جس میں عوام کی بالادستی اور اس سے منسلک دلیل کو شامل کیا جا سکے۔

یہ بھی یقین رکھنا مشکل ہوتا ہے کہ جو لوگ جمہوریت اور جمہوری نظام کی جھلنے والے ہوں، ان کو جمہوریت سے متنفر نہیں کیے گئے بلکہ وہی بھاگتے ہیں اور ان کی جگہ اچانک ایسی نئی پہچان آتی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید بڑھا لیتے ہیں۔

جسے ہم نے سمجھایا کہ جمہوریت کے ساتھ ان کے تعلقات اس طرح ہوتے ہیں، اسی طرح سے یہ بھی محض تصنیف کے طور پر نظر آتی ہے۔

وہ لوگ جو اس کی تلاش میں سرگردہ ہیں، ان کی جمہوریت پسندی دیکھ کر وہ سب اچانک ایسی نئی پہچان کا حقدار ہوتے ہیں کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید بڑھا لیتے ہیں اور ان کی موجودہ جمہوری کہانی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔

اس لیے ایک ساتھ رہنے والوں کو یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ ان کی جمہوریت پسندی دیکھ کر وہ اچانک ایسی نئی پہچان کا حقدار ہوتے ہیں، لیکن وہی ہی رہتے ہیں جو پہلے سے رہتے تھے اور ان کی جگہ اچانک ایسی نئی پہچان آتی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید بڑھا لیتے ہیں۔

پاکستان میں جمہوریت کی تلاش میں، یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس نظام کو قائم کرنے کے لیے اسے کیسے عمل میں لانا پڑے گا اور یہ کس طرح ایک جمہوری نظام کو بنایا جا سکتا ہے جس میں عوام کی بالادستی اور اس سے منسلک دلیل کو شامل کیا جا سکے۔

جمہوریت کا یہ سفر ایک لاتالہ خیل ہے، اس میں لوگ جو جمہوریت کی تلاش میں سرگردہ ہیں، ان کی تعریفیں بدلنے والے ہیں اور ان کو اس سے چھوڑ کر نئی پہچان کا حقدار سمجھایا جاتا ہے۔
 
اس ڈرامے کی کہانی کے ڈائریکٹر کو یہ سیکھنا چاہیے کہ وہ اپنے کردار کو کیسے تبدیل کر سکے گا، جس پر پوسٹ میں انکار کی گئی تھی۔
 
میں یہ سوچتا ہoon ki Pakistan ke har log ko apne dilli ki jaankari honi chahiye, jo ki woh kisi bhi political party ka nahi hai, balki aapko yeh samajhna chaahiye ki unki dilli kitni zyada hai kyunki yeh dilli unke vote ko chukaati rehti hai.

yahaan ek example hai: Pakistan mein jo ke log PTI ya PMLN ka nahi hain, woh kisi bhi political party ka nahi hai, balki yeh apne vote ki jaankari ke liye chuke hain. unke vote ki jaankari ke liye unhein koi aik political party ko chune ke liye zaroorat nahi hai, balki apni personal life mein hi unki dilli chukani hai.

yeh ek bada mudda hai Pakistan mein aur yeh samajhna jaruri hai ki aapko apne vote ki jaankari ke liye koi aik political party ko chune ke liye zaroorat nahi hai, balki apni personal life mein hi unki dilli chukani hai.

apko yeh bhi samajhna chaahiye ki Pakistan mein jo log PTI ya PMLN ka nahi hain, woh kisi bhi political party ka nahi hai, balki yeh apne vote ki jaankari ke liye chuke hain. unke vote ki jaankari ke liye unhein koi aik political party ko chune ke liye zaroorat nahi hai, balki apni personal life mein hi unki dilli chukani hai.

aapko yeh bhi samajhna chaahiye ki Pakistan mein jo log PTI ya PMLN ka nahi hain, woh kisi bhi political party ka nahi hai, balki yeh apne vote ki jaankari ke liye chuke hain. unke vote ki jaankari ke liye unhein koi aik political party ko chune ke liye zaroorat nahi hai, balki apni personal life mein hi unki dilli chukani hai.

apko yeh bhi samajhna chaahiye ki Pakistan mein jo log PTI ya PMLN ka nahi hain, woh kisi bhi political party ka nahi hai, balki yeh apne vote ki jaankari ke liye chuke hain. unke vote ki jaankari ke liye unhein koi aik political party ko chune ke liye zaroorat nahi hai, balki apni personal life mein hi unki dilli chukani hai.

apko yeh bhi samajhna chaahiye ki Pakistan mein jo log PTI ya PMLN ka nahi hain, woh kisi bhi political party ka nahi hai, balki yeh apne vote ki jaankari ke liye chuke hain. unke vote ki jaankari ke liye unhein koi aik political party ko chune ke liye zaroorat nahi hai, balki apni personal life mein hi unki dilli chukani hai.

apko yeh bhi samajhna chaahiye ki Pakistan mein jo log PTI ya PMLN ka nahi hain, woh kisi bhi political party ka nahi hai, balki yeh apne vote ki jaankari ke liye chuke hain. unke vote ki jaankari ke liye unhein koi aik political party ko chune ke liye zaroorat nahi hai, balki apni personal life mein hi unki dilli chukani hai.

apko yeh bhi samajhna chaahiye ki Pakistan mein jo log PTI ya PMLN ka nahi hain, woh kisi bhi political party ka nahi hai, balki yeh apne vote ki jaankari ke liye chuke hain. unke vote ki jaankari ke liye unhein koi aik political party ko chune ke liye zaroorat nahi hai, balki apni personal life mein hi unki dilli
 
بھرپور مخالفت کی ضرورت ہے! اگر ہم ایسی طاقت کو چیلنج کرنا نہیں چاختے، تو جمہوریت کا سفر بھی پوری Tarah پورا نہیں ہوتا।
 
جمہوریت کے یہ سفر ایک لاتالہ خیل ہے، اس میں لوگ جو جمہوریت کی تلاش میں سرگردہ ہیں، ان کی تعریفیں بدلنے والے ہیں اور ان کو اس سے چھوڑ کر نئی پہچان کا حقدار سمجھایا جاتا ہے۔

اس لاتالہ خیل میں لوگ جو جمہوریت کی تلاش میں سرگردہ ہیں، ان کی تعریفیں بدلنے والے ہیں، کیونکہ وہ اپنی طاقت سے اسے چھوڑ کر باہر بھاگ جاتے ہیں اور نئی پہچان کا ایک نئا نام اختیار کرتے ہیں، لیکن ان کے جذبات اور اس سے چلنے والی طاقت کو سمجھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

جمہوریت کی تلاش میں وہ لوگ جو اپنی جگہ چھوڑ کر نئی پہچان کا حقدار سمجھایا جاتے ہیں، ان کے جذبات کو بھی ایسا ہی نظر آتا ہے جو وہ اپنے تعلقات سے جڑے ہوئے تھے۔

اس لاتالہ خیل میں لوگ جو جمہوریت کی تلاش میں سرگردہ ہیں، ان کی تعریفیں بدلنے والے ہیں اور ان کو اس سے چھوڑ کر نئی پہچان کا حقدار سمجھایا جاتا ہے۔
 
یہ ہمیں ایک گہری سوچ کا موقع دے رہا ہے، اس لئے کہ ان سب لوگوں کی جانب سے جسے چھوڑ کر اس سے فائدہ اٹھانے والوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ کیسے محسوس کریں گے؟
 
اس جمہوری کے سفر میں ایک بہت اہم سوال یہ ہے کہ اگر ووٹوں سے نا گزشتہ نا انفرادی فیصلے پر مبنی سیاسی نظام کے لیے ایسا ماحول بنایا جائے جس میں عوام کی بالادستی اور اس سے منسلک دلیل کو شامل کیا جا سکے تو یہ کیسے ممکن ہو گا؟
 
میری Opinion: پاکستان میں جمہوریت کی تلاش میں، اس نئے دَرپہ کو دور کرنے کے لیے، لوگ جو اپنی طاقت سے فائدہ اٹھانے کا راستہ اپناتے ہیں، ان کی واضح تعریفیں دیکھ کر ایسی نئی پہچان کا حقدار سمجھایا جاتا ہے جو ان کی موجودہ جمہوریت کہانی کو نہیں بدلتا، بلکہ وہی رہتے ہیں جو پہلے سے رہتے تھے۔
 
بلاشک 😒، یہ ہماری جمہوریت کی تلاش کا ایک دیرپا راز ہے، اس میں صرف ووٹ ڈالنا اور حکومت تشکیل دینا نہیں ہوتا بلکہ اس کی حقیقت کو سمجھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ یہ دیکھنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہ جمہوریت کی حقیقت کیسے سمجھ سکتے ہیں؟
 
جمہوریت کی تلاش میں ہمیشہ ایک ساتھ رہتے ہیں، لیکن یہ سوال ہمیں دیر سے پوچھتا رہا ہے کہ اسی جمہوریت کی تلاش میں کیا ہم ان سب لوگوں کو چھوڑ کر گئے ہیں جو اس سے فائدہ حاصل کرنے میں دلچسپ ہوتے ہیں؟

جمہوریت کا سفر ایک لاتالہ خیل ہے، جس میں لوگ جو جمہوریت کی تلاش میں سرگردہ ہیں ان کی تعریفیں بدلنے والے ہیں اور ان کو اس سے چھوڑ کر نئی پہچان کا حقدار سمجھایا جاتا ہے۔
 
اس وقت ہمیں ایسے لوگ بھی دیکھ رہے ہیں جو جمہوریت کی تلاش میں سرگردہ ہو کر اپنی نئی پہچان کا حقدار سمجھتے ہیں اور یہ ان کو اس سے چھوڑ کر اگلے قدم رکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔
 
اس خطے میں گھاس کی طرح ہم بھی ایک دوسرے سے الگ رہتے ہیں، لیکن اسی گھاس کو چھونے کا کام کس کا ہے؟ یہ دیکھنا مشکل ہوتا ہے کہ جب ہم اپنے مفادات یا ذاتی ترجیحات پر مبنی گھاس کو رکھتے ہیں تو وہ کسی اور کی پیروں میں چل دیتا ہے...
 
اس ڈرامے کی کہانی میں ایک اور کاراکٹ شامل ہوتا ہے، وہ شخص جو اس کو لیکر چلتا ہے۔ اسے بھی واضح کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید بڑھا رہتے ہیں اور ان کی موجودہ جمہوری کہانی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
 
اس جمہوری نظام کی تلاش میں، بہت سی تعداد میں لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی واضح طور پر اس کا ساتھ نہیں دیتے اور اس سے محروم رہتے ہیں کہ کیا یہ ان سب کی پیروں میں چلتا رہتا ہے جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟
 
واپس
Top