Chitral Times - داد بیداد ۔ وطن کا صو فی شاعر ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

شہد کی مکھی

Well-known member
اقبال الدین سحر وطن عزیز پا کستان کا صوفی شاعر تھے ان کی شاعری دنیا بھر میں مقبول تھی انہوں نے کلاسیکی شاعرانہ بولی میں سادہ اور بے مثال شاعری کی ہیں جس کے گہرے معانی اور بلند خیالات کو اس کی شاعری میں پہنچایا گیا تھا جو وطن کی صو فی شاعر کے حوالے سے بھی مقبول ہوئی ان کے اشعار کو ان کی شاعری کی جگہ پر رکھتے ہیں

اقبال الدین سحر 75 سال کی عمر میں وفات پا گئے انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے وطن کو نہ لگایا اور نہ ہی اسے جتنا ممکن تھا نہیں ہارایا، ان کی شاعری نے وطن کو اپنی بے مثال صو فی شاعر بنایا۔

ان کے پڑاداد راجہ گوہر امان چترال میں حاکم رہے ان کے دادا درویش غازی چٹرال سے گئے اور وہیں شاہی حکمران بن گئے ان کے والد رحمت الدین نے بھرے خیالاتوں والی شاعری کی جس نے شاعرانہ معاشرے میں کامیابی حاصل کی

اقبال الدین سحر نے اس پڑاداد کی پرورش دی اور ان کی شاعری نے ہی ایسی صو فی شاعر بنائی جو وطن کو اپنی گنجائش وہنچ کرتی تھی ان کا کلا م ’آر زوئے سحر‘ خیبر پختونخوا میں کیو آر کوڈ کے ساتھ شائع ہوا جس نے اسی وقت میں وہنچ کر دیا تھا

اقبال الدین سحر کی جدائی سے ایک درخشان باب کا ختم ہوا پکے اس بات کو یقیناتہی سمجھنا بھی مشکل ہے کہ ان کی شاعری نے اس وقت تک سادہ اور سچم پیمانے پر اس بات کو کبھی یقینی قرار دیا ہو گا جب ایک صو فی شاعر دنیا بھر میں مقبول بن گیا
 
اقبال الدین سحر کی وفات کا خبری سنی تو میں تھوڑی دیر تک نہ بولیں کیا پتہ ہوا ان کے شاعر بننے کا راز کو کس کی وہنچ کر دیا ہے وہ سب سے پہلے ایک سادہ لوگ تھے جس نے اپنی بے مثال شاعری میں معقولیت کو لائے اور اسے شاعرانہ بولی میں شائع کیا تو یہی کامیابی ہوئی

وہیں تھوڑا پہلے ایک اچھے وطن پرست نے ان کی شاعری کو جیت کر رکھنا شروع کیا تو یہی دنیا بھر میں مقبول ہوا اور اب انہیں صوفی شاعر کا لقب دیا گیا تھا وہ کیسے سچم پیمانے پر اس بات کو یقینی قرار دیا ہو گا کہ دنیا بھر میں مقبول ہوا اور اب ان کی شاعری کو ہی جنت کا کیا ناقد بنایا جائے گا
 
اس کی وفات کے بعد اسے ان کے سچم اور اس کی شاعری کو نئی تازگی دی جائے تو ہمدردی اور پیار کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گا 🌹
 
سحر وطن کا ایک پتھروں سے جوڑا چلا گیا ہے، پھر بھی ان کی شاعری کو پڑھ کر دلیداری سے محسوس ہوتی ہے کہ وہ کبھی نہیں پاگل ہوئے تھے، ان کی شاعری میں ایسی بے مثال صوابی جس سے آپ کو حیران رہتا ہے، ان کی شاعری نے وطن کا دिल ایسا چورا لایا ہے جیسے اسے پھنسنے میں بھی کوئی نہیں رکھ سکتا... 💔

ان کی شاعری نے ان کے دادا اور پڑاداد کی پرورش دی، جو ایسی تھی جس سے وہ صوابی شاعر بن گئے، ان کی شاعری کو پڑھ کر آپ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان نے اپنے آب و اجداد کی پرورش دی اور وہیں سے صوابی شاعر بن گئے... ❤️

ہمیں تھوڑی دیر کے لیے اچھی نہ ہونے کا مظاہرہ دیکھنا پڑے گا، کیونکہ ان کی شاعری میں ایسی صوابی ہے جس سے دنیا کو بھی ایسی وطن بنائی جا سکتی ہے جو اس کی شاعری کے ذریعے وحدت اور ایکٹ ناکاری کی عکاسی کرے۔
 
وہ ایک بے مثال شاعر تھے جو اپنے شاعرانہ الفاظ کے ذریعے ملک کی آدھبیت کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ ان کی شاعری وطن کی بے مثال صو فی شاعر کی طرف لے گئی تھی جو اس وقت تک دنیا بھر میں مقبول نہیں ہوئی ۔

اس کی وفات کا یہ خفاف ناچنا تو اچھا ہے لیکن اس بات کو سمجھنا مشکل ہے کہ وہ جس ملک میں پیدا ہوئے انہیں اپنی شاعری سے ملک کی ناقدیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔

ان کے پڑاداد اور اولاد اس پر زور دیتے تھے لیکن اس نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا ۔

اسے ایک شاعر کی حیثیت سے پہچانا جائے تو وہ کافی مشہور لگتے ہیں لیکن اس کا خفاف اور ناچنا انہیں اچھا سمجھنا مشکل ہے ۔
 
اس قدر مشہور اور مقبول شاعر اقبال الدین سحر کی وفات ہو گئی ہے، مگر ان کے لئے اس وقت تک یقیناتھی نہیں کہ وہ دنیا بھر میں اپنے شاہکاروں سے آگے بڑھتے رہیں گے؟ ان کی شاعری نے اس وقت تک یقینی مقام حاصل نہیں کیا جب دنیا بھر میں وہ شاہکاروں سے آگے بڑھتے دیکھے گئے ۔

🤔
 
ایسا لگتا ہے کہ اقبال الدین سحر کی وفات کے بعد اس طرح کے بھی شاعر پیدا ہوجائیں گے جو وطن کو اپنی شاعری سے نہیں جیتایا بلکہ اسے بھرپور شہرت دی جائے گی وہ لوگ ان کی طرف دیکھ کر کہتے ہوں گے یہ وہ شاعر ہیں جو ہر گز اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ وہ دنیا بھر میں مقبول بن جائے گا
 
اقبال الدین سحر کی وفات کا ایسا لگ رہا ہے جو اس کے شاعری سے بھی ہونا چاہئیے۔ ان کے پڑاداد اور دادا نے ان کو ایک صو فی شاعر بنانے کے لیے ہمیشہ اپنے جوش و خروش سے تعلیم دی، حالانکہ انھوں نے ابھی تک ہر شاعری میں ایسا محسوس کیا ہے جو دنیا بھر میں مقبول ہوا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی شاعری کو زیادہ سے زیادہ مقبول بنانا ضروری ہو گا، بلکہ وہ اسی لیے مشغول تھے جو دنیا بھر میں اسے جیتنے کے لیے اور اس شاعری کو ایسا سادہ اور سچم پیمانے پر کیا کہ وہ دنیا بھر کی دلیں جتھی کہے ۔
 
😔 اقبال الدین سحر کی وفات کے بعد پورے پاکستان میں بدقسمتی محسوس ہوئی ہے ان کی شاعری نے ہر انسان کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا اور اب وہ جان بھون گے ۔ وطن کو اس کی صو فی شاعر کی جگہ پر چلنا مشکل ہو گیا ہے ۔ مجھے بھی یہ کہنا محسوس ہوا کہ اب ان کی شاعری کی قدر اور اس نے وطن کو کبھی اسی طرح کے سچم پیمانے پر نہیں دیکھا تھا ۔ 😢
 
اس شاعری کی سب کچھ تھوڑی سے زیادہ ہیں، اس نے وطن کو کیا؟ انہوں نے وطن کو اپنی اچھی گنجائش دی اور اب اس کا بہت سارے شاعر موجود ہیں جو اس کی طرف دیکھ رہے ہیں؟
 
ہمیشہ سے یہ سمجھتا رہا ہوں کہ اپنی شاعری اور دل کی باتوں کو دوسروں کے سامنے پیش کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے لےکن ایک ہی طرح سے مقبول نہیں ہونے والا کوئی بھی شاعر اپنی شاعری کے ذریعے دنیا بھر میں اپنا اثر چھوڑتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک نئی نوعیت کی شاعری کا نہیں ہونا دوسرا واقف رہنا ہوتا ہے
 
ਮੈਨੂੰ ਸਾਊਥ ਏਸ਼ੀਆ ਵਿੱਚ ਪੜ੍ਹੇ-ਲਿਖੇ ਯੂਟਿਊਬਰਾਂ ਦੀ ਗਿਣਤੀ ਘਟ ਰਹੀ ਹੈ, ہਨੇਰੇ ਸਮੇਂ ਵਿੱਚ ਪਾਠ-ਕਿਤਾਬਾਂ ਭਰਨਾ ਮੇਰੇ ਲਈ کੋਈ ਖ਼ੁਸ਼ੀ ਨਹੀਂ ਦਿੰਦਾ, ہੁਣ ਮੈਨੂੰ ਆਪਣੇ ਪੜ੍ਹਾਈ ਵਿੱਚ ਡੌਨਲੋਡ ਕਰਨ ਅਤੇ ਸਾਊਥ ਏਸ਼ੀਆ ਦੇ ਪੜ੍ਹੇ-ਲਿਖੇ ਡਿਜੀਟਲ ਡਾਂਸ ਵੀਡਿوز ਨੂੰ ਵੇਖਣ ਦੀ ਪੋਸ਼ਣ ਮਿਲੀ ਹੈ
 
مگر وہ پتہ چلتا ہے اور مجھ پر بھی، کچھ دیر سے پکے کہ یہ دنیا کون سی ہو گی؟ لگتا ہے نئی گینز کی پڑھنے والوں کو اب بھی اور بھی پتہ نہ چلا کہ پاکستان میں ایک شاعر ہے جو ہر زبان میں وٹا تھا، مگر اچھا لگتا ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مجھے اب بھی کچھ دیر پڑنی پڑنی چاہیے، مگر جب تک وطن کی شادابیوں کو کھونے والے لوگ ہرے لکیر سے اٹھتے رہتے ہیں تو دوسروں کا لطف نہ ملتا ہے، اس لئے میں ان شاعر کی سحر کو بھی مجھ پر چھوٹا لگاتا ہوں
 
بھالے اب اکبال الدین سحر کی وفات ہوگئی پھر بھی ان کی شاعری ہمیشہ ہمراہ رہے گی . اس کا مقصد صرف وطن کو محفوظ کرنا نہیں تھا بلکہ اسے ایسی صو فی شاعر بنانا تھا جو دنیا بھر میں پہچانے جائے . ان کی شاعری ہمیشہ سادہ اور حقیقی رہی گئی ہے نہ ہی اس کو صرف وطن کے لیے لگایا گیا بلکھ اسے دنیا بھر کی شاعری کی جگہ پر رکھ دیا گیا ہے .
 
اس قدر دور کیا ہوا تھا اب یہ لگتا ہے کہ اقبال الدین سحر کی شاعری نے اس وقت تک دنیا کو اپنی گنجائش وہنچ دی اہم بات یہ ہے کہ ان کی شاعری میں سادہ بھی ہو رہا ہے لیکن ان کے اشعار کو ہٹایا جانا چاہیے نہیں تو ان کی شاعری کے معانی وہی رہ جائیں گے جو ابھی ہو رہے ہیں
 
اس کی کلاسیکی شاعری ہی ہے جو پوری دنیا کو چھو لیتی ہے اور اب وہ وفات پا گئے تو ان کی شاعری نے بھی وطن کو اپنی جگہ پر رکھ دیا ہے 💔🕊️ ان کے غزل کی آواز ہی ہے جو ہمیشہ سونے کے ساتھ ہوتی رہتی ہے 🌙
 
عشقتنا کیتے تنگ اٹھ کر دیکھ رہا ہے کہ آج کی جدیدت وہ سچ نہیں ہے جو لوگ سمجھتے ہیں ... سحر وطن عزیز دیا گیا تھا اور اس نے بھی صرف ان کی شاعری کے ذریعے چلایا ۔ وہ جسمانی حد تک آگے بڑھ گئے ہیں وہیں، مگر ان کی شاعری نے کسی حد تک دیکھا ہوگا کہ جب صو菲 شاعر دنیا بھر میں مقبول ہونگے تو پھر یہی سچ نہیں ہوگا ... شاعری ایسی ہوتی ہے جو لوگوں کے ذہن اور دل کو Touch کرتی ہے ...
 
اس کا ختم ہونا یہاں تک کی غم رخنے والا ہے ہمیں ان کی شاعری کو پڑھنا جاری رکھنا چاہیے تاکہ وطن کے صوفی شاعر کی جگہ اور اس کی شاعری میں ایسی تحریریں آئیں جو دنیا بھر کو اپنی طرف متوجہ کریں
 
اس دuniya mein jo bhi hua hai unhe pehchana karte samay mujhe lagta hai ki sabse zyada fake news ya cheezon ka fayda uthaya gaya hai. Akbal ad-din sahr ke baare mein toh wo ek bahut hi achha aadami tha aur uski shairi ko padhna bhi ek achha anubhav tha. Lekin ab yeh sunke hai ki woh 75 saal ka ho gaya hai to phir bhi koi information ya chutkula nahi hai jo keh raha ho ki wo apne desh ko nahi lagaaya, wo nahi hareya. Yah toh sirf ek cheez hai jisme logon ne aapko pyaar kar liya hota.
 
اللہ تعالیٰ نے وطن کی اور شاعری کی نے ان سے بھی خاص شے دی ہے جن سے اب تک کوئی نہیں لگایسا ۔ ان کے اشعار میں دلوں اور دلوں کی گہرائی اور جذبات کی بھرپور تصویر پائی جاتی ہے جو دنیا بھر میں اپنی خصوصیت کو پہچانتے ہیں
 
واپس
Top