عدالت عظمٰی نے گزارہ بھتہ سے متعلق ایک - Latest News | Breaking New

بچھو

Well-known member
اللہ تعالیٰ، ایک خاتون نے اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنی بیوی اور بیٹوں کو کفالت دینا چاھی، لیکن عدالت نے اس کا مطالبہ مسترد کردیا۔ جسٹس پنکج متل اور جسٹس ایس وی این بھٹی کی بنچ نے اس معاملے کو سمجھایا کہ جو خاتون اپنے شوہر کو کھو چکی ہے وہ سسر کی موت کے بعد کفالت حاصل کر سکتی ہے، کیونکہ اس کے پاس ان کا حق تھا۔

سپریم کورٹ نے ایک معاملے میں اہم فیصلہ دیا کہ جو بہو اپنے شوہر کو کھو کر سسر کی زندگی میں پھنس گئی ہے اسے اپنی شریک حیات کو کھونے کی وجہ سے کفالت نہیں مل سکتی، بلکہ وہ اپنے شوہر کا انتقال کے بعد بھی کفالت حاصل کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کی بنچ نے ایک حقیقی شق کو سمجھایا جس میں سسر کی موت کے وقت کے بارے میں بات کی جاتی ہے، وہاں ان کی ذمہ داری اپنے بھائیوں اور بیویوں کو مدد فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اس معاملے میں عدالت نے یہ سبق پیش کیا کہ جو شادی شدہ خاتون اپنے شوہر کو کھو چکی ہے وہ اپنی بیوی اور بیٹوں کی کفالت کر سکتی ہے، اگر اسے اپنا حق حاصل ہوتا ہے تو وہ انھیں کفالت دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ، یہ ایک بڑا معاملہ تھا جس میں ایک خاتون نے اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنی بیوی اور بیٹوں کی کفالت لene کی کوشش کی، لیکن عدالت نے اس کا مطالبہ مسترد کردیا۔ اس معاملے میں عدالت نے سسر کی ذمہ داری کو سمجھایا اور یہ سبق پیش کیا کہ جو شادی شدہ خاتون اپنے شوہر کو کھو چکی ہے وہ اپنی بیوی اور بیٹوں کی کفالت کر سکتی ہے، اگر اسے اپنا حق حاصل ہوتا ہے تو وہ انھیں کفالت دیتا ہے۔
 
یہ معاملہ کیسے تھا، ایک خاتون جو اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنی بیوی اور بیٹوں کو کفالت دینا چاہی، لیکن عدالت نے اسے بھگنا دیا… یہ انتہائی غضبے کا وقت تھا! 🤬

سپریم کورٹ کی بنچ نے ایک حقیقت کو سمجھایا جس میں سسر کی موت کے وقت کی بات کی گئی، وہاں ان کی ذمہ داری اپنے بھائیوں اور بیویوں کو مدد فراہم کرنا ہوتا ہے… لیکن یہ سچ ہے کہ جو شادی شدہ خاتون اپنے شوہر کو کھو چکی ہے وہ اپنی بیوی اور بیٹوں کی کفالت کر سکتی ہے! 🙌

یہ معاملے میں عدالت نے ایک انتہائی اہم فیصلہ دیا، جو شادی شدہ خاتون کو اپنی بیوی اور بیٹوں کی کفالت کرنے کی اجازت دیتا ہے… لیکن یہ سچ ہے کہ انھیں اپنا حق حاصل کرنا چاہئے! 💪
 
بہت زیادہ گم گئی ایسی معاملات ہوئیں جن میں اس بات کو سمجھنا مشکل تھا کہ جو خواتین اپنے شوہر کو کھو چکی ہیں ان کی ذمہ داری کفالت کرنے سے نکل جاتی ہے؟ میں سمجھتا ہoon کہ یہ معاملات بہت غم پراست ہوں گے اور خواتین کو ان کی حقیقی ذمہ داری سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت نے ایسا فیصلہ دیا جس سے خواتین کو ان کے حق میں نکلنا چاہئیں، پھر اس معاملے کی پوری جگہ کی نظر انداز ہو سکتی ہے۔
 
سرفراز 🤔
سسکوٹر کی بنچ نے ایک ایسی بات کو سمجھایا ہے جو پوری دنیا میں سہی نہیں ہو رہی ہے، وہ بتائی کہ جس شادی شدہ خاتون کا شوہر کھو چکا ہے وہ اپنی بیوی اور بیٹوں کی کفالت کر سکتی ہے ، یہ ایک بڑی بات ہے جس پر توجہ دی گئی ہے۔ سرفراز.
 
🤔 یہ ایک نئی بات ہے کہ عدالت نے سسر کی ذمہ داری کو سمجھایا اور یہ سبق پیش کیا کہ جو خاتون اپنے شوہر کو کھو چکی ہے وہ اپنی بیوی اور بیٹوں کی کفالت کر سکتی ہے، اگر اسے اپنا حق حاصل ہوتا ہے تو وہ انھیں کفالت دیتا ہے۔ یہ ایک بڑا معاملہ تھا جس میں ایک خاتون نے اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنی بیوی اور بیٹوں کی کفالت لene کی کوشش کی، لیکن عدالت نے اس کا مطالبہ مسترد کردیا۔

یہ بات یقینی ہے کہ سسر کی ذمہ داری کو سمجھایا گیا ہے اور یہ سبق پیش کیا گیا ہے کہ خاتون کو اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنی بیوی اور بیٹوں کی کفالت کر سکتی ہے، اگر اسے اپنا حق حاصل ہوتا ہے تو وہ انھیں کفالت دیتا ہے۔

یہ معاملہ ایک حقیقی شق کو سامنے لاتا ہے جس میں سسر کی موت کے وقت کے بارے میں بات کی جاتی ہے، اور یہ سبق پیش کیا گیا ہے کہ خاتون کو اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنی بیوی اور بیٹوں کی کفالت کر سکتی ہے۔

اس معاملے میں عدالت نے ایک نئی بات پیش کی ہے جس سے خاتون کو اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنی بیوی اور بیٹوں کی کفالت کر سکنا پڑا۔ یہ بات صاف ہے کہ جو خاتون اپنے شوہر کو کھو چکی ہے وہ اپنی بیوی اور بیٹوں کی کفالت کر سکتی ہے، اگر اسے اپنا حق حاصل ہوتا ہے تو وہ انھیں کفالت دیتا ہے۔
 
🤝 یہ معاملہ حقیقی طور پر ایک سسر کی زندگی کو سمجھنے کا موقع تھا، اس میں عدالت نے جسٹس پنکج متل اور جسٹس ایس وی این بھٹی کی بنچ نے اپنی وضاحت کی۔

سسر کی زندگی میں ایسی عذريت نہیں ہوتی جو اس کے شوہر کو چھوڑ کر بیوی اور بیٹوں کی کفالت دیکھ کر عصبتی ہوئی ہو، یہ صرف ایک ایسا معاملہ تھا جس میں عدالت نے ایک حقیقی شق کو سمجھایا اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ سسر کی ذمہ داری اپنے شوہر کو چھوڑ کر بھی ایسی نہیں ہوتی جس سے ان کی بیوی اور بیٹیاں کی کفالت دیکھ کر عصبتی ہوئی ہو।
 
میری رाय یہ ہے کہ عدالت نے ایسا فیصلہ دیا جس سے اچھا نتیجہ نہیں نکلا۔ اگر ایک خاتون اپنے شوہر کو کھو چکی ہے تو وہ اپنی بیوی اور بیٹوں کی کفالت کر سکتی ہیں، لیکن عدالت نے یہ بات بھی سمجھائی کہ اس پر یقین رکھنا چاہئے کہ وہ اپنے شوہر کا انتقال کے بعد کفالت حاصل کر سکتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک بد्लے معاملے سے باہر ہوا تھا، اور عدالت نے اس کی سنجیدگی سے بات نہیں کی
 
اس معاملے میں عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے وہ بہت اچھا ہے، اور اسے سمجھنا بھی اچھا ہے کہ سسر کی ذمہ داری اپنے بھائیوں اور بیویوں کو مدد فراہم کرنا ہوتی ہے، حالانکہ یہ بات اس وقت تک نہیں آئی تھی جس میں عدالت نے فیصلہ دیا تھا۔ یہ معاملہ جو خاتون اپنے شوہر کو کھو کر سسر کی زندگی میں پھنس گئی ہے اس کے لیے بہت اچھا ہے، اور یہ فیصلہ اس لیے اچھا ہے کہ وہ اپنے شوہر کا انتقال کے بعد بھی کفالت حاصل کر سکتی ہے۔ Allah hafiz, یہ معاملے میں عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے وہ نہیں آئا تھا، لیکن یہ فیصلہ کسی کی حقداری کو کم کرنے کے ليے نہیں پہچانا گیا، بلکہ اس معاملے میں خاتون کو اپنا حق حاصل ہونے پر یقین دیya jaye.
 
واپس
Top