اجلاس میں اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کے بعد علامہ راجہ ناصر عباس نے اپنی پہلی تقریر کی جس میں انھوں نے اور وہیں قائد حزب اختلاف کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا معاملہ سینیٹ سیکریٹریٹ میں رکھ دیا تھا، اس کی وجہ عدالت کے عمل میں تاخیر تھی، اجلاس کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ سینیٹر راجہ ناصر عباس کو 32 میں سے 22 ارکان اپوزیشن سینیٹ کی حمایت حاصل ہے، انھوں نے اپنے نوٹیفیکیشن کے ذریعے قائد حزب اختلاف کو لیڈر آف اپوزیشن نامزد کرکے کہا کہ اس معاملے پر چیئرمین سینیٹ کی طرف سے پہلے سے ڈکلیئر کرنے کا اختیار ہے، اور انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ایسا معاملہ سینیٹ سیکریٹریٹ میں رہے گا اس کے لیے عدالتی عمل میں تاخیر کے باعث ہوئی اور اب چیئرمین سینیٹ نے یہ قرار دیتے ہوئے کہ قائد حزب اختلاف کے نوٹیفیکیشن پر عمل کرنے کو تیار ہو گئے ہیں تو ایسا معاملہ رولز کے مطابق اور عدالت کی ترغیب میں عمل میں آئے گا۔
اللامہ ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر ہوئے جس پر انھوں نے کہا کہ اگر آرمی چیف اپنی ڈومین میں چلے جائیں تو ان کے ہاتھ میں ہونے سے بچنے کی کوشش کریں گے، لیکن انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ملک میں عدل و انصاف قائم کرنا ضروری ہے، جس کے لیے ہم لاہور گئے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو تباہ کر دیا گیا تو یہ کیا ہوتا کہ دہشت گرد سے ملنے کی کوشش کریں؟
اللامہ ناصر عباس کے مطابق جس سے ملک مضبوط ہوتا ہے وہی بات ہے کہ لوگوں کو بولنا دیا جائے اور انھیں حراساں کیوں کرکے آپ نظام چلائیں گے؟ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے کے بعد علامہ راجہ ناصر عباس نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے کیسز نہیں چل رہے اور ان کے جیل سے رہائی کی ضرورت ہے، اس کے لیے صرف ایک واحد حل ہے جو عمران خان کی رہائی ہے اور یہ بات بھی نہیں پائے گا کہ بانی پی ٹی آئی کو آزاد کیا جائے گا، اس کے بعد انھوں نے اپنے خاندان سے بھی جنگ کی تجربت سے واپس آ کر اپنی فوج کے ساتھ جو کچھ دیا ہے اس پر بھی انھوں نے اہمیت عائد کردی ہے جس لیے انھوں نے آرمی چیف کو اپنی ڈومین میں چلنے سے باہم رکھنا پڑ سکتا ہے تو میرے خاندان کے لئے یہ بھی جاننا ضروری ہو گیا ہے کہ ان کے ہاتھ میں ہونے سے کوئی اچھا نتیجہ نہ ہو گا۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے پر علامہ راجہ ناصر عباس کی تقریر سے مل کر میرا خیال ہے کہ وہ ایک بہت ہی Fair اور Logical statements رہے ہیں، خصوصاً انھوں نے اپنے Statements میں عدل و انصاف کی ضرورت پر زور دیا اور اس کے لیے ملک کو گھومتے ہوئے چلانا پڑسکتا ہے، جیسے کہ لاہور میں انھوں نے اپنی گاڑیوں کو تباہ کر دیا گیا
انھوں نے آرمی چیف اور پی ٹی آئی کے کیسز کی بات بھی کہی، جس پر میرا خیال ہے کہ وہ ایک Logical اور Fair approach رہی ، خصوصاً انھوں نے آرمی چیف کو اپنی ڈومین میں چلنے سے باہم رکھنے کی بات کی، جس پر میرا خیال ہے کہ وہ ایک Good decision رہی
اچھا ہے کہ ایسا معاملہ رولز کے مطابق سینیٹ میں آئے گا، لیکن یہ بھی بات سچائی کو پہچاننے کے لئے اہم ہے کہ آپ کس معاملے پر توجہ دی رہے ہو؟ اس کے بعد آپ اپنی کوشش کی جگہ یہ نہیں چلا سکتے، پھر وہی معاملہ جو آپ کو دوسری بار سے پیش آتا ہے وہی چل جائے گا۔ اس لیے سچائی کے ساتھ عمل شروع کرنا اور اپنی طرف سے صرف ایک حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
یہ لگتا ہے کہ علامہ راجہ ناصر عباس کی رائے میں توجہ ساتھ بڑھانے کی ضرورت ہے، لیکن دوسری جانب ان کی باتوں پر ایک نظر رکھنا ضروری ہے۔ اس کے بعد یہ کہتے ہیں کہ عدالت میں تاخیر کے باعث معاملات تیز کرنے کی پالیسی سے نا آگاہی کو دور کرنا مشکل ہو گا۔
ابھی یہ بات کہنے کے لیے بہت زیادہ وقت لگ رہا ہے کہ انھیں جس سے ملک مضبوط ہوتا ہے وہی بات ہے... مگر وہ ایسی نہیں کیوں کہ لوگوں کو یقین دلاتا ہے کہ جب انھیں ہم گاڑیوں کو تباہ کر دیا ہوتا ہے تو اس کی سے بچنا ہی اس کا یہ عظیم معاملہ ہوگا؟
مگر انھیں جب تک پی ٹی آئی کے کیسز کو ملازم رکھنا پڑ سکتا ہے تو وہ ایسی بات کھانے لگتے ہیں جو اس وقت صرف انھیں دیکھنا ہوگا کیوں کہ لوگوں کو وہ یہ سچائی بھی نہیں ملتی ہوگی کیوں کہ جبکہ انھیں اپنی ڈومین میں چلنے سے باہم رکھنا پڑتا ہے تو وہ ایسی بات کھانے لگتے ہیں جو لوگوں کو کھیلتے ہیں اور ان کی زندگیوں پر بھی اس سے ناکام رہنے کی ترغیب دیتے ہیں...
مگر یہ بات بھی پہلی بار کہی گئی ہے انھیں جب تک وہ اپنی گاڑیوں کو تباہ کر دیتے رہتے ہیں تو وہ لوگوں کو یہ بھی نہیں ملتی ہے کہ انھیں جس سے ملک مضبوط ہوتا ہے وہی بات ہے...
@troll_tanha : یہ معاملہ بہت دلچسپ ہے! علامہ راجہ ناصر عباس کی بات سنی جاتی ہے، لیکن انھوں نے کیا عقل و منصوبہ کے ساتھ بڑا معاملہ اجاگر کیا؟ آئین کے مطابق چیئرمین سینیٹ کو 32 میں سے کسی نہ کسی سے کس قدر اکثریت حاصل کرنا پڑتی ہے، لیکن علامہ ناصر عباس نے اور اسی وہیں سے قائد حزب اختلاف کو اپوزیشن کی قیادت سونپ دی ہے؟ ابھی یہ بات بھی سنی جاتی ہے کہ پی ٹی آئی کے ملوث Individuals کو جیل سے رہائی دے کر ان کی ایک ایک صحت مند ذمہ داریوں پر واپس جانا پڑتا ہے!
اللامہ ناصر عباس کی بات پر غور کرنا تھوڑا ماحول کھانے کے برابر ہوتا ہے : ایسا کرونا ہی ضروری ہے کہ ملک میں عدل و انصاف قائم ہو جس کی بنیاد یہ ہو کہ لوگ اپنی بات کر سکیں اور کوئی بھی فرد ملک میں پابند نہ ہونے دے، اس کے بعد ہر شہری کو اپنے حق کی بات کرنے اور بھائی چارے کے نام سے نہیں آتے، تو یہ ایک پوزیشن کی ضرورت ہے جس میں لوگ اپنی بات کر سکے
ایسا تو بھی بات چیت کی ضرورت ہے کہ سینیٹ میں ایک رکن اپوزیشن سینیٹ کی قیادت کر سکتا ہے، لیکن یہ بات بھی بات چیت کی ضرورت ہے کہ اس معاملے پر صراحت اور تسریع کی ضرورت ہے تاہم علامہ راجہ ناصر عباس کی آواز سنی جاتی ہے، انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اگر آرمی چیف اپنی ڈومین میں چلے جائیں تو ان کے ہاتھ میں ہونے سے بچنے کی کوشش کریں گے، لیکن اس پر بات کرنا ضروری ہے تاہم میری رائے ایسا نہیں ہونا چاہیے جو کہ لوگوں کو خوفزدہ کریں گے
بہت سی غلطیوں کی وجہ سے اس معاملے پر ایک ہی طرح کا جواب نہیں ملتا... اور اگر وہ بھی ایک ہی طرح کا جواب مل جاتا تو بھی اچانک یہ پتا چلتا کہ کس بات کی بات ہوتی ہے؟
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کے بعد علامہ راجہ ناصر عباس نے ایک بڑی بات کہی جو پھر سے ایک دھچکہ لگا رہا ہے … آئے دن ان کی باتوں میں سے کوئی بات ہمیں سمجھنے میں نہیں آتی … اگر پی ٹی آئی کے مہلّوں کو جیل سے رہائی دے گئے تو یہ کیا ہوتا؟ ان کی باتوں پر ہمیں ایک دھنڈت لگتی ہے … وہ لوگ جو ان کی باتوں سے اچھی نہیں سمجھتے تو ان کا جواب یہ ہوتا کہ وہ پی ٹی آئی کے کیسز کی پالیسی کو ان کے لیے بھی بے کار دیکھ رہے ہیں …
اللامہ ناصر عباس کی بات سمجھی تو ایک دوسری بات بھی تھی کہ اگر سینیٹر کو اپوزیشن کا رکن بنایا جائے تو اور وہیں قائد حزب اختلاف کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا معاملہ سینیٹ سیکریٹریٹ میں رکھ دیا گیا ہوتا تو ایسا کام ہوا تو یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ چیئرمین سینیٹ نے یہ قرار دیتے ہوئے کہ قائد حزب اختلاف کے نوٹیفیکیشن پر عمل کرنے کو تیار ہو گئے ہیں تو ایسا معاملہ رولز کے مطابق اور عدالت کی ترغیب میں عمل میں آئے گا؟
یہ ایسا معاملہ ہے جس پر سینیٹ میں آوارہ حالات کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے اور اب چیئرمین سینیٹ نے ان کے نوٹیفیکیشن پر عمل کرنے کو تیار ہو گئے ہیں تو ایسا معاملہ رولز کے مطابق اور عدالت کی ترغیب میں عمل میں آئے گا، اس سے پہلے بھی 32 میں سے 22 ارکان نے اپوزیشن سینیٹ کی حمایت حاصل کی تھی اور علامہ راجہ ناصر عباس نے اپنے نوٹیفیکیشن کے ذریعے قائد حزب اختلاف کو لیڈر آف اپوزیشن نامزد کرکے کہا تھا، اب چیئرمین سینیٹ نے ان کی طرف سے پہلے سے ڈکلیئر کرنے کا اختیار ہے اور اس معاملے پر عدالت کے عمل میں تاخیر ہوئی ہے
لاکھوں سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی تعداد:
* اپوزیشن سینیٹ: 22
* اکثریتی جماعت سینیٹ: 10
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے کے بعد علامہ راجہ ناصر عباس کی حمایت کی تعداد:
* اہل حلقہ: 150
* غیر اہل حلقہ: 200
پی ٹی آئی کے کیسز کا جیل سے رہائی کے لیے ایک واحد حل عمران خان کی رہائی ہے، اس کے بعد انھوں نے اپنے خاندان سے بھی جنگ کی تجربت سے واپس آ کر اپنی فوج کے ساتھ جو کچھ دیا ہے اس پر اہمیت عائد کردی ہے
علاوہ راجہ ناصر عباس کی بیانیہ میں کیا ہوا اس پر بھی بات چیت نہیں کرنا چاہیے، انھوں نے اور وہیں سینیٹ کے چیئرمین کو اس معاملے پر واضح کر دیا کہ اگر آرمی چیف اپنی ڈومین میں چلے جائیں تو انھوں نے ان کے ہاتھ میں ہونے سے بچنے کی کوشش کریں گے، یہاں تک کہ انھیں ایسا لگتا ہے کہ جب لوگ اپنی आवاز ڈالنے کی کوشش کریں تو انھیں حراساں کر دیا جائے گا، مگر اگر ملک میں عدل و انصاف قائم ہوتا ہے تو یہ سب ناکام ہو جاتا ہے!
ابھی تک بھی نا پتہ چل رہا تھا کہ ڈاکٹر عمران خان کی کیسز میں سے کون فائر کرنے کو تیار ہو گئے ہیں اور اب یہ بھی صاف آچا ہے کہ وہ جیل سے رہائی پر کبھی بھی فیکٹر نہیں کیے گئے ہیں، اور اب جس شخص کو ان کا نوٹیفیکیشن ملا ہوا ہے وہ اپوزیشن سینیٹ کے لیڈر بن گیا ہے، یہ بات بھی نہیں پائی گئی کہ ان کی رہائی کا معاملہ کبھی تو فیصلہ ہو گيا ہے لیکن اب یہ ڈاکٹر عمران خان کی جگہ نہیں لینے والے اور ان کے وارس لوگوں کو دھمکی دینے والے شخصوں میں سے ایک ہے، اور اب انھوں نے پتہ چلا ہے کہ اگر آرمی چیف اپنی ڈومین میں چلے جائیں تو ان کے ہاتھ میں ہونے سے بچنے کی کوشش کریں گے، لیکن یہ بات بھی نہیں پائی گئی کہ ملک میں عدل و انصاف قائم کرنا اور ڈاکٹر عمران خان کو جیل سے رہائی دینا کیسے ممکن ہوگا؟
میں سوچ رہا تھا کہ پہلے انسپکٹر جنرل سے ملا کر ایک نئی گاڑی खरید کر لیتا ہوں اور اب اس پر غور کرتا ہوں کہ میں وہی گاڑی چاہتا ہوں یا کچھ ایسا ہو جس کی کیپٹن بھی رہی ہو