پاکستان میں پانی کی قلت کا مسئلہ، عوام کو صاف پانی کی فراہمی کی ترجیح ہی ہے
پارلیمانی سیکرٹری میر لیاقت لہڑی نے عوامی مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی جیسی بنیادی سہولت کی فراہمی حکومت اور متعلقہ محکموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے
عوام کو صاف پانی کی فراہمی کی ترجیح ہی ہے
جس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، عوامیVASا کے بلز بروقت جمع کرنا چاہئے تاکہ محکمے کو کام کرنے کا موقع مل سکے
پارلیمانی سیکرٹری میر لیاقت لہڑی نے عوامی مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی جیسی بنیادی سہولت کی فراہمی حکومت اور متعلقہ محکموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے
انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ پانی اور ٹیوب ویلز سے متعلق مسائل کو ترجیحي بنیادوں پر حل کئے جائیں اور اس ضمن میں عملی اقدامات کیے جائیں
میر لیاقت لہڑی نے عوام سے بھی کہا ہے کہ وہ بروقت اپنے واجب الادا بلز جمع کرنا چاہئے تاکہ محکموں کو کام کرنے کا موقع ملے اور عوامی مسائل کو مؤثر طریقے سے سمجھیں اور حل کیے جا سکائیں
انہوں نے کہا کہ عوام اور اداروں کے باہمی تعاون سے ہی پانی کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے
ہر سال اچھی طرح پانی کی قلت کے متعلق بات چیت کرتی ہیں، پلیٹ فارم پر اور فون پر بھی تھی، اب تو سارے معاملات کو اچھا سمجھنے کے بعد انہوں نے ہدایات دی ہیں
پانی کی قلت یہ ایک عجیب بات نہیں ہے، اس کی حل کی ضرورت ہے؟ حکومت اور اداروں کی ایسی مشترکہ ذمہ داری ہونا چاہئے جس سے عوام کو صاف پانی کی فراہمی ہو سکے۔ اس کے لیے کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرنی چاہئے، بلز بروقت جمع کرنا چاہئے تاکہ محکمے کو کام کرنے کا موقع مل سکے۔
بھارتی صارفین کو تو یہ ملتا ہے کہ وہ اپنی صارفیت کے درجے میں پانی کی رسائی کا بڑا مظالم سہی، لیکن ہمارے ملک میں عوام کو صرف ایک چیز کا لازمی حق دیا گیا ہے جس کو کچھ لوگ ذہن میں نہیں رکھتے، وہ ہے صاف پانی کی رسائی۔
اس کے ساتھ ہی ان سے بھی کیا ناکام نہیں ہوتا کہ انہیں اپنی شہرت کے درجے میں پانی کی رسائی کا عظیم مظالم دیکھنا پڑتا ہو
یہ بات حقी کے ہے کہ پانی کی قلت پاکستان میں ایک بڑی مسئلہ ہے، لیکن عوام کو صرف صاف پانی کی فراہمی کی ترجیح ہی ہے تو نہیں کہ عوام اپنی وجب الادہ بلز جمع کرنا چاہیں اور محکموں کو کام کرنے کا موقع ملے تاکہ یہ مسئلہ حل ہو جائے
پانی کی قلت میں عام لوگوں کو سہولت کی ترجیح دینا۔ حکومت اور دیگر محکموں نے مشترکہ ذمہ داری بھی لی ہوگی تو یہ حل ہو جائے گا.
جب تک ہمارے پاس یہ کافی رات ہو، تو یہ معاملہ حل ہوجائے گا.
یہ بھی بات کوں کے ساتھ بلیٹ مار نہیں کرنا چاہئے بلکہ وہ ایسے لوگ تھے جو اپنے شہر کے باہر رہتے ہیں ان کی یہ بات کو ہو سکتی ہے اور ان میں سے کسی ایک کو یہ بات کو سمجھنا چاہئے کہ ان کی آدھی دھرتی پانی نہیں مل رہا.
تھکاوٹ نہیں، ہر سال پانی کی قلت کا مسئلہ ہی دیکھتا ہوں... آب پاشی کو بھی چیلنج سمجھتا ہوں اور اچھی طرح سمجھتے ہوں کہ یہ معاملہ کس کی ذمہ داری ہے... عوام ہی نہیں بلکہ حکومت اور محکموں کا بھی یہ کام ہوتا ہے... لیکن یہ بات صاف پانی کی فراہمی پر توجہ دیے بغیر اس بات کو چھپائی نہیں جاتنی چاہئیں کہ عوام کو ٹیوب ویلز اور آب پاشی سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے... یہ تو بہت تھکاوٹ دیتا ہے!
پاکستان میں پانی کی قلت کو دیکھتے ہی جس بھی چیز کی ذمہ داری سمجھنا مشکل ہے، حکومت اور مینجمنٹ کا تعلق ہی نہیں بلکہ عوام کا بھی یہ کردار ہے جو پانی کی قلت کا حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے
جب تک عوامیVASA کے بلز سے انفراسٹرکچر کو بروقت جمع نہیں کیا جاتا تو ان محکموں میں کام کرنے کا موقع نہیں ملتا اور عوام کے لوگ پانی کی قلت کے بارے میں تشویش رہتے ہیں، یہ بھی ایک کाम ہے جو عوام کو کرنا ہو گا، یہ ایسا تو ہو گیا کہ عوام اور مینجمنٹ کے درمیان ایک تعاون ہونا چاہیے تاکہ پانی کی قلت سے نجات مل سکے
دھارنے میں یہ بات کو ہم سب کھو دیتے رہتے ہیں، لہٰذا حکومت اور مینجمنٹ سے پہلے عوام کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے واجب الادا بلز جمع کرکے ان محکموں کو کام کرنے کا موقع ملے تاکہ وہ پانی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملا سکے
پاکستان میں پانی کی قلت کا مسئلہ تو ایک بڑا مسئلہ ہے، لیکن یہ بات کھل کر سمجھنی چاہئیے کہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی کی ترجیح ہی ہوگی، کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، مگر ایسا نہیں، عوام کو اپنے واجب الادا بلز جمع کرنا چاہئے تاکہ محکموں کو کام کرنے کا موقع مل سکے...
یہ بات کی تو صاف پانی کی ملکیت ہونا چاہئے، لیکن وہ کس کو ملتا ہے؟ عوام کو لگتا ہے کہ ادارے اپنے کام پر نہیں آ رہے، انھیں وقت بھر کا عمل کرنا چاہئے تاکہ وہ پانی کی کوٹاہی سے محو ہو جائیں اور عوام کی صاف پانی کی ضروریات کو پورا کر سکائیں... لگتا ہے کہ صرف اپنے وقت بھرنا نہیں، وہ بھی وقت اٹھا کر ان سہولتوں کو حاصل کرنا چاہئے جو عوام کی ضرورت ہیں...
پاکستان میں پانی کی قلت کا مسئلہ بہت بھارپور ہے، عوام کو صاف پانی کی فراہمی اور اس کے لئے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے... یہ سچ ہے کہ عوامیVASA کے بلز بروقت جمع کرنا چاہئے، اس طرح محکموں کو کام کرنے کا موقع مل سکta hai.
جب تک عوام اپنے واجب الادا بلز اور ضروریات جمع نہیں کر رہے تو پانی کی قلت کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا... یہ سمجھنا بھی ہمیشہ ضروری ہے کہ پانی کی فراہمی حکومت اور متعلقہ محکموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس پر آپسی تعاون اور موثر اقدامات کرنا ہی چاہئے.
پاکستان میں پانی کی قلت کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہو سکتا اگر عوام نے اس پرserious لگائے اور اپنے واجب الادا بلز کو بروقت جمع کرنا چاہئے...
پانی کی قلت میں تو ایسے حالات آتے ہیں جو آپے بھی منہ موٹا کر دیتے ہیں ….. کیا یہ معالج نہیں تھام سکتا؟ پانی کی قلت پر عوام کو Priority دی جائے تو یہ معالج آتا ہے۔ عوام کو اپنا واجب ادا کرنا چاہئے اور اپنے بلز بروقت جمع کرنا چاہئے، فیکٹریوں میں کام کرتے وقت پانی کی سپلائی کو معیار کیا جائے تو یہ معالج آتا ہے …..
ਮੈਨੂੰ یہ بات بہت گھمندنہ لگ رہی ہے کہ ہمیں اتنے بھی آدھے پانی میں سے بھی نہیں ملتا جو اپنی زندگی کو چلنا چاہتے ہیں، یہ ایک دائیں سے بائیں رازہ ہے۔ عوام کو صاف پانی کی فراہمی پر توجہ दینی چاہئے ، لیکن ہمیں یہاں تک کہ نرسمیت اور غریبوں کے لیے بھی اپنے واجب الادا بلز جمع کرنا چاہئے تاکہ محکموں کو کام کرنے کا موقع مل سکے۔ یہ بات صاف ہے کہ عوامی مسائل سے نمٹنے کے لیے ہماری اداروں کی ایک ایسی مشترکہ ذمہ داری ہونی چاہئے جو ہمیں ان Problems کو حل کرنا چاہئے۔
جب تک یہ وہی صورتحال رہے گی جس میں عوام کو پانی کی تلاش میں لٹکایا جاتا ہے تو سمجھو کون سی صاف پانی کے ٹوبلوں کے ساتھ اچھی طرح کھانا کرسکتے ہیں؟ یہ واقفیت اس وقت تک محفوظ رہ گیے گے جب تک عوام اپنی صاف پانی کی معیشت کو سمجھ نہیں سکیں گے اور اداروں کو بھی یہی سمجھنا پڑے گا کہ عوام کے واجب الادہ بلز جمع کرنے کی ضرورت ہے۔
ایسے وقت تک ہم وہی بات کرتے رہیں گی جب تک عوام کو اپنا لاکھوں روپئے بھرتی اچھی طرح کھانا بنانے کی صلاحیت حاصل نہ ہو سکے۔ پانی کی قلت ایسا ہی ہے جیسا کہ عوام کو اس سے قبل کھانا بننے کی صلاحیت حاصل نہ ہونے کی صورت میں وہ ایک بھرپور معیشت رکھ سکتی ہیں۔ پانی جیسی بنیادی سہولت کو عوام کے بلز پرPriority دیا جائے تو اس کے نتیجے میں محفوظ پانی کی معیشت اور عوامی مفادات کے لیے بھرپور اقدامات ہو سکتے ہیں۔