جیرو کے کنایAMAچو ضلع میں ایک غیر معمولی بلکل عمودی اور تنگ سیڑھی ہے جسے ملک کی سب سے خوفناک سیڑھی قرار دیا گیا ہے۔ یہ سیڑھی 10 میٹر اونچے دریا کے پشتے ایک شوقیہ فوٹوگرافر کی جانب سے شیئر کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
سیڑھی تقریباً عمودی نظر آتی ہے، یہ ان پر قدم رکھنا مشکل ہے کیونکہ وہ بہت تنگ ہیں اور سہارے کے لیے صرف ایک زنگ آلود ہینڈریل ہے۔ اس بلکل عمودی سیڑھی پر چڑھنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ یہ ان تنگ اور کائی سے ڈھکی ہوئی سیڑھیوں میں سے ایک ہے جس پر اترتے وقت چکر آ سکتی ہیں اور یہ انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔
اس سیڑھی کا ڈیزائن دوسرے سے مختلف ہے کیونکہ اس میں ٹریڈ اور ریزر کا تناسب 1:1 ہے، جبکہ عام طور پر یہ تناسب 2:1 ہوتا ہے۔ ایسے ڈیزائن سے اخراجات کو کم رکھا گیا تھا لیکن اس سے خطرے کا خطرہ بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اس سیڑھی پر چڑھنا مشکل ہے، لیکن یہ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس کے ساتھ زیادہ تنگ اور کائی سے ڈھکی ہوئی سیڑھیوں پر چڑھنا بھی مشکل ہے۔ اس سیڑھی کو ہمیشہ سیاحتی مقاصد کے طور پر فروغ دینے سے گریز کرتا ہے کیونکہ اس سے چوٹ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے اور یہ اس کی جانچ پڑتال میں بھی آتا ہے۔
سیڑھی تقریباً عمودی نظر آتی ہے، یہ ان پر قدم رکھنا مشکل ہے کیونکہ وہ بہت تنگ ہیں اور سہارے کے لیے صرف ایک زنگ آلود ہینڈریل ہے۔ اس بلکل عمودی سیڑھی پر چڑھنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ یہ ان تنگ اور کائی سے ڈھکی ہوئی سیڑھیوں میں سے ایک ہے جس پر اترتے وقت چکر آ سکتی ہیں اور یہ انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔
اس سیڑھی کا ڈیزائن دوسرے سے مختلف ہے کیونکہ اس میں ٹریڈ اور ریزر کا تناسب 1:1 ہے، جبکہ عام طور پر یہ تناسب 2:1 ہوتا ہے۔ ایسے ڈیزائن سے اخراجات کو کم رکھا گیا تھا لیکن اس سے خطرے کا خطرہ بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اس سیڑھی پر چڑھنا مشکل ہے، لیکن یہ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس کے ساتھ زیادہ تنگ اور کائی سے ڈھکی ہوئی سیڑھیوں پر چڑھنا بھی مشکل ہے۔ اس سیڑھی کو ہمیشہ سیاحتی مقاصد کے طور پر فروغ دینے سے گریز کرتا ہے کیونکہ اس سے چوٹ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے اور یہ اس کی جانچ پڑتال میں بھی آتا ہے۔