عمران خان کے اقتدار میں آنے والوں کو دوبارہ اقتدار میں آئیے، اس کی تائینات اس کی تابع بننے چاہیے
خوجہ آصف نے آپنی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ شaired ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان کی سیاسی مراشد کو دیکھتے ہوئے وہ چاہیں گے کہ اس نے دوبارہ اقتدار میں آئیں اور مملکت خداداد ان کی تابع ہوجائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ عمران خان کو اپنی سیاسی پرورش کرنے اور اس کو اقتدار میں لانے والوں کو پناہ دینے والوں سب چاہیں گے کہ وہ دوبارہ آئیں، جس سے مملکت خداداد ان کی تابع ہوجائے اور دوبارہ ان کا پالتو برسراقتدار آئے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ کی کوشش تھی، جس کے لیے جانی پھانسی کی گئی۔ وہ اس کے حصول کے مقاصد کے لیے یہ تنقید کیا کرتا ہے، لیکن اب انہوں نے کہا ہے کہ جب عمران خان کے دور میں ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو راتوں رات واپس بھیجا گیا۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ مئی 2025 میں جب ہندوستان نے حملہ کیا تو پاکستان نے فتح کی تاریخ رقم کی، دنیا حیرت زدہ رہ گئی کہ یہ وہی پاکستان ہے جو اس سے کچھ سال قبل واپس لایا اور پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ ہم ہندوستان سے جنگ کا رسک نہیں لے سکتے۔
خوجہ آصف نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ دشمن تاک میں ہے اور جاگتے رہنا ضروری ہے، اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہا ہے کہ باہربیثے نام نہاد پاکستانی، طالبان سے محبت بھرے مذاکرات کے حامی وطن عزیز کی ترقی اور امن کے دشمن ہیں، جو پاکستان کو معاشی استحکام اور محفوظ مستقبل سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔
عمران خان کی ایسے دور میں واپسی کے امکانات کچھ بھی نہیں کہم تینے... وہ ابھی اس کے خلاف تنقید کر رہے ہیں اور یہی کہتے ہوئے واپس آئیں گے... اگر وہ اپنے سیاسی مراشد کو دیکھتے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ مملکت خداداد اس کی تابع ہوجائے... لیکن یہ سب ایک گیم ہے جو پاکستان میں کھیلا جاتا رہے گی اور عوام کو بھی ایسا ہی محسوس ہوگی۔
عمران خان کے اقتدار میں آنے والوں کا وہاں یہ خیال تھا کہ انہیں اپنی سیاسی مراشد کو دیکھتے ہوئے اور ان کی تائینات اس کی تابع بننے چاہیے، حالانکہ عمران خان نے بھی کہا تھا کہ وہ دوبارہ آئیں گے اور مملکت خدادد ان کی تابع ہوجائے۔
اس سے پہلے عمران خان نے 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کا ایک خوفناک پlan بنایا تھا جس کے لیے جانی پھانسی کی گئی، اور اب اس پلاں میں جو نہیں ہوا تو یہ تنقید کی جا رہی ہے۔
لیکن دوسری طرف عمران خان کا دور جس نے پاکستان پر حملہ کیا تھا، وہ اس سے واپس بھیجا گیا اور پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ ہم ہندوستان سے جنگ کا ریسک نہیں لے سکتے۔ اور اب جب ہندوستان نے حملہ کیا تو پاکستان نے فتح کی تاریخ رقم کی، دنیا حیرت زدہ ہوئی۔
اس لیے یہاں ایک بات بھی ضروری ہے کہ باہربیثے نام نہاد پاکستانیوں کو وطن کے دشمنوں کی طرف اشارہ کرنا چاہے تو وہ طالبان سے محبت بھرے مذاکرات کے حامی تھے جو اب وطن کو معاشی استحکام اور محفوظ مستقبل سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عمران خان کی پہلی حکومت میں نیشنل کرائسٹ ایک گہرے مسئلے کے طور پر نظر آئی تھی جس سے بچا جا سکتا تھا، لیکن اب وہ دوبارہ حکومت میں آ رہے ہیں اور اس کی جانب سے نتیجہ کیا جائے گا؟ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کے حصول کے مقاصد کو یہ سب کچھ تھا، لیکن اب عمران خان کی حکومت میں ان کے بارے میں کیا کہنا؟
عمران خان کے اقتدار میں آنے والوں کو دوبارہ آئیے تو اس کی تائینات انہیں پناہ دینے والوں کے لیے بھی بننے چاہیے۔ اگر پاکستان اپنی فوج کو اچھی طرح سے تیار نہ کر سکے تو یہ کس طاقت کی تائینات بن جاتی ہے؟
اس دuniya میں جو بھی ہوتا ہے وہ ٹرول ہو گئے ہیں، کچھ لوگ اپنی حقیقت سے مہراب ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف فوج کی جانب سے بھی یہ ہوا ہے کہ کس قدر طاقت پکڑ لی گئی ہے۔
مگر وہ لوگ جو پاکستان کو ایک نئے دور میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کی یہ واضح بات سمجھنی چاہیے کہ اس جسمانی اور روایتی فوج کو ہم نے بنایا ہے اس سے بھی زیادہ خطرناک ایک باہری طاقت ہوسکتا ہے۔
اس لئے یہ تو حقیقت کہیں پر آ کر رہے ہیں کہ وہ لوگ جو پاکستان کو ایک نئے دور میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے لیے اس طاقت کی تائینات بننا ضروری ہو گا، اور یہی وہ معاہدہ ہوسکتا ہے جو پاکستان کو ایک نئے دور میں لانے کے لیے ہر طرح کی مہنتوں سے بھر پور ہو گا۔
عمران خان کی واپسی پر یہ پوچھنا کیا میں اسے دوبارہ وزیراعظم بنانے میں ہمت نہیں لیتا... چاہئے ان سے بات کرنے کے لیے میں بھی اپنی پالیسی بناتا ہوں... میرا خیال ہے کہ انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک رکن حکومت اپنی تائینت ڈھونڈتے ہوئے وہی دیکھیں گے کیونکہ ان کے پاس اور بھی سہولتیں ہیں...
عمران خان کی واپسی کی بات کرنے والوں سے پوچھو تو اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اگر انہیں پورے دور میں اپنی گaltiyon سے نمٹنا تعلقی کی اور دوسرے لوگوں کی نظر سے کھیلنا لگا تو حالات بہت مختلف ہوتے. اگر عمران خان نے اپنے وقت میں ایسا ہی کیا تو اس کا خلاف پہلے ہی انٹرنیٹ پر جاسوسین اور معاشرہ کی جانب سے چارے پہاڑ تھے. اس وقت بھی وہ ایسے نہیں ہوگا جیسا کہ انہوں نے اپنے دور میں کیا ہوگا۔
عمران خان کو اپنی سیاسی مراشد پر وہی دیکھنا ہو گیا جیسا کہ وہ بہت سے لوگ دیکھ رہے ہیں... نہ صرف ان کی لگن اور جذبہ بلکہ وہی سیاسی پالیسیں جنہوں نے انہیں پہلے بھی فوجی تنصیبات پر حملے میں رکھا تھا... اب ان کی واپسی کو کبھرنا ہوگا اور اس سے دوسرا پاکستان جسے انہوں نے مملکت خداداد قرار دیا تھا وہ پھر بھی باقی رہ جائے گا...
عجیب عجیب بات یہ ہوگی کہ اس وقت کی política میں ایسی آگ لگ رہی ہے جس سے مملکت خداداد کا دور دوبارہ سُکھدا ہوگا. آپ کو کیا لگتا ہے کہ Politics میں کتنی آگ لگ رہی ہے؟ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ کی کوشش تو انساف کا سارث نہیں ہوا، اور اب اس سے ان کا مقصد ہمارے لیے کیا?
عمران خان کے بارے میں لوگوں کی بات کرنے والے عمری بھی ٹھیک ہیں، وہ 9 مئی پر فوجی تنصیبات پر حملہ کرکے جانی پھانسی لگا دی گئی تھی، وہ اس کے حصول کے مقاصد کے لیے بھی ٹھیک ہیں اور عمران خان کے دور میں ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو راتوں رات واپس بھیجا گیا، اب مملکت خداداد اس پر ایک پالتو برسراقتدار بنائے گا
عمران خان کی حکومت میں واپس آئے تو ایسی حالات پیدا ہوگیں جو پاکستان کے لیے بہترین نہیں ہوں گے، اس لیے انہیں اپنے عمل کو دیکھتے ہوئے اچھی جانب لگنا چاہیے، خوجہ آصف کی بات سے تو معاف کروئیں، اس کے بعد کیا ہوگا وہ پتہ چل جائے گا
عمران خان کے واپس آنے کی بات سونے کی لگتی ہے... پھر بھی اگر وہ دوبارہ حکومت میں آئیں تو ان کے پاس یہ چال چلائی کرنا ہوگی کہ مملکت خداداد ان کی تابع ہوجائے... اسے سمجھنا ضروری ہوگا کہ ایسا نہیں ہوسکے گا... اور یہ 9 مئی کی جانی پھانسی میں ان کے مقاصد کے حوالے سے بھی انہوں نے غلطی کہی ہے... لیکن وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو اس سے بھاگنا ہی پڑا... اور اب جب مملکت خداداد ان کی تابع ہوجائے تو اس وقت تک وہ ایسے نہیں کریں گے...
عمران خان کی حکومت میں آئنے والوں کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن یہ بھی ایک پہلہ ہے جو انہیں اپنی حکومت میں رکھنا پڑی ہو گا۔
عمران خان کے دور میں ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو وہاں کی فوج نے دوسری بار انہیں واپس بھیجا، اب 9 مئی کو ایسی طرح کی کوشش کی گئی تو اس سے پتہ چalta ہے کہ عمران خان کی حکومت میں آئنے والوں کو یہ پہلہ کرنا پڑی ہو گا۔
عوام کی رائے اس پر کیا ہوگی کہ جب عمران خان دوبارہ میئر بننے چاے تو انہیں ایسے دھندلے سیاسی اور ملکی امور سے نجات ملاungi۔ اس سے پورا پاکستان یقیناً لاشک کا شکار ہوگا۔
عمران خان کی واپسی کے حالات میں میری دل کی بات یہ ہے کہ اس کا پالتو برسراقتدار ہونا ایک بد عرصہ کی بات ہے، میں تھوڑی سے بھی محترمیت کے ساتھ کہتا ہوں گا کہ عمران خان کو اپنی نہائی پرورش دی جائے اور اسے ایک بڑے عطیہ والے شہزادے کی حیثیت سے دیکھا جائے، تاہم واپسی کے حالات میں یہ بات ہی صحت مند نہیں ہوگی اور یہ اس پرستش اور انسانیات کی بات ہوگی جو پاکستان کو اس قدر تھیٹر بناتی ہے، عمران خان کی تائینات کا انکشاف ہونا ایک بد عرصہ کی بات ہے، لیکن یہ بات بھی صحت مند نہیں ہوگی کہ واپسی کے بعد اس کو پناہ دینے والوں کو مجبور کرنا چاہئے اور انہیں اپنے حقدار کی بات نہیں کہنا چاہئے، میری نظر میں یہ معاوضہ ایک بد عرصہ اور خوفناک صورتحال ہوگا
اس وقت کی سیاسی صورتحال کو دیکھتا ہے تو لگتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی پہچان سے پریشانی ہوئی ہے۔ عمران خان کے دور میں بھی کئی تحریریں بھی گئیں اور دوسرے political partyz ko bhi پکڑا گیا لیکن اب انہوڰ کو پھر سے ہاتھ لگنا پڑ رہا ہے اور یہ بات بھی پچھتے ہیں کہ انہیں دوبارہ اقتدار میں آئیں تو کیا حال ہوگا؟
عمران خان کے اقتدار میں آنے کی بات دیکھ کر میرا خیال یہ ہے کہ وہ اس وقت دوبارہ آئیں تو پھر بھی ایسا ہوا کہ سارے لوگ اس پر چھمک گئے اور ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ وہ مجھے اس کی تابع بناتے رہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ عمران خان کو ایسے لوگوں کی پناہ دینے کی ضرورت نہیں ہے جنہوں پر اس کا اعتماد ہو، بلکہ وہ اپنی سیاسی پرورش کرنا چاہیں گا اور لوگ اس کی تابع بننے لگتے رہتے ہیں۔
عمران خان کی واپسی کا ایسا موڈرن لیکس بھی ہو سکتا ہے جو 90 کی دہائی کے انتہا پسند تحریکوں کی طرح لوگوں کی توجہ اور متحرکیت کو نہیں برقرار رکھ سکتا، اس لیے انہوں نے اپنی polítکی پریشانیوں کا ایسا سامنے لایا ہے جو ہر ایک کو سنجیدگی اور توجہ سے پڑھنا ہوتا ہے۔
مگر اس طرح کے سیاسی کھیل جاری رہتے ہیں، کیونکہ وہ جو 9 مئی پر فوجی تنصیبات پر حملے میں شہید ہوئے، ان کی یاد کو بھی اس طرح کے سیاسی منظر ناموں سے پریشانی پہنچانے سے بچایا جا سکتا ہے۔
اس لیے باقی لوگ اور وہ جو دیکھنا نہیں چاہتے ان کے ساتھ، یہی تھوڑا جہاں وہ جانی پھانسی کے بعد ہندوستان پر حملہ کر سکتے تھے اور اس نے پاکستان کو واپس لےایا، وہی ہدایت سے ایک بار فیر اور ہجوم بھی کرسکتے تھے۔