پاکستان کی سینیٹ میں وعدہ کیا گیا ہے کہ اس ملک کو وہی قادربانی چلتے رہتے ہیں جو پھر سے بھرپور رہائش جیتنے کے لئے ضروری ہیں۔ ان کی نیک وعدوں کو آگے بڑھانے کا اہم کردار چیئرمین سینیٹ نے اپنا لیا، جس کے ذریعے انہوں نے ہر پالیسی میں واضح رہنما بننے کی پوری کوشش کی۔
چئیرمین سینیٹ نے چیٹھام House میں موجود قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر قرار دیا ہے، جس کے ذریعے ان کے نوٹیفکیشن کو آگے بڑھایا گیا۔
تحریری حقداری اور ناقص سمجھ کے باعث سینیٹ میں ان کی وعدوں کے لئے سچائی دھندلوں کی ضرورت ہے، ایسے لوگوں کو بھی یہ رہنما بننا چاہیے جو اپنی وعدوں میں کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس سینیٹ کے مفرح اور خوشگوار موسم کا انفرادی کاڈ، میں نے اس بات پر ہمیں یقین کیا ہے کہ یہ وعدے صرف ایسے لوگوں کی بات سنا ہو گا جو اپنی زندگی کو بھرپور بنانے کی غرض سے ان ہی رہنما کی طرف دیکھتے ہیں اور ان کے وعدوں میں ایسی ناقص سمجھی جائے جو سچائی والی نسل کو برقرار رکھتی ہیں۔
دنیا بھر کی ترقی میں یہ رہنما کامیابی حاصل کرنے کے لئے، ایسی ہی اقدار کی ضرورت ہے جو اپنے ملک کو بھرپور بنانے کی غرض سے اس کی طرف دیکھتی ہیں۔
جب تک ان کی پالیسیز سچائی پر مبنی ہوتی ہیں تو یہ سچا مظاہرہ ہو گا، حالانکہ میں تھوڑا بھی کونسے شخص کی وعدوں پر اعتماد کرسکتا ہoon? سب کو یہ نہیں پتہ کہ ان کے پاس بھرپور رہائش کی منصوبے ہیں یا نہیں؟ میں یہ بتاؤں گا اگر وہ سچائی پر چلنے لگتے ہیں تو ملک کو بھی سچائی دیکھنی پڑے گی۔
سینیٹ نے آگے بڑھائی ہاروں کا اہتمام کیا ہے، لیکن سچ کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو یہ وعدے پورا کرنے کے لئے تیار ہیں وہ تو آگے بڑھ سکیں گے، لیکن ایسی اہتمامات کی ضرورت ہے جو وہ لوگ کیں جس پر یقین ہو، نہیں ان لوگوں کا پورا اعتماد کرنا۔
سینیٹ کی ان نیک وعدوں کو بڑھانے کا اہم کردار چیئرمین سینیٹ نے لیا ہے، لیکن میں یہ سوچتا ہoon کہ وہ بھی ایک دھندلے نظام کی توجہ نہیں دی رہا جو اس ملک کو جتنا چاہتا ہے، اُسے یہ حاصل کرنے کے لئے جو بھی کہیں.
پاکستان کے سینیٹ میں ایسے چیئرمین کو بھی بھرنا چاہیے جیسے اس ملک کی ضروریات کی پوری کوشش کی جاسکے.
اج دیر رات تک اُس نے ہرپالیسی میں واضح رہنما بننے کی کوئی خاص کوشش نہیں کی، لیکن اب کہ اس نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے تو یہ ہمیشہ سے دیکھنا تھا کہ اُس کے پاس بھی جو وعدے بنایا ہوں وہ پورا نہیں ہوتے۔
اس وعدے پر مشتمل پالیسیوں کو ایک بار پھر تیسری جانب سے چیلنج کیا جا رہا ہے، اس لیے اچھے نتیجے کے لئے یہ ضروری ہے کہ سینیٹ کی چیئرمین ان وعدوں کو دھندلوں سے پاک رکھے.
مگر کیا اس بات پر یقین ہے کہ وہی پالیسیں پورے ملک میں بھرپور رہائش جیتنے کی طرف لے جائیں گی؟ یہ سوچنا مشکل ہے، مگر واضح رہنما بننے کا یہ اہم کردار چیئرمین سینیٹ نے لیا ہے.
یہ تھرڈ پارٹی کو سمجھنا چاہیے اور ان کی ایسی رہنمائی کے لئے کوئی منصوبہ بنایا جائے جو انہوں نے وعدے کیے ہیں۔ مینے بھی تھرڈ پارٹی سے بات کیا ہے اور یہ بات تو چل رہی ہے کہ انہیں سمجھنا چاہئیے کہ انہوں نے بھرپور کیسے بنایا جائے گا؟
امرے برادری میں یہ بات کو چھپا کر نہیں دیکھنا چاہیے کہ ان وعدوں کو یقینی بنانے کے لئے ہمارے سیاسی رہنماؤں کو کتنی مشکل کام کرنا پڑے گا... سینیٹ میں ایسے چیئرمین کی ضرورت ہے جو اس پر ہمیشہ توجہ دیتے رہنے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو بھی ان پر نظر رکھتے رہتے ہیں، یہ صرف تھوڑا سا لازمی نہیں ہے...
بہت حیران کن ، یہ نئے سینیٹ چیئرمین کے دور میں پہلی بار وعدوں کو لینا اور ان پر عمل کرنا ہے؟ یہ بھی اپنے آپ میں ایک جدیدیت ہے، اس میں اب تک سینیٹ نے کیا تھا تو یہ نئی چیلنج ہے۔
لگتا ہے کہ وہ قائد حزب اختلاف کو اپوزیشن لیڈر قرار دینے کی بات بہت اچھی رہنما کے طور پر ہوئی ہوگی، ایسے میں وہ پوری پارٹی کے ساتھ آگے آئے گا۔ لیکن یہ بات بھی تباہ کن ہے کہ ان کی نیک وعدوں کو سچائی دھندلوں کی ضرورت ہے، اس میں یقین رکھنا پوری صلاحیت کا تعلق ہے۔
اس سینیٹ کو ابھی بھی ناکام رہی، ابھی دھندلوں کی گئی مگر یہ رہنما ہو گیا؟ ان کے وعدے کو پورا کرنا مشکل ہے اور چیئرمین سینیٹ نے ٹھیک نہیں کیا، اب تو ان کی وعدوں کی سچائی کس پر دھیان ڈالتا ہے؟
آپ کے خیال سے کیا ہوا، آپ نے کس قسم کی سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی؟ ان سب لوگوں کو اچھا لگتا ہے کہ وہ پوری دنیا کے سامنے اپنی نیکوں وعدوں پر چلتے ہیں، لیکن آپ کی نیند کیسے اٹھتی ہے؟
یہ رونق اور سچائی کا موسم ہوا! سینیٹ کی چیئرمین نے پوری دنیا کو دیکھ کر وعدوں کو طے کرنے کے لئے اپنا دل و جسارت دی ہے۔ یہ رائے میں مجھے یقین ہے کہ آگے بڑھانے کے لئے سچائی اور چلک کی ضرورت ہے۔ ناقص سمجھ کے باعث ان وعدوں کو پورا کرنے میں انہیں یقین کا راستہ دوسرے لوگ بھی دیتے ہیں۔
اس سینیٹ میں کسی بھی بات پر بات کرنا مشکل ہے، سب کو یہی فیکٹر نظر آتا ہے کہ وہ کون سی پیسہ کی حریف ہوگی۔ میرے لئے وعدے کی جگہ سچائی اور فوری کارروائی کی ضرورت ہے، نہ ہی اس پر ایسی بات کوڈ کرنے کے لیے ہمارے چیئرمین کو پکڑنا ہوگا جو دھنڈے کی طرح سے لگ رہے ہیں
اب تک کے ماحول میں بہت سے لوگ توجہ اور دباؤ نہیں دے رہے، اُس کی جگہ اب پیدل ہو گئے ہیں، چلا رہا ہو کہ کیا انھوں نے سینیٹ میں بھی یہی صورتحال بنائی ہے؟ چارمین سینیٹ کی یہ تاکید اور نئے رہنما کو اپوزیشن لیڈر قرار دینا، آج سے 90 کی دہائی میں یہی صورتحال رہی ہو گی، اس سے پہلے ہی ایسا کیا ہوا تھا، ابھی تو 80 کی دہائی میں بھی یہی بات ہو چکی تھی اور 90 کی دہائی میں اس پر بھی کام نہیں کرنا تھا۔
اس وقت اور اس ملک کی مستقبل کی بات کرتے ہوئے تو یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر وعدے پورا کرنا ہوتا ہے تو ان میں سچائی اور نہایت دیرپا thinking شامل ہونا چاہیے.
جس طرح راجہ سائر خان کو اپوزیشن لیڈر قرار دیا گیا ہے وہیں کئی ماہوں سے یہ بات ان کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ وہ اسی مقام پر ہی رہتے رہنے کی ضرورت ہے.
اس وقت پکڑا گئے ہے کہ سینیٹ میں وعدے پورا کرنا اور اس کو آگے بڑھانا ایک نازک کارروائی ہے.
میں اس بات سے متعرض نہیں ہوا کہ سینیٹ کی وعدوں پر توجہ دے رہا ہو، لکین یہ دیکھنا مشکل ہے کہ انہوں نے کیا عہد کیا ہو گا۔ پورے ملک کو ایسے وعدوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جس سے لوگ خوش ہو سکیں، لیکن میں یہ بھی دیکھ رہا ہو کہ ان وعدوں کو آگے لینے کے لیے کیئرمیسم نہیں ہے بلکہ سچائی اور یقین کا ایک نیے چلنا ہوتا ہے جو لوگوں کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا
سینیٹ میں یہ بات بڑی اچھی ہے کہ چیئرمین سینیٹ نے اپنی کوشش کی ہے کہ وعدوں کو آگے بڑھایا جائے، لیکن تو یہ سोचنا اچھا ہے کہ ابھی تک ان کی وعدوں کے پچھلے سینٹرز نے یہ کیا تھا؟
اس میں ایک بات بھی اچھی ہے کہ آج سینیٹ میں یہ رہنما بننا چاہیے جو اپنی وعدوں میں کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ابھی تک پہلے سے بھی یہ ناکام رہ گئے تھے۔
میں تو اس بات پر غور کرتا ہوں کہ کیوں کہیں اور چلو جائیں اور ابھی تو پAKستان میں کچھ اچھا نہیں ہوتا؟