عوام الناس کے مسائل | Express News

گینڈا

Well-known member
شہر کو پانی نہ ہونے کی وجہ سے آئے دن چھوٹی چھوٹی لڑائیاں اور احتجاج سر عام ہوتا دکھایا جاتا ہے کہ جوں رینگتی ہے وہی نہیں، کیونکہ گزشتہ دنوں پانی کے ستائے ہوئے لوگ پمپنگ اسٹیشن پر دھاوا بولتے ہوئے ان لوگوں نے حالات کو کنٹرول کر لیا اور وہ بھی پانی کا چھڑکاؤ بھی کر سکتے تھے، کیونکہ بے چاری پریشان حال خواتین کو یہ ظلم بھی برداشت کرنا پڑتا ہے اور احتجاج میں خواتین کی تعداد دو یا تین گنا زیادہ تھی۔ علامہ اقبال کا شعر یاد آتا ہے:

"پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے تو من تیرا نہ تن"

جیسا ہوا دکھایا جاتا ہے، اس وقت دورہ بے رحمی اور بے حسی ہے جس میں احساس مرگیا ہے اور غیرت کا جنازہ نکال دیا گیا ہے، پانی پانی ہونے کا سوال نہیں ہوتا ہے۔

ابھی شہریوں نے ایک بار پھر تجاوزات کو سرکاری طور پر منع کرنے کی मانگ رکھی اور کمشنر کراچی نے اعلان کیا ہے کہ سڑکوں پر قائم۔ دکانوں کو سیل کر دیا جائے گا، ان کے بھی میز کی ڈگٹ نہ ہونے والی مہلت ملے گی اور وہ اپنے اطراف کے نوجوانوں کو گرم گرم چائی فروخت کر سکتے ہیں، ساتھ میں پراٹھے بھی۔

شہر کو پانی نہیں ملنا اس کی ایک عجیب و غریب زندگی ہے جس میں لوگ دکاندار اور ہوٹل والے سب ساتھ کھیلتے ہیں، حقیقی طاقتوں کا مظاہرہ کرنے والے بڑے ڈیرے میں وہ اپنی بھلائی کی گیند کھیلتے ہیں اور شہریوں کو پانی خریدنے کی ضرورت سے آگاہ کرتی ہیں جبکہ وہ اپنی بھلائی کے لئے اپنا حیرت خیز تعلقات بناتے ہیں اور پانی خریدنے کو چھوڑ دیتے ہیں۔

اس طرح شہر میں زندگی ایک جملے کے لیے ہے:

"تم کو رقبہ ملے ہیں ورثے میں
تم نہ سمجھو گے، بے گھروں کا دکھ"

زندگی کی یہ عجیب و غریب زندگی ایک پانی کی خالی جگہ پر ہے، جہاں لوگ اپنی حیرت خیز مہلتوں میں محض رہ کر اور گھنٹیوں سے کھانا پینے کی زندگی بھی نہیں جاسکتی ہے، اس لیے ان لوگوں کو شہر کو پانی ملانے کی ہمیشہ کی ضرورت ہے اور اس کا یقین رکھنا بھی اہمیت رکھتا ہے۔
 
یہ واضح ہو چکا ہے کہ شہر کو پانی نہ ملنا ایک زندگی کی گہری کمزوری ہے، جہاں لوگ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ہی معاشرے کی زندگی میں بھی انحصار کر جاتا ہے
 
اس دuniya میں ہر جگہ لوگ اپنی ہتیجتوں پر لے کر لڑائی لڑ رہے ہیں، ابھی اسی شہر نے بھی اس کی بدولت دکھایا ہے، حالانکہ اس میں سے کچھ لوگ پانی خریدنے جاتے ہیں لیکن ان کو اس بات پر یقین نہیں رہتا کہ وہ کتنی کمزور اور ناقص ہیں، حالانکہ ان کی غلطیوں کی وجہ سے شہر کو پانی ملنا مشکل ہوتا ہے۔
 
شہر میں پانی کی قلت نہ صرف لوگوں کی ملازمتوں کو تیز کر رہی ہے بلکہ یہ بھی دکھایا جاتا ہے کہ شہر میں کس قدر غالب و غمندہ ہونے والے لوگ ہیں، خاص طور پر بے چاری خواتین جو اپنے پریشان حال زندگی کی وجہ سے مظلم اور ظلم کا سامنا کر رہی ہیں।

یہ بات واضح ہے کہ اس شہر میں موجود تعاون اور سمجھداری نہیں ہے، حالانکہ یہ لوگ اپنی بھلائی کی گیند کھیلتے ہوئے شہریوں کو پانی خریدنے کی ضرورت سے آگاہ کر رہے ہیں، لیکن وہ خود ان لوگوں کی بھلائی کے لئے اپنی زندگیوں کو جاری رکھتے ہوئے پانی خریدنے کو چھوڑ دیتے ہیں۔

اس لیے یہ بات ضروری ہے کہ شہر میں پانی کی قلت کو حل کرنے کا سدیک کام کیا جائے، جو اس وقت تک نہیں ہوگا جتنا کہ شہریوں نے اپنی زندگیوں کو اس وادھے میں قائم رکھ دیا ہو۔
 
علاواہ سے یہ بھی کہ لوگ پانی کی قلت کی وجہ سے دوسرے لوگوں پر نیند کرنے کو مجبور ہو جاتے ہیں، اس کا جواب نہیں کہ لوگ ایسے محسوس کرتے ہیں.
 
سڑکوں پر دکانوں کو سیل کر دیا جائے گا تو وہ اپنے اطراف کے نوجوانوں کو گرم گرم چائی فروخت کر سکتے ہیں، اس سے ان کی معاشی صورتحال بھی بہتر ہو سکتی ہے।
 
شہر میں پانی نہیں ملنے کا سوال یوں ہی نہیں رہے گا، وہ لوگ جو اسے چھوڑ دیتے ہیں وہ اچھے سمجھتے ہیں ، اور یہ سائنسی طور پر بھی یقینی ہے کہ شہر کو پانی ملنا ایک معاشی اور ثقافتی ماجاہد کا مشن ہے، اس لیے یہ محسوس کرنا بھی ایک معقول بات ہے کہ جو لوگ شہر میں پانی نہ مل رہا ہے وہ سڑکوں پر دکانوں کو بھی سیل کرتے ہیں، اس لیے یہ بات ایک حقیقت بن جاتی ہے کہ شہر کی زندگی کچھ ناچ نچاتا ہے، اور پانی ملنے سے اس جھگڑے کو ختم کیا جا سکta ہے۔
 
میں سمجھ سکتا ہوں کہ شہر میں پانی نہ ملنا ایک شدید معاملہ ہے، اور لوگ دوسروں پر یقین کرنے لگتے ہیں، وہ لوٹتے ہیں کہ پانی کیسے ملے گا؟ لیکن یہ بات سمجھنی چاہئے کہ شہر میں زندگی ایک جملے سے ہے: "تم کو رقبہ ملے ہیں ورثے میں تم نہ سمجھو گے، بے گھروں کا دکھ" یہ شہر کی زندگی کو ایسا محسوس کرائیں جو اس کی زندگی کو پانی سے بھری دکھائی دے۔
 
عجیب ہے نہیں، لوگ دکاندار اور ہوٹل والے کھیلتے ہیں تو اچھا ہوتا ہے، مگر پانی کی قلت میں لاکھوں لوگوں کو تنگ آتا دکھایا جاتا ہے تو اس سے عجیب کیسے ہوتا ہے؟
 
جی، شہر میں پانی کی کمی نہیں صرف لوگوں کو تنگ اٹھانے کا مظاہرہ کرتی ہے بلکہ یہ اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ شہری زندگی ایک چھوٹی سی جگہ پڑھی جاسکتی ہے جو کہ صرف رات کو سونے والے کے لئے ہوتی ہے، کچھ واضح کیا نہیں تھا؟

🤔
 
شہر سے نکل کر گریوں میں پانی نہ ملنا تو یہ ایک اچھا واقف تھا کہ لوگ بھی گھروں کی فصیلوں پر ٹھہر کرتے اور پانی کی رات کو لیتے تھے، لیکن اب جب شہری گریوں میں ہی رہتے ہیں تو یہ بھی ایک ماحول بنتا ہے جس میں لوگ پانی کا استعمال نہیں کر سکتے، اس لیے شہر میں رہنے والوں کو یہ ضرورت ہے کہ وہ اپنی ایسی زندگی سے لائے جو پانی بھی مل سکے اور یہاں کے شہریوڰ کو گھروں کی فصیلوں میں لپٹ کر رہتے ہوئے نہیں سلاخا جاسکے
 
پانی کی خالی جگہ پر لوگ ایسے ہی رہتے ہیں جنہیں پانی کا کچھ نہیں ملتا تو لڑائیوں میں بھی گھومنا پڑتا ہے اور وہ لوگ جو پانے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں ان پر دباؤ دیا جاتا ہے، حالانکہ پانی کی قلت نے وہ لوگ بھی شام کو گھر میں بیٹھ کر پانی پینے والوں سے کھانا چھڑکتے ہوئے دھنڈویوں کی آواز سنائی دی ہوتی ہے۔
 
میں پریشان ہوں جب میں سمجھتہ ہوں کہ شہر میں لوگ اس طرح اپنی زندگی گزار رہے ہیں، لیکن یہ بھی دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی زندگی کو پانی ملنا اور ان کا جائیداد سچے معشوق تھوڑا بھی ہوا کروٹی میں ہے ہر ایک کی ضرورت ہے ہر انسان کو اپنی زندگی کا احترام ملنا چاہئے
 
شہر میں پانی نہیں ملنے کی سٹریو تھیٹر ہے جہاں لوگ اپنی حیرت خیز مہلتوں میں محض رہ کر اور گھنٹیوں سے کھانا پینے کی زندگی بھی نہیں جاسکتی ہے، یہاں لوگ اپنی بھلائی کے لئے اپنا حیرت خیز تعلقات بناتے ہیں اور پانی خریدنے کو چھوڑ دیتے ہیں، یہ شہر ایک جملے کے لیے ہے:

"تم کو رقبہ ملے ہیں ورثے میں
تم نہ سمجھو گے، بے گھروں کا دکھ"

مری Opinion: یہ شہر ایک پانی کی خالی جگہ پر ہے، جہاں لوگ اپنی حیرت خیز مہلتوں میں محض رہ کر اور گھنٹیوں سے کھانا پینے کی زندگی بھی نہیں جاسکتی ہے، اس لیے ان لوگوں کو شہر کو پانی ملانے کی ہمیشہ کی ضرورت ہے اور اس کا یقین رکھنا بھی اہمیت رکھتا ہے. 🤕
 
پانچ سالوں سے شہر کو پانی نہیں مل رہا، اس کی ایک اور عجیب زندگی ہوئی جس میں لوگ خود ہی اپنے حیرت خیز تعلقات بناتے ہیں اور شہریوں کو پانی خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔

مگر یہ بات صاف ہے کہ لوگ اس جہاں بھی چلتے ہیں اپنی زندگی کے لئے کوشش کرتے ہیڹ، اور اگر وہ اپنی زندگی کو منفی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو ان کا یہی نتیجہ اٹھتا ہے، شہر میں لوگ اپنے لئے بہت کچھ کرتے ہیں وہ لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیڹ ان کو نتیجہ ملتا ہے۔
 
یہ تو دکانداروں کے لئے بھی اپنی ضرورت ہوتی ہے، پانی خریدنے سے نہیں بلکہ پریشان حال خواتین کی مرضی پر بھی ان کا ایسا جواب ملا ہے کہ اب یہ دکاندار لوگ اس شہر کو ایک پانی کی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور وہ اپنی ضروریات پر ایسا انشورنس کر سکتے ہیں کہ اب یہ خواتین کو بھی پانی مل جائے گا۔
 
اس شہر میں پانی کی صورتحال کا یہ دورہ جس سے لوگ خواہ و خواہ بھاگتے ہیں، ان کے لیے شہر کو پانی ملانے کی ضرورت نہیں ہی کہیں تھوڑا سا آڑیاں جگاتنے کے لئے، ایسے ماحول میں بھی زندگی کیسے چل سکتی ہے، یہ سوال منظر عام پر لایا جائے، اس شہر کی فوری سہولتوں کو یہ کس طرح بنانے کی ضرورت ہے؟
 
Wow! 🤯 لوگ انحطاط میں گھومتے ہوئے بھی خود کو محفوظ سمجھتے ہیں، ساتھ ہی شہر کا ایسا حال ہے جیسا کہ کچھ لوگ اسے پانی کے ساتھ نہ رکھیں تو اچانک سارے لوگ بھاگ جاتے ہیں! 😂
 
جب تک شہر میں پانی کی کمی نہیں ہوتی، لوگ ایسا کھیلتے ہیں کہ جیسے انہیں یہ جانتا ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو کچل رہے ہیں اور اس سے نتیجہ بھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگ دکاندار اور ہوٹل والے سب پانی کی کمی پر چلتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف لڑتے ہیں، ایسا بھی کیا جائے گا؟
 
یہ شہر کتنی تنگ کر دیا گیا ہے، پانی کی گنجائش نہیں رہتی تو وہ لوگ کس طرح بھوک سے مارے جائیں؟ اس پر غور کرنا چاہئے کہ کیسے اچانک سیل کر دیا جائے گا، اس کے بعد ان لوگوں کو یہ دیکھنا آگاہ کن ہو گا جو پانی خریدنے کی ضرورت سے آئیں ہوئے ہیں کہ اب وہ جسمانی طور پر اور مानसیکی طور پر کیسے ٹھیک ہوں گے؟
 
واپس
Top