بھارت میں پھیلنے والے خطرناک نیپا وائرس کے سبب ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کا انعقاد خطرہ میں پڑ گیا ہے، جس نے اس میگا ایونٹ پر بھارتی حکومت کو سوالات اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔
بھارت کے مغربی بنگال میں پانچ افراد میں سے دو نرسز اور ایک ڈاکٹر سمیت نیپا وائرس کے متعلق تصدیق ہوئی ہے، جو حالات گھبراہٹ کی صورت میں ہیں۔
حکومت نے کم از کم 100 افراد کو قرنطینہ میں بھیج دیا ہے اور حفاظتی تدابیر مزید سخت کردی ہیں۔
اس خطرناک وائرس نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے انعقاد سے چند ہفتوں پہلے ہی شुरوعا کیا تھا، اور اگر اس کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ ایونٹ کی تیاریوں، لاجسٹکس اور سکیورٹی انتظامات پر بھرپور اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اس مگا ایونٹ کے منصوبے کو بھی خطرہ میں ڈالنے کی صورت میں، اس میں ایک نئے اور زیادہ سے زیادہ خطرناک وائرس کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس ایونٹ پر بھی اپنے اثر و رسوخ کو ظاہر کرے گا۔
بھارتی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے انعقاد پر یہ خطرہ ہی نہیں، لیکن یہ ایک گنجائیوں میں لینے والا ماحول ہے جس میں ہر رکھنے والے اپنی جان کے ساتھ لے آئے ہوتے ہیں. نیپا وائرس نے بھارت کی پوری ایسے صورت حال پر پیش کردیا ہے جس میں اس کو منع کرسکتے ہیں۔ لگتا ہے بھارتی حکومت کو یہ وائرس نہیں اچھا دیکھ رہی تھی، اس لیے انھوں نے سزائش کا فیصلہ کر لیا تھا. 100 افراد کو قرنطینہ میں لے جानا جو بہت بہت زیادہ ہے، حالات گھبراہٹ کی صورت میں ایسا کیسے کیا جا سکta ہے؟
بھارتی حکومت نے 100 سے زائد لوگوں کو قرنطینہ میں لگایا ہے اور حفاظت کے اساتذہ کو بھی بڑھا دیا ہے، لیکن یہ سوال تو ہے کہ اس خطرناک نیپا وائرس کے لاکھوں لوگوں میں پھیل جاتا ہے اور کیسے؟ کیا ان لوگوں نے اس وائرس سے تعلق رکھتے ہیں یا یہ کوئی مختلف وائرس تھا جو بھی اچھا لگتا تھا، اور اب بھارتی عوام کو وہی کیا ملا۔ میرے پاس کوئی ذرائع نہیں ہیں کہ یہ بات کی جانے کے لئے۔
بھارت میں ہونے والے یہ خطرات ہمیں انسائنس سے ملकर فخر محسوس کرتے ہیں؟ کیونکہ وہاں اپنے ہی لوگوں کے لیے بھی اپنی صحت کو چاننے کی صلاحیت کا شکر گزار رہے ہیں اور اب انہیں خطرہ میں پڑنے والے یہ ماحول میں بھی ایسی طرح کی جانت اور صلاحیت دکھائی دینا چاہیے جو کہ ابھی تک نہیں دیکھا گیا ہے۔
یہ تو تو! ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے منصوبے پر پھیلنے والے خطرناک نیپا وائرس نے بھارتی حکومت کو ایسے ہی سوالات اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے جو سب کو پچتائی دیتے ہیں. 100 افراد کو قرنطینہ میں لگا دیا جائے گا، یہ تو بھی چیک کرتا ہے لیکن کیا اس سے کافی نہیں تھا؟ نیپا وائرس کے متعلق تصدیق ہونے پر حالات گھبراہٹ کی صورت میں تو یہ تو ایک خطرناک с्थितی میں پھیل گیا ہو.
تمام ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کا انعقاد خطرناک نیپا وائرس کی وجہ سے ہی نہیں ہو سکا، یہ صرف اس کے بعد بھی ہو سکتا ہے. ابھی تک کچھ واقعات آئے ہیں اور کچھ نہیں ہوا ہے، مگر یہ ٹیسٹ کرنے کے لیے بھی دیر نہیں کی جاسکتی.
نیپا وائرس کے بارے میں سب سے پہلے سمجھنا ضروری ہے، یہ کیا ہے؟ اور یہ وائرس کیسے پھیلتا ہے؟ یہ سوالات ابھی تک جواب نہیں دیے ہیں.
آج کی یہ ساری بات تو بہت خطرناک لگتی ہے، پہلے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں میں تکلیف دہ حالات پیدا ہوتے ہیں تو اب ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کا منصوبہ بھی خطرناک ہو رہا ہے! یہ ایک بڑا سہارا بننے والا موقع نہیں ہے، ہر ایک کے لئے خاص طور پر ضروری ہے کہ اس کو ایسے صورتحال کے بعد میں اٹھایا جائے جس میں پچاس گز محنت ہوئی ہو۔ میرے خیال میں یہ بھارتی ٹیم کو ایک نئے پہلو سے دیکھنا چاہیے، کہ کس طرح انہیں اس خطرناک وائرس کی توقع میں ہٹ کر یہ منصوبہ اٹھایا جا سکتا ہے؟
بھارت میں یہ خطرناک نیپا وائرس، ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے انعقاد کی صورت میں تباہی کا باعث بن سکتا ہے… اور اس کی نہیں توڑنی چاہئیں، پھر یہ ایونٹ پورے دیس کو لپٹ جائے گی… 100 افراد قرانطینہ میں بھیج دیئے جانے سے ناکام رہنا بھی نہیں، انھیں ٹیسٹ کرکے دیکھنا چاہئے کہ وائرس کی شدت میں کیا اضافہ ہو رہا ہے…
میری بات یہ ہے کہ ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کی منصوبہ بندی میں ایسے مسائل سے نمٹنا مشکل ہوتا ہے جیسے ابھی بھی نیپا وائرس کا شکار ہونے والے لوگ اور ان کی فAMILیاں ہیں۔ پہلے سے ایسے ہی مسائل سامنے آتے رہے ہیں جو بھارتی حکومت کو ایک بار میں اور ایک بار نہیں حل کر سکتی۔ اب یہ ٹی ٹونٹی ورلڈکپ نہیں بلکہ ان کے صحت کی بات ہے جو وائرس سے لڑ رہے ہیں
اس 뉴ز نے مجھے ٹنکنا پگھلیا ہے کہ پھیلنے والا نیپا وائرس بھارت میں کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے؟ یہ وائرس نہ صرف ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے انعقاد کو تباہ کر سکتی ہے بلکہ اسی بھارتی حکومت کو بھی ایسا ہی سوتے ہوئے دیکھنا ہوگا جیسا کہ وہ سافٹی لانڈنگ پر بھی تباہ نہیں ہو سکتی؟ 100 افراد کو قرنطینہ میں بیٹھایا گیا ہے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اب سے ایک نیپا وائرس کے خطرناک اسورج کے بارے میں ہم بھارتی حکومت کو بھی سجدہ لگانے والے نہیں بنتے۔ اس میگا ایونٹ پر دیر سے پہلے تاکید کرنا ضروری تھا، اب اگر یہ وائرس شوروعا کرلی تو اس میں کس قدر خطرہ آئے گا؟
مگر یہ بھی سوچتے ہیں کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے منصوبے میں یہ خطرناک وائرس کے ساتھ جنگ لڑنا پڑے گی؟ پہلی بار ہوا تو یہ نہیں تھا، اب ایسا ہونا ضروری نہیں ہے کہ ہر بار خطرناک وائرس سے لڑنا پڑے! #ٹیٹونٹیورلڈکپ #نیپاوائرس #صحت
میں سمجھتا ہوں کہ بھارتی حکومت کو یہ پہلا موقع ملا ہوتا ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کی صحت کے بارے میں کام کرتی ہوئی ایک نیا روایہ بنائے! #صحتکیصلاحیت #نوجوانوںकاپرعزمی
سفارishly بھی ہے، اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ یہ وائرس ہٹ جائے! #صحتکاسفارش #ناجائزخطر
عجیب ہے، ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے پہلے اور بعد میں بھی کسی نئے وائرس کی بھارتی سرکاری کو معلوم کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ یہ بتاتا ہے کہ ان پریشان حالوں سے بچنے کے لیے کتنے نوجوان اور بڑی عمر کے افراد کو قرنطینہ میں لایا گیا ہے...
میری باتیں، یہ وائرس کچھ بھی اچھا نہیں، پھیر بھی اس کی وجہ سے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کا انعقاد خطرہ میں پڑ گیا ہے؟ میری بات یہ ہے کہ مینے دھوپ کیوں نہیں لگاتی؟ آج ہوا بہت گر رہی ہے اور میں محسوس کر رہا ہوں کہ میری سرفہ کیا ہوا ہے؟ یہ تو وائرس ہے، لیکن دھوپ کیوں نہیں لگتی؟
کچھ لوگوں کو اس سے پتہ چلنا پڑ گیا کہ جب کچھ ایسے پیالے ہوتے ہیں جو میں انہیں کھانے سے پہلے وھلے کر لیتا ہوں تو وہ بہت tasty بن جاتے ہیں، اور یہ ایسا لگتا ہے جیسے کہ ان میں کچھ چنائے پتے ہوں। میری بات یہ ہے کہ اگر میں ان پیالوں کو وھلے نہ کر دیتا، تو ان میں کچھ پانی بھی نہیں ہوتا؟
اس لیے یہ تھرڈ کیوٹر ٹاپک کے لیے ہار ہونے والی صورت حال میں، تو میں اس پر زور دیتا ہوں کہ ہمیں جس کچھ بھی کھانا پینا چاہتے ہیں وہ سچمہ بھی ہونا چاہیے، اور یہ بھی کہ ہمیں نہیں ہونے دنا پوٹنے کی ضرورت ہے؟
اس وقت بھی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے بارے میں تو ایسے ہی سوالات تھے اور اب یہ وائرس ہی ایسا کیا کر رہا ہے۔ سچائی بھی گھبراہٹ کی صورت میں ہی ہوتی ہے اور یہاں یہ وائرس ٹورنامنٹ کے پچھلے دنوں سے ہی شुरوعا کر رہا ہے۔ 100 افراد قرنطینہ میں لگا دیے جائیں، مگر وائرس اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ٹورنامنٹ پھنس جाए۔
پھیلنے والے نیپا وائرس سے بھارت میں کچھ بھی اچھا نہیں ہوا ۔ ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کو اس خطرناک وائرس کے کारण ٹلنا ایسا ہی تھا جیسا کہ لوگ سوچتے ہیں کہ یہ اور کیا نا ہو گا? حالات گھبراہٹ کی صورت میں اس میگا ایونٹ پر بھارتی حکومت کو سوالات اٹھانے پر مجبور کرنا ایسا کچھ نہیں تھا جو اس میں ہوا ہو۔ 100 افراد کو قرنطینہ میں بھیج دے سکتے تھے اور حفاظتی تدابیر اچھی طرح سے لی جا سکتی تھیں، لے کر ایک نئے اور زیادہ خطرناک وائرس کا مقابلہ کرتے سکتے تھے...لیکن اب یہ کھاتے ہیں!
یہ وبا کتھوں آئی؟ پہلی بار ہی نا تھی، اب تو ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کا منصوبہ بھی خطرے میں ڈالا گیا ہے۔ حکومت کو ان لوگوں پر دیکھنا چاہیے جو آہستہ آہستہ مر رہے ہیں، اور ابھی یہ نئی وبا ہمیشہ سے زیادہ خطرناک نہیں تھی؟ 100 افراد کو Quarantine میں بھیجنا تو ہمت کھینچنے کا کچھ نہیں ہوتا، اور اب یہ وبا ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے منصوبے کو بھی خطرے میں پڑا دیو۔
یہ تو بہت حسرت کن، ہمیں یہ دیکھنا پڑ رہا ہے کہ وائرس سے لڑنے کی صلاحیت کو نہیں جانتے ہی ایسے اہتمامات میں شامل ہو سکتے ہیں، جو دنیا بھر میں بھی پھیلنے کے امکانت رکھتے ہیں। یہ ایک یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ایسے واقعات کی تیاری اور منصوبوں میں بھی اضافہ کرنا چاہیے تاکہ آگاہی اور تدابیر کے ساتھ جو بھی آنے والے خطرے سے لڑنے کی ضرورت ہو۔
بھارت میں نیپا وائرس کی صورت حال تو ایسی ہی چل رہی ہے جیسا ہمیں پہلے بھی دیکھنا پڑا تھا۔ ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے انعقاد پر یہ خطرہ کچھ تو حد تک ہے، لیکن یہ بات صریعا نہیں ہے کہ ٹورنامنٹ منسوخ ہو جائے گا؟ اس میں سے جو وائراستک اور ایمونو لوگی بھی ہے وہ ہمیں کچھ پرانے ماحول کو یاد دلاتا ہے۔
ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کا انعقاد خطرے میں پڑا ہے، یہ تو سمجھ آتا ہے لیکن حکومت کو اس سے قبل بھی ایسے Cases ہیں جن پر نہیں دیکھا گیا تھا؟
مجبور کرتے ہوئے 100 افراد کو قرنطینہ میں لانے سے پہلے اس وائرس کی پہچان کیسے کی گئی، اور اب تک کیا کیا ہوا؟
اس مگا ایونٹ پر بھارت کی حکومت کو ایسی situations ہیں جس سے پہلے نہیں دیکھا گیا تھا، اور اب یہ situations اس عرصے میں زیادہ سے زیادہ خطرات کا سامنا کر رہا ہے جو ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کی تیاریوں پر ہی نہیں بلکہ اسے بھی خطرناک بنایا جا رہا ہے۔