حزب اللہ کے سابق سیکرٹری جنرل عبدالکریم نصر اللہ کے والد انتقال کرگئے

شیف

Well-known member
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سابق سیکرٹری جنرل عبدالکریم نصر اللہ کے والد انتقال کرگئے ۔ جس سے یہ بات پتہ چلی ہوئی ہے کہ ان کی موت اسرائیلی حملے میں ان کے بیٹے حسن نصراللہ کی ہلاکت کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد ہوئی ہے جبکہ عبدالکریم نصراللہ گزشتہ دو دنوں سے طبی پیچیدگیوں میں مبتلا تھے۔

عرب میڈیا کے مطابق، اسے عبدالکریم نصر اللہ کے انتقال پر تحسین کی جارہی ہے اور اس طرح ایک عارضی نقطہ ٹھوس ہوگیا ہے جو لبنان کے اپنے خلیفہ کو متاثر کر رہا تھا۔

حزب اللہ کی جانب سے عبدالکریم نصراللہ کے انتقال پر تعزیت جاری ہے اور اس وقت ان کے بیٹے حسن نصراللہ کو ہمیشہ اور زیادہ ہی خطرے میں رکھا گیا ہے۔
 
اس جھڑپ کی ناکام ہوئی وار کے بعد اس شخص کے انتقال پر یہ تو بہت اچھی نئی بات ہے۔ اب یہ لبنان کا ساتھ ڈال سکتا ہے، پھر دوسرا بھائی کی ہلاکت سے واضع نہیں ہوگا کہ اب کس شخص کو خطرے میں رکھنا چاہیے اور کس کو نہیں؟ یہ جاننے کی ضرورت تھی، اب واضح ہو گئی ہے۔
 
اب عبدالکریم نصر اللہ کا انتقال ہوگئیا تو پچیس سالوں سے سزائش کی ذمہ داریوں سے معاف کرنے کی بات کرتے رہتے تھے، اب وہ انتقال کر چکے ہیں تو اس پر توجہ دیتے ہوئے یہ سوچنا مشکل ہوگا کہ ایسے سزائشی معاف کیں نہیں گی?
 
ایسا لگتا ہے کہ عبدالکریم نصر اللہ کی موت ایک بڑے نقطے کے قیام کا سلوک کر رہی ہے، خاص طور پر جب تک ان کی موت اسرائیلی حملوں میں ان کے بیٹے حسن نصراللہ کی ہلاکت کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد ہوئی ہے، یہ تو ایک حقائق ہے لیکن سلوک کا معیار ابھی تک بہت کم ہے۔
 
اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے بچپنوں میں بھی لودوں کو یہی تاج کے طور پر دیکھنا مشکل ہوتا ہے، پھر یہی وجہ ہے کہ ان کی موت کا ایسا ادراک ہوتا ہے جیسے وہ ابھی بھی ہو سکیں ۔ اب تک یہ بات تو آتی ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کو دوسرے لوگوں کی لڑائیوں میں پھینکنا۔
 
عجیب جہت، اب تک ہمارے ممالک میں کس طرح سرکاریں ان سے پہلے ایسی صورت حال کو جانتے تھیں؟ میرا ایک بچا بھائی ہے جو آرام سے لڑا کر گزشتہ دو دنوں میںHospital میں پڑھایا گیا، تو میں اس سے پوچھتا ہوا کہ ایسا کیسے ہوتا ہے، اب یہ بات آئی کہ ان کی موت اسرائیلی حملوں میں ہوئی؟ اس کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ بھی ایسا کر سکتے ہیں... 😕
 
عرب دنیا کی شاملی تحریکوں پر اسرائیلی حملوں کی مزید تیز رفتار کٹار چل رہی ہے ... اور اب پھر لبنان کی ایک اور اہم شخصیت انتقال کرگئے ہیں جس نے اپنے بیٹے کو ایک حملے میں ہلا کر لیا تھا ... یہ بھی واضح کرتا ہے کہ یہ ختم ہونے والی کہانیاں کی فہرست میں تو دوسری نہیں اور یہ سب ایک ہی لالچ سے ہوتے جا رہے ہیں ...
 
اس کی موت ایسے تو ہوئی ہوگی کہ اب بھی یہ بات پتہ چل رہی ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں میں کون سا اہل ہے؟ لگتا ہے ان کی موت نے ایسا ہی کیا ہوا ہے جیسا کہ یہ بھی یہ بات ہم سے بتایا جا چکا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی موت سے پہلے بھی اسرائیلی حملوں میں اہل تھے 🤔

میں یہ کہتا ہونگا کہ اس سے ہم نے ان کے بیٹے کو زیادہ خطرے میں رکھا ہوا، مگر اسے وہ تو اب بھی اسی حالات میں پالھا ہوگا جس سے یہ موت ہوئی ہوگی 😐
 
اب عبدالکریم نصر اللہ کی موت کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ-party ki zindagi mein kuchh naya hai ya toh party ka matlab yeh hi ke yeh kisi bhi mushkil mein rahna pasand karti hai 🤔. Arab media ne kaha tha ki ab ek arzi nuqta thos ho gaya hai, lekin main sochta hoon kyunki yeh toh party ki zindagi ka hissa tha, kisi bhi mushkil ko samajna pasand hota hai, lakin kya isse party ki zindagi mein koi badlaav aa sakta hai? 🤷‍♂️
 
اب دیکھو یہ کہ لونگ ٹیم کی ایک نئی پہلو آ گیا ہے۔ اور یہ بھی کہ ایسے لوگ جن کو اپنے بیٹے کے حیات پر بھارپور تعاون کرنا پڑتا ہے وہ ان کے لیے سب سے بڑا نجات دہندہ بن جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات بالکل ایسے نہیں کہ عبدالکریم نصر اللہ کو اس حادثے سے ان کی موت کیوں بھگتی نہیں، لیکن یہی کہ اس نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کی اورParty کی امانت دی۔
 
عرب دنیا کی ساتھیوں کو پتہ چلا ہوا کہ لبنان کی حزب اللہ کے سابق سیکرٹری جنرل عبدالکریم نصر اللہ کا انتقال ہوگیا ہے، یہ بات سب کے لئے دلچسپ ہے۔ اب جب وہ اپنے بیٹے حسن نصراللہ کو خطرے میں رکھتے تھے تو اب ان کی موت ہوئی، یہاں سب کو ایسا چاہئے کہ وہ Hezbollah اور اس کےLeaders کے ساتھ حاقد بھی رکھیں۔
 
اسے بہت دیر لگتا ہے کہ عبدالکریم نصر اللہ کو یہ دنیا سے چلے گئے، اب وہ اپنے بیٹے کی پوری زندگی کو خطرے میں ڈال کر رہے تھے تو اب ان کا انتقال آگے بڑھے ہوئے ماحول سے اسے نجات مل گئی ہے۔ مجھے یہ بات خوش Gardner lagti hai کہ اب ان کی پوری فیملی کو ایک ایسی شان اور احترام سے سمجھا جائے جو ان کے جانب سے انہیں دیر سے ملتا ہوا تھا۔
 
واپس
Top