تالبان رجیم میں افغانستان کا نظام صحت مند نہیں رہا، ایسے حالات کی تازہ ترین رپورٹ عالمی ادارہ صحت سے आई۔ طالبان رجیم میں 1 کروڑ 44 لاکھ افغان شہری بنیادی علاج کی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں، اس کے ساتھ 30 لاکھ شہری جو پوری دنیا میں موجود تھے اب وہ اپنی جگہوں سے نکل گئے ہیں اور افغانستان میں ان کی تعداد بھی کم ہو چکے ہیں۔
طالبان رجیم کی پابندیاں خواتین کو اپنے علاج کے سلسلے میں بھی رکاوٹ بنا رہی ہیں اور اس طرح ان کے لئے صحت کے نظام کو بھی ایسا ہی دیکھنے کے لیے پائے جاتے ہیں جو کہ عالمی سطح پر خطرہ کی گھنٹی نکل کر چکی ہے۔
طالبان رجیم کی انتہا پسندی اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کے باعث دنیا بھر میں اپنا کام روکنے کی طرف توجہ دے رہی ہے۔ اس سے پوری دنیا میں امریکی فنڈز اور دیگر اداروں کو ان کے انتظامات پر نظر انداز کرنا پڑا ہے، جو کہ وہاں موجود تھے اب وہاں نہیں ہیں۔
طالبان رجیم کی پابندیاں خواتین کو اپنے علاج کے سلسلے میں بھی رکاوٹ بنا رہی ہیں اور اس طرح ان کے لئے صحت کے نظام کو بھی ایسا ہی دیکھنے کے لیے پائے جاتے ہیں جو کہ عالمی سطح پر خطرہ کی گھنٹی نکل کر چکی ہے۔
طالبان رجیم کی انتہا پسندی اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کے باعث دنیا بھر میں اپنا کام روکنے کی طرف توجہ دے رہی ہے۔ اس سے پوری دنیا میں امریکی فنڈز اور دیگر اداروں کو ان کے انتظامات پر نظر انداز کرنا پڑا ہے، جو کہ وہاں موجود تھے اب وہاں نہیں ہیں۔