عراق میں لاکھوں بھارتیوں نے اسرائیل کے خلاف ایسے جاسوسی کیے ہیں جو نئی تاریخ میں سب سے واضح اور خطرناک ہیں۔
مہند سلومی، اسکول آف سیکیورٹی اسٹڈیز کے ایڈیٹرل بورڈ کی ایک بھارتی شعبہ دار، نے قطر میں ایک انشعاع کے ایونٹ میں بتایا کہIraqمیں لاکھوں ہندوستانی شہری اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت میں تقریباً 15 لاکھ سے زائد افراد اسرائیل کے خلاف جاسوسی کر رہے ہیں، جو ان کے صحت اور عراقی فوج میں بھی جاسوس گھوستے ہیں۔ یہ جاسوسی انتہائی خطرناک ہے اور اسرائیل کی ایک خطرناک پریشانی بن گیا ہے۔
مہند نے مزید بتایا کہ ان اداروں میں صفائی کرنے والی عملے تک بھی اسرائیل کے لیے جاسوسی کر رہے ہیں، جو اس کے لئے ایک خطرناک تجربات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ممکن ہوا کہ بھارت Iraqمیں اسرائیل کو دوست ملک سمجھتا ہے، جس سے انہیں اسرائیل کے خلاف اپنی جاسوسی کرتا رہنا آسان ہوتا ہے۔
مگر یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ بھارت نے اسرائیل کی قومی صحت پر بھی اپنا اثر ڈال دیا ہے، اسلہ ایک اور شعبہ ہے جس میں اس نے اسرائیل کے خلاف اپنی جاسوسی کر رہی ہے۔
بھارت کی اس جاسوسی نے اسرائیل کو بھارت سے باہر انہیں ایک ایسی خطرناک پریشانی دی ہے جو کہ اس کی قومی سلامتی پر گھیر لگا ہے۔
امہانے وامہ، Iraqمیں لاکھوں بھارتیوں نے اسرائیل کے خلاف جاسوسی کرنے کے بارے میں بات کی گئی ہے اور یہ سچ ہے ان میں سے اکثریت بھارت کی شہریوں میں شامل ہیں جنہوں نے اسرائیل کے خلاف اپنی جاسوسی کرنے کی پوری کارروائی شروع کر دی ہے۔
جیسا کہ Qatar کی ایک تقریر میں بتایا گیا تھا کہ 15 لاکھ سے زائد افراد اسرائیل کے خلاف جاسوسی کر رہے ہیں اور یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ ان میں سے اکثریت بھارت کی شہریوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی جاسوسی کرنے کو شروع کر دیا تھا۔
جبکہ اس کے علاوہ ان اداروں میں صفائی کرنے والی عملے تک بھی اسرائیل کے لیے جاسوسی کر رہے ہیں جو اس کے لئے ایک خطرناک تجربات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
جبکہ بھارت اور اسرائیل کے مابین یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ایسا کیا جا رہا ہے اس پر انھوں نے اپنی جاسوسی کرنے کی پوری کارروائی شروع کر دی ہے اور اب وہ اسرائیل کو بھارت سے باہر ایک ایسی خطرناک پریشانی دے رہے ہیں جو اس کی قومی سلامتی پر گھیر لگا ہے۔
ایسے نئے وقت میں بھی اسرائیل کو ایک ایسی خطرناک پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے وہ اپنی قومی سلامتی کے بارے میں پھیپھڑے محسوس کر رہا ہے۔ لاکھوں بھارتی شہری جو اسرائیل کے خلاف جاسوسی کر رہے ہیں، یہ واضح ہو گیا ہے کہ انہیں بھارت میں سے نکل کر Israel کی جاسوس گھوسٹوں کو دیکھنے کے لئے عراق میں جانا پڑتا ہے اور یہ بھی واضح ہوا ہے کہ انہیں Iraqمیں بھی اپنی جاسوسی کرنے کی کوئی رکاوٹ نہیں پڑتی، یہ ایسا تو حقیقت میں تھا کہ انہیں Israel کے خلاف اپنی جاسوسی کرنا ہمیں بہتر دیکھنے کے لئے اور اب بھی وہی ہوتا رہا ہے۔
ایسا کہنا بہت ہی چنجنڈہ ہے کہ عراق میں لاکھوں ہندوستانی شہری اسرائیل کے خلاف جاسوسی کر رہے ہیں، یہ تو پوری طرح ایک خطرناک س्थितہ ہے۔ اس کے بعد بھارتیوں میں سے کیسے لوگ اسرائیل کے خلاف جاسوسی کر رہے ہیں، یہ بات تو واضع طور پر جاننی چاہئیے۔
ایک اور بات یہ ہے کہ 15 لاکھ سے زائد افراد اسرائیل کے خلاف جاسوسی کر رہے ہیں، اس میں بھی شامل ہونے والے لوگ بھی شامل ہیں جو عراق کی فوج میں کام کر رہے ہیں۔ ان جاسوسوں کو ابھی تو بھارت کی صحت اور اس کی قومی سلامتی پر اثر پڑنے کی بات کرتے رہتے ہیں، لہٰذا یہ بھی ایک خطرناک صورتحال ہے۔
عرب دنیا میں اسرائیل کے خلاف جاسوسی کی بات آ رہی ہے، لیکن یہ جاننا اچھا ہو گا کہ اس میں وہ ملک شامل ہیں جنہیں ایسے اقدامات سے قبل سے خود انہیں اسرائیل کے خلاف جاسوسی کرنا پڑتا تھا۔
جاسوس گھوستوں کی تعداد میں اضافہ کرنے سے فائدہ ہوا نہیں، بلکہ یہ صرف ایسے ملکوں کے لئے خطرنا ہے جنھوں نے اپنی قومی سلامتی کو ایک اور سے بھرپور بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اسلام کے بعد اسرائیل میں شاہدین، ایجنٹس اور جاسوس گھوستوں کی تعداد کو بہت زیادہ سمجھنے کے لئے ہم اس بات سے پچتنا چاہیں گے کہ اسرائیل میں کس طرح ان کے پاس یہ طاقت ہے۔
مرحباً یہ خبر بہت عجیب ہے، بھارت میں لاکھوں افراد اسرائیل کے خلاف جاسوسی کر رہے ہیں۔ واضح طور پر دیکھنا مشکل ہو گا کہ انھیں Israel کے ساتھی نہیں توہتے ہیں؟ آپ کو یہ خیال کیا چاہئے یا نہیں کہ اسرائیل کی حکومت اپنی قومی سلامتی کے لئے اچھی طرح سے تیار ہو گئی ہے؟
بھارتیوں نے اسرائیل کے خلاف جاسوسی کرنا ایک خطرناک کوشش ہے، لیکن یہ سوچنا بھی خطرناک ہے کہ ان کی یہ کوشش عراق میں اور وہاں کی فوج میں بھی ہے؟ یہ ایک خطرناک کہیں تک چل گئی ہے؟