شہد کی مکھی
Well-known member
اقبال الدین سحر وطن عزیز پا کستان کا صوفی شاعر تھے ان کی شاعری دنیا بھر میں مقبول تھی انہوں نے کلاسیکی شاعرانہ بولی میں سادہ اور بے مثال شاعری کی ہیں جس کے گہرے معانی اور بلند خیالات کو اس کی شاعری میں پہنچایا گیا تھا جو وطن کی صو فی شاعر کے حوالے سے بھی مقبول ہوئی ان کے اشعار کو ان کی شاعری کی جگہ پر رکھتے ہیں
اقبال الدین سحر 75 سال کی عمر میں وفات پا گئے انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے وطن کو نہ لگایا اور نہ ہی اسے جتنا ممکن تھا نہیں ہارایا، ان کی شاعری نے وطن کو اپنی بے مثال صو فی شاعر بنایا۔
ان کے پڑاداد راجہ گوہر امان چترال میں حاکم رہے ان کے دادا درویش غازی چٹرال سے گئے اور وہیں شاہی حکمران بن گئے ان کے والد رحمت الدین نے بھرے خیالاتوں والی شاعری کی جس نے شاعرانہ معاشرے میں کامیابی حاصل کی
اقبال الدین سحر نے اس پڑاداد کی پرورش دی اور ان کی شاعری نے ہی ایسی صو فی شاعر بنائی جو وطن کو اپنی گنجائش وہنچ کرتی تھی ان کا کلا م ’آر زوئے سحر‘ خیبر پختونخوا میں کیو آر کوڈ کے ساتھ شائع ہوا جس نے اسی وقت میں وہنچ کر دیا تھا
اقبال الدین سحر کی جدائی سے ایک درخشان باب کا ختم ہوا پکے اس بات کو یقیناتہی سمجھنا بھی مشکل ہے کہ ان کی شاعری نے اس وقت تک سادہ اور سچم پیمانے پر اس بات کو کبھی یقینی قرار دیا ہو گا جب ایک صو فی شاعر دنیا بھر میں مقبول بن گیا
اقبال الدین سحر 75 سال کی عمر میں وفات پا گئے انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے وطن کو نہ لگایا اور نہ ہی اسے جتنا ممکن تھا نہیں ہارایا، ان کی شاعری نے وطن کو اپنی بے مثال صو فی شاعر بنایا۔
ان کے پڑاداد راجہ گوہر امان چترال میں حاکم رہے ان کے دادا درویش غازی چٹرال سے گئے اور وہیں شاہی حکمران بن گئے ان کے والد رحمت الدین نے بھرے خیالاتوں والی شاعری کی جس نے شاعرانہ معاشرے میں کامیابی حاصل کی
اقبال الدین سحر نے اس پڑاداد کی پرورش دی اور ان کی شاعری نے ہی ایسی صو فی شاعر بنائی جو وطن کو اپنی گنجائش وہنچ کرتی تھی ان کا کلا م ’آر زوئے سحر‘ خیبر پختونخوا میں کیو آر کوڈ کے ساتھ شائع ہوا جس نے اسی وقت میں وہنچ کر دیا تھا
اقبال الدین سحر کی جدائی سے ایک درخشان باب کا ختم ہوا پکے اس بات کو یقیناتہی سمجھنا بھی مشکل ہے کہ ان کی شاعری نے اس وقت تک سادہ اور سچم پیمانے پر اس بات کو کبھی یقینی قرار دیا ہو گا جب ایک صو فی شاعر دنیا بھر میں مقبول بن گیا