کراچی:
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی) کی پالیسی میں بدلتے ہوئے معاملات پر تبصرہ جاری رہا ہے، جو کہ پاکستان کے شہریوں کو بیرون ملک سے ڈی پورٹ کیئے جانے پر مشتمل تھی۔ اس حوالے سے نئی پالیسی میں تبدیلی کرنے کا امکانات موجود ہیں اور اس حوالے سے تجاویز بھی دی گئی ہیں۔
جاری پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کا امکان ہے، جو کہ اس بات کی تصدیق کرے گی کہ اگر کسی نے انسانی اسمگلر کے ساتھ رابطہ بنایا ہے تو وہ ملزم قرار دیا جائے گا اور ان کے متعلق تمام تفصیلات کی جانب سے آگاہی حاصل کرنے کو مجبور ہو جائے گا۔ اس طرح پاکستانی شہریں ان انسانی اسمگلرز سے رابطے میں نہیں آتے کیونکہ وہ متاثرہ قرار دیئے جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اس طرح ان کا رابطہ انسانی اسمगलرز سے ٹھیک نہ ہوتا ہے۔
اس حوالے سے ایف آئی اے کی مختلف زونز کی جانب سے ارسال ہونے والی تجاویز پر یہ بات واضح ہے کہ جلد ہی پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی) کی پالیسی میں بدلتے ہوئے معاملات پر تبصرہ جاری رہا ہے، جو کہ پاکستان کے شہریوں کو بیرون ملک سے ڈی پورٹ کیئے جانے پر مشتمل تھی۔ اس حوالے سے نئی پالیسی میں تبدیلی کرنے کا امکانات موجود ہیں اور اس حوالے سے تجاویز بھی دی گئی ہیں۔
جاری پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کا امکان ہے، جو کہ اس بات کی تصدیق کرے گی کہ اگر کسی نے انسانی اسمگلر کے ساتھ رابطہ بنایا ہے تو وہ ملزم قرار دیا جائے گا اور ان کے متعلق تمام تفصیلات کی جانب سے آگاہی حاصل کرنے کو مجبور ہو جائے گا۔ اس طرح پاکستانی شہریں ان انسانی اسمگلرز سے رابطے میں نہیں آتے کیونکہ وہ متاثرہ قرار دیئے جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اس طرح ان کا رابطہ انسانی اسمगलرز سے ٹھیک نہ ہوتا ہے۔
اس حوالے سے ایف آئی اے کی مختلف زونز کی جانب سے ارسال ہونے والی تجاویز پر یہ بات واضح ہے کہ جلد ہی پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے۔