الرٹ جاری

رنگینخیال

Well-known member
تالبان رجیم میں افغانستان کا نظام صحت مند نہیں رہا، ایسے حالات کی تازہ ترین رپورٹ عالمی ادارہ صحت سے आई۔ طالبان رجیم میں 1 کروڑ 44 لاکھ افغان شہری بنیادی علاج کی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں، اس کے ساتھ 30 لاکھ شہری جو پوری دنیا میں موجود تھے اب وہ اپنی جگہوں سے نکل گئے ہیں اور افغانستان میں ان کی تعداد بھی کم ہو چکے ہیں۔

طالبان رجیم کی پابندیاں خواتین کو اپنے علاج کے سلسلے میں بھی رکاوٹ بنا رہی ہیں اور اس طرح ان کے لئے صحت کے نظام کو بھی ایسا ہی دیکھنے کے لیے پائے جاتے ہیں جو کہ عالمی سطح پر خطرہ کی گھنٹی نکل کر چکی ہے۔

طالبان رجیم کی انتہا پسندی اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کے باعث دنیا بھر میں اپنا کام روکنے کی طرف توجہ دے رہی ہے۔ اس سے پوری دنیا میں امریکی فنڈز اور دیگر اداروں کو ان کے انتظامات پر نظر انداز کرنا پڑا ہے، جو کہ وہاں موجود تھے اب وہاں نہیں ہیں۔
 
یہ تو بہت بھی دیکھنی گئی... افغانستان میں صحت کے نظام کو لینے والے انتہائی اچھے اور مستحکم ہونے کا واقف نہ رہنے سے کیا کہتے؟ ایسے حالات میں دنیا بھر کو ان کی سرپرستی کرنے والے امریکی فنڈز اور دیگر اداروں کو یہاں سے نکلنا پڑا ہے؟

یہ سارے حالات اس لئے ہوئے ہیں کہ طالبان نے اپنے انتہا پسندی کی پابندیوں میں ایسا ہی کیا ہے جیسا کہ ہر وقت سے دیکھا جا رہا ہے... لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے یا اپنے علاج کے لیے hospital میں جانے کی اجازت نہ دی جائے... یہ سارے حالات ایک خطرناک منظر ہیں جو دنیا کو دیکھنا پڑ رہا ہے...
 
😕 Taliban کی حکومت میں افغانستان کا نظام صحت کا بہت خراب ہو گئا ہے، اب تک 1.44 کروڑ سے زیادہ لوگ BASIC treatment se milane ki suvidha se bharosa karta hain, jabki 30 lakh log jo pahli dunia mein the ab unka wapsi nahi hai… yeh tohi baat hai jo WHO ne batayi hai

yaar jab tak Taliban ke ilaaj system me khواتin ka bada mazbati badlaav nahi hua, toh uski samasya ab bhi rahi hogi 🤕
 
یہ تو ایک بڑی حوالہ دہ خبر ہے! افغانستان میں نظام صحت مند نہیں رہا ہے، یہ کیا ہوا گیا؟ ان حالات کی تازہ ترین رپورٹ سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ افغانستان میں 44 لاکھ سے زائد شہری بنیادی علاج کی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔ اور یہ ان حالات میں نہیں ہوا کہ افغانستان کو لاکھوں ڈالر کی امریکی مدد ملی ہو، بلکہ یہ اپنی جگہوں سے بھی نکل کر گئے ہیں اور اب ان کی تعداد بھی کم ہو چکی ہے۔

خواتین کو بھی یہ انتہائی پابندیاں دیتے ہوئے صحت کے نظام میں بھی رکاوٹ مل گئی ہے، اور اس طرح ان کے لئے صحت کے نظام کو ایسا ہی دیکھنے کے لیے پائے جاتے ہیں جو کہ دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹی نکل کر چکی ہے۔

جبکہ دنیا بھر میں اس سے پوری دنیا میں اپنا کام روکنے کی طرف توجہ دے رہی ہے، اور امریکی فنڈز اور دیگر اداروں کو ان کے انتظامات پر نظر انداز کرنا پڑا ہے جو وہاں موجود تھے اب وہاں نہیں ہیں۔ یہ سب ایک بڑی حوالہ دہ خبر ہے، لेकिन میں کہتا ہوں گا کہ ابھی بھی صحت کی سہولیات کی کمی سے ناواقف ہونے والے لوگوں کو یہ سب بات سے نمٹنا پڑے گی۔
 
اس خبر سے میں سوچ رہا ہوں کہ افغانستان کی صحت نظام بہت بدحال ہو چکی ہے؟ ایسے حالات میں وہ لاکھوں لوگ اپنی جگہوں سے نکل کر گئے ہیں، ان کی تعداد زیادہ نہیں رہ سکتی؟ اور خواتین کے لیے بھی صحت کا نظام ایسا ہی نہیں بن پاتا جو کہ ان کے لئے ضروری ہو؟ اس کی توازن کیا گئا ہے؟
 
افغانستان کی حالات بہت گھمنگتی ہیں، یہاں کے لاکھوں لوگ اپنی زندگیوں سے نکل کر چکے ہیں اور وہاں موجود صحت کی نظام سے بھی نکل گئے ہیں، یہ تالبان رجیم کی پابندیوں کا نتیجہ ہے جس سے خواتین کو بھی اپنا علاج لینے میں Problem ہے 🤕 اور اب دنیا بھر میں اس کی انتہائی شدت کو دیکھنے کے لیے توجہ مل رہی ہے، مگر یہ سچ ہے کہ وہاں موجود امریکی فنڈز اور دیگر اداروں کو نہیں نظر انداز کرنا پڑا۔
 
[انسان کو گھر سے باہر ہونے والا ایک ٹرولر کھڑا ہوتا ہے]

[اس کی ہندھنے والی دیکھتے ہو]

[دیکھتے ہو، انسان کو گھر سے باہر ہونے والے ٹرولر کا ایک پورے شہر پر پینٹنگ ہوتا ہے]

[اس ٹرولر کی دیکھتے ہو، انسان کو گھر سے باہر ہونے والا ایک پورے شہر پر فیر پینٹنگ ہوتی ہے]

[اس ٹرولر کی دیکھتے ہو، انسان کو گھر سے باہر ہونے والا ایک پورے شہر پر تینار ہوتا ہے]

[اس ٹرولر کی دیکھتے ہو، انسان کو گھر سے باہر ہونے والا ایک پورے شہر پر رات ہوتی ہے]

[اس ٹرولر کی دیکھتے ہو، انسان کو گھر سے باہر ہونے والا ایک پورے شہر پر چاندی لگا ہوتا ہے]

[اس ٹرولر کی دیکھتے ہو، انسان کو گھر سے باہر ہونے والا ایک پورے شہر پر فائر واک ہوتا ہے]
 
افغانستان کی صحت مند رہنی کس کی مسئلہ ہے؟ ٹالبان رجیم میں بھی ایسی ہی समसہ ہے، لیکن دنیا نہیں یہاں آ رہی ہے؟ میری نظر میں یہ وہی ہے جس سے اس کے بعد ہے، اس کے بھگت ہو کر نکل پڑتے ہیں اور دوسری طرف چلنے کی جگہ تلاش میں آتے ہیں। ایسا تو ہوتا ہے، لیکن اس کے لئے ہمیں اپنی نظر بھی رکھنی چاہیے اور اس کو جھٹلنا نہیں بھی چاہیے۔ 😐
 
Taliban regime کی situaton bahut galat hai 🤕, yeh kaisi hai ki 1 crore 44 lakh log basic treatment ke liye bhi musibat mein hain? Yeh bhi tohafi hai ki unke paas treatment ke liye facilities nahi hain.

Khaas kar, khatoon ko treatment ke liye bhi rasta band rakha gaya hai, jo kafi galat hai. Inki situation ab duniya ke sabko chinta ka kaam kar rahi hai 🌎. Talibans ki inteha pasindari aur dushmani se yeh sab log apne kaam ko rokne ki or dekhe hain.

Aur yeh bhi sahi hai ki amreeki fundz, jo Taliban regime mein the, aaj wo nahi hai 🤑. Yeh duniya ke liye galat hai ki koi bhi such situation ko ignore karta. Afghanistan mein talibans ka situation badh raha hai, aur hum sabko unke lakshon par chinta hone chahiye 💔
 
Taliban کی حکومت میں افغانستان کا صحت مند نظام بالکل چلنا نہیں دے رہا ہے، یہ بات ابھی عالمی اداروں سے سامنے آئی ہے۔ 44 لاکھ سے زائد شہری بے روزگاری کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ تعداد واضح طور پر 30 لاکھ شہری کو دیکھنے کو ملا رہی ہے جو اپنی جگہوں سے نکل گئے تھے۔

اس کے علاوہ خواتین کی صورت حال بھی بدتر ہو چکی ہے، ان کے لئے یہ رکاوٹ بن کر رہی ہے کہ وہ اپنے علاج کے لیے جاسکتے ہیں اور یہ دیکھنا مشکل ہو رہا ہے کہ صحت کے نظام میں وہ کس طرح خراب ہوتے ہیں۔

دنیا بھر میں اس کی انتہائی انتہا پسندی اور دہشت گردوں کی سرپرستی نے پوری دنیا کو اس پر توجہ دینے پر مجبور کیا ہے، جس سے امریکی فنڈز اور دیگر اداروں کو ان کے انتظامات پر نظر انداز کرنا پڑا ہے۔
 
تالiban کی حکومت میں افغانستان کا نظام صحت مند نہیں رہنے والا ہو گیا ہے، یہ واضح تھا کہ پوری دنیا جانتے ہیں اور اب اس بات کے ساتھ بھی نہیں کہ ان کے انتظامات میں معالجین اور صحت مند مہاندرام نہیں ہوتے، افغان شہریوں کی تعداد میں کمی دیکھنے کو پڑ رہی ہے اور خواتین کے لئے بھی صحت کا نظام بھٹکنے والا ہوا ہے، یہ ایک خطرناک معاملہ نہیں ہو سکتا…
 
افغانستان کی سائنس دانوں اور علاج کرنے والوں کو بھی نئے نظام صحت کے ساتھ اپنی کوششوں پر روکنا پڑا ہے، انھیں ہمیشہ بھی ان لوگوں کی مدد کرنا چاہئے جو آپ کی مدد کرتے رہتے ہیں
 
اس news ko sunte hue mujhe lagta hai ki afghanistan mein situation khatara se bhar gya hai. taliban regime ka system sahi nahi raha, basic treatment ki facilities se million 44 lakh log bina kisi cheez ke khade hain. yeh toh uski government ki faili hai.

khواتin ko bhi yeh system bahut musibat ka samna karne pae rhe hai, unke liye bhi treatment mein mushkilataen aayi hain. yeh ek big problem hai jo koi bhi country ignore nahi kar sakta.

main sochta hu ki taliban regime ko apne actions par thoba deta hona chahiye, aur uski intezamati ke liye any other system ko taiyaar karana chahiye.
 
ایسے حالات کی نہیں اور ایسے حالات کی... افغانستان میں صحت مند نظام نہیں رہا? یہ بھی یہی بات ہے جو کہ اس وقت تک کے مہراب پر چھپائی ہوئی تھی، اور اب وہ آگ لگا دیتی ہے... طالبان رجیم کی پابندیاں خواتین کو بھی ایسا ہی جیسے علاج کے لیے رکاوٹ بناتی ہیں، اور اس سے ان کی صحت کے نظام میں بھی بدلाव آتا ہے...

میری ماموں نے اپنے بچوں کو بھی ایسا ہی کیا تھا، اور اب وہی کیا جارہی ہے؟ یہ طالبان کی انتہائی دہشت گردی نہیں...

جب تک ان کی انتہائی رکاوٹوں کو پورا کرنا نہیں پڑتا تو اس کا معاملہ حل ہونے والا ہے...
 
Taliban régime میں صحت مند نظام نہیں رہ سکا 🤕، یہ ایک بڑا پریشانی ہے کیوں کہ طالبان شہریوں کو بنیادی علاج کی سہولیات سے محروم کر رہے ہیں اور یہ ایک شدید خطرہ ہے، یہ تو جانی ہے کہ شہریوں کو پوری دنیا میں چلنا پڑ گیا ہے لیکن اس کی وجہ سے افغانستان کی آبادی بھی کم ہورہی ہے، یہ دیکھنے کے لیے نہیں کہ صحت کی سہولیات نہیں ہیں بلکہ اسے ایک بڑا خطرہ سمجھنا پڑ رہا ہے، خواتین کو اپنے علاج کے لیے بھی رکاوٹ بنانے کی وجہ سے وہ صحت کے نظام میں بھی اس طرح کا کچھ دیکھنا پڑ رہا ہے جو خطرناک ہے، یہ سب ایک بڑا معاملہ ہے جس پر توجہ دی جا نہیں سکتی کیوں کہ دنیا میں یہ بات واضع طور پر سامنے آ رہی ہے کہ طالبان régime کی انتہائی پریشانی اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کی وجہ سے دنیا نے اپنا کام روک لیا ہے، اب وہاں کھلے طور پر آئے تھے اب انہیں نظر انداز کر رہا ہے، یہ سب ایک بڑا معاملہ ہے جس کو لینے والوں کو ایسا کچھ دیکھنا پڑ رہا ہے جو صحت کی سہولیات میں خطرہ پیدا کر رہا ہے
 
افغانستان کی س्थितیت بہت چिंताजनک ہے، تالبان کی حکومت میں صحت مند نظام نہیں رہ سکا، ان کے لئے اچھے مریض تک پہنچانے کی سہولیات زیادہ ہی محدود ہیں… یہاں تک کہ ایسے حالات میں بھی 30 لاکھ شہری جو دنیا بھر میں رہتے تھے اب وہ اپنی جگہوں سے نکل گئے ہیں…

ان خواتین کی صحت کے نظام پر پابندیاں بھی اس طرح ہی ہر جگہ پر ایسا دکھائی دیتے ہیں جو کہ ابھی بھی دنیا کو خطرے میں ڈال رہی ہیں…
 
واپس
Top