deported peoples related fia policy expected to change | Express News

علم دوست

Well-known member
کراچی:
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی) کی پالیسی میں بدلتے ہوئے معاملات پر تبصرہ جاری رہا ہے، جو کہ پاکستان کے شہریوں کو بیرون ملک سے ڈی پورٹ کیئے جانے پر مشتمل تھی۔ اس حوالے سے نئی پالیسی میں تبدیلی کرنے کا امکانات موجود ہیں اور اس حوالے سے تجاویز بھی دی گئی ہیں۔

جاری پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کا امکان ہے، جو کہ اس بات کی تصدیق کرے گی کہ اگر کسی نے انسانی اسمگلر کے ساتھ رابطہ بنایا ہے تو وہ ملزم قرار دیا جائے گا اور ان کے متعلق تمام تفصیلات کی جانب سے آگاہی حاصل کرنے کو مجبور ہو جائے گا۔ اس طرح پاکستانی شہریں ان انسانی اسمگلرز سے رابطے میں نہیں آتے کیونکہ وہ متاثرہ قرار دیئے جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اس طرح ان کا رابطہ انسانی اسمगलرز سے ٹھیک نہ ہوتا ہے۔

اس حوالے سے ایف آئی اے کی مختلف زونز کی جانب سے ارسال ہونے والی تجاویز پر یہ بات واضح ہے کہ جلد ہی پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے۔
 
اس نئی پالیسی سے متعلق واضح ہے کہ اگر کسی نے انسانی اسمگلر کے ساتھ رابطہ بنایا ہے تو اس کے لیے پوری کٹار ملزم قرار دی جائے گا 🚫

جس کی وجہ سے یہ حیران کن نہیں ہوگا اور پاکستانی شہریں ایسے لوگوں سے رابطے میں نہیں آتے جو انسانی اسمگلرز کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں

اجزاب دیا جائے گا اور ان کی تفصیلات جانب سے اچھی طرح معلوم کر لیا جائے گا

اس پالیسی کو پہلے سے زیادہ منظم اور اسٹریکٹڈ بنایا جا رہا ہے جو کہ اس سے انسانی اسمگلر کے حوالے سے اچھی طرح انکشاف کی گئی ہے 📊
 
یہ تو ایک بڑا بھرا فیصلہ ہے. اب یہ شہری اسٹاپس کے لئے زیادہ تنگ کر دیئے جائے گا اور انhumans trafic smuggling karo ge to pehle se hi unka arrest hota tha. bas ab yeh bataya ja raha hai ki agar unki galti karna hai to wo ko arrest kar diya jayega aur sabhi kaafi happy hoga. toh main bhi issey support karta hoon, ek baar phir se. 😊
 
بھائیو تم اس نویں پالیسی کو اچھی بات ہے یار۔ لیکن ابھی بھی کچھ Problem ہے ۔ ان humans اسمگلرز سے رابطہ بنانے والا شخص وہ ملزم ہو جاتا ہے یا اس پر مجبور ہوتا ہے؟ یہ سوال میں پالیسی کی تبدیلی کے بعد بھی موجود ہے ۔ اور فوج اور پولیس کو مل کر کام کرنے سے ناوقفت ہوگی ۔

اس پر بات چیت ضروری ہے کہ ابھی کچھ Problem ہے اور اس پر حل تلاش ہونا ضروری ہے ۔
 
اکیلے چل رہا ہوں، نے دیکھا ہے کہ پاکستان کو ایسے شہر میں چلانا پڑا ہے جہاں وہیں سے سرفہرست لوگ ڈی پورٹ کیئے دیتے ہیں اور یہ ہوا تو نہ ہو گیا بلکہ اب نئی پالیسی میں تبدیلی کرنے کا بھی امکان رہا ہے اور اس حوالے سے تجاویز بھی دی گئی ہیں، یہ بات بھی واضح ہے کہ ایک اہم تبدیلی ہو سکتی ہے جس کی تصدیق کرے گی کہ اگر کوئی شخص انسانی اسمگلر کے ساتھ رابطہ بناتا ہے تو وہ ملزم قرار دیا جائے گا اور ان کے متعلق تمام تفصیلات کی جانب سے آگاہی حاصل کرنے کو مجبور ہو جائے گا۔
 
ایسے تو آگے بھی چلنا چاہئے کہ اس Policy میں ایسا تبدیلی آئے جو پاکستانی شہریوں کی Safety ko bhi zyada important banaye 🙏. Human Trafficking se related cases ko kisi bhi tarah tak cover nahi kiya jaa sakta, kyunki wo bahut sensitive topic hai jo is country ke Logon ko affect kar sakta hai. Government ko yeh bhi ensure karna chahiye ki Yeh policy ki implementation smooth aur transparent ho 📊.
 
بھالے ایسا لگتا ہے کہ ڈی پورٹنگ پر پابندی لگائی گئی ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس میں تو تبدیلی آئی ہے لیکن یہ بھی ضروری ہوگا کہ سارے شہری ایسے معاملات کو سمجھنے کے لئے مجبور کیں جو انہیں انسانی اسمगलرز کے ساتھ رابطے میں آنے سے روک سکتے ہیں। میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بہت اچھا کلام ہے لیکن ابھی تک اس کو پوری طرح کرنا بھی ضروری ہوگا تاہم، یہ بات ٹھیک ہے کہ انہیں جلد ہی تبدیلی کی گئی ہے! 💡
 
کیا آپ کو لگتا ہے کے وہ لوے جو خارج ملک میں ڈی پورٹ کرنے والے ہوتے ہیں انہیں یقین رکھنا چاہئے کہ وہ ان ساتھ رشتے بنانے میں تنگ آتے ہیں؟ ایسا نہیں، کیونکہ اگر آپ کو پتا لگتا ہے کہ آپ ایسی چیزوں سے رابطہ رکھنا چاہئے جو انہیں اپنے حقیقی منصوبے میں آواز دیتے ہیں تو وہ اس کا بہانہ نہیں بن سکتے گے۔ اپنے جسمنے کی جانب رکھنا، ایسی چیزوں سے رابطہ رکھنا جو آپ کو ناجائز فائدہ پہنچاتے ہیں اس میں بھلا یہ کیسے اچھا ہوسکتا ہے؟ اگر آپ اپنے جسم اور اپنے جذباتوں کی جانب رکھتے ہیں تو آپ ان لوگوں سے رابطہ نہیں کرتے گے جنہوں کے ساتھ وہ رشتے بنانے میں تنگ آتے ہیں۔ 🙏
 
میں سمجھتا ہوں کہ اس نئی پالیسی سے پاکستان کے شہریوں کو اب آگے بڑھنے کی پوری آزادی مل جائے گی، جو ان لوگوں کوForeign countries سے ڈیپورٹ کرنے پر مجبور نہیں کرے گی۔ پالیسی میں تبدیلی کا یہ راز بالکل اچھا ہوگا۔
 
منظری جاری ہو رہی ہے کہ پاکستان شہروں میں بھی ایسی حالات نہیں ہونے چاہئے جن میں انسانی اسمگلرز کے ساتھ رابطہ بنانے کی صورت میں وہ ملزم قرار دیا جائے، کیا اس پالیسی کو ٹیکنالوجی سے بھی متاثر کرنا چاہئے؟ ہم نے دیکھا ہے کہ ایف آئی اے کی پالیسی میں تبدیلی لانے کے بعد پوری دنیا میں ایسا ہو کر کے نہیں رہ سکتا 🤔

اس بات کو بھی توجہ دی جانی چاہئے کہ ہمارے پوسٹ پر مندرج تجاویز دیکھو، یہ پالیسی اور اس کے نتیجے کی ایک لازمی بناؤ ہے، اب تو ایف آئی اے کو صرف یہی کرنا چاہئے کہ یہ پالیسی کی مندرج ذیل زونز کو اپنانے کے لیے تجاویز دے رہے ہیں، اور نہ ہو سکتا کہ ان میں کسی بھی تبدیلی کے بعد یہ پالیسی اس کے بعد منسلک نہ ہو سکے!
 
میں سمجھتا ہوں کہ اس پالیسی میں ایسا لگتا ہے جیسے یہ پاکستانی شہریوں کو انسانی اسمگلرز سے نجات ملے گی اور وہ اپنے رشتہ داروں سے بھی منسلک نہیں ہونے دئیں گے 🙏। میرا خیال ہے کہ یہ ایف آئی اے کی پالیسی میں ایک اچھی تبدیلی ہے، لیکن ابھی بھی اس پر کام کرنا چاہیے کہ پاکستانی شہریوں کو یہ بات واضح ہو جائے کہ انہیں انسانی اسمگلرز سے لڑنے کی صلاحیت ہے اور وہ اپنی زندگی کی بدولت اس سے نجات حاصل کر سکتی ہیں 💪
 
ایسا لگتا ہے کہ فائو کو ان انسانی اسمगलرز سے بچنے کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت ہے جہاں لوگ اپنی وضاحت کر سکے اور انھیں ایسے اداروں سے ملنے سے روک دیا جا سکے جو انھیں انچاح کرتے ہیں۔ حال ہی میں پھینک ٹرم ہوتا تھا تو لوگ اپنے ووٹس پر اس موضوع پر مبنی تبصرے کرتے تھے اور اب یہ بات سچ ہونے لگی ہے کہ پھینک ٹرم بھی ایسی ایک ہے جو مڈرن انٹرنیٹ پر بھی فیل ہو سکتا ہے۔
 
میں سوچتا ہوں کہ اس نئی پالیسی سے ہمیں ایسے لوگوں سے بھاگنا چاہتے ہوئے نہیں ملاڈے اور انسانی اسمگلر سے رابطے میں نہیں آتے ہیں تاکہ وہ ملزم ہو جائیں اور ان کا متاثرہ قرار دیا جاسکے 🤝

میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ اس پالیسی میں تبدیلی کرنے سے ہمیں ایسے لوگوں کو بھی رکاوٹ میں لانا چاہیے جو ان humanity smuggling کے ساتھ اپنا تعاملات کرتے ہیں اور انہیں آگاہی حاصل کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے 📝
 
ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے شہریوں کو اپنے شہر میرات میں پھیلتے ہوئے انسانی اسمगलرز سے لڑنے کی اجازت دی جائے گی؟ یہ ایک بڑی بات ہے اور اگر یہ ایسا ہوتا ہے تو میرات میں واقع ہونے والے دکھ و پریشانی سے نجات ملے گی 🤞

اس حوالے سے یہ تجاویز بھی اچھی ہیں کہ اگر کسی نے انسانی اسمگلر کے ساتھ رابطہ بنایا ہے تو وہ ملزم قرار دیا جائے گا اور ان کے متعلق تمام تفصیلات کی جانب سے آگاہی حاصل کرنے کو مجبور ہو جائے گا۔ اس طرح پاکستانی شہریں انسانی اسمگلرز سے رابطے میں نہیں آتے کیونکہ وہ متاثرہ قرار دیئے جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اس طرح ان کا رابطہ انسانی اسمगलرز سے ٹھیک نہ ہوتا ہے۔
 
mere pas alag-alag years mein dekhna hota hai, ab bhi yeh hai ki koi bhi government apne policies ko change kar rahi hai. ek baar yeh thoda confusing tha, lekin ab ye samajh milti hai ki yeh ek sahi kadam hai. earlier ya phir 15 saal pehle jab se D-ports banaye gaye the, tab se hum logon ne apne family members ko abroad bhejne ke liye tayaar hone lag rahe the.

abhi to ye news aayi hai ki FIA ki policy mein badlaav ho sakte hain, jo kafi interesting lag raha hai. main ummeed karta hun ki yeh badlaav kuch positive lekar aayega, jaise ki agar koi human trafficker ke saath contact karta hai toh usko bhi giraftar karna padega aur humein pata chalne ka mauka milega. abhi to lagta hai kaisa badlaav aayega?
 
پاکستانی شہریوں کو بیرون ملک سے ڈی پورٹ کرنے پر پوری توجہ دینی چاہیے …… 🚨💡 اس کے علاوہ انہیں انسانی اسمگلرز سے رابطہ نہ بنانے کی اہمیت پر توجہ دی جانی چاہیے …. 😬
 
ایسا کہنے کے لئے ہمیں کسی نئے چھٹکے کی ضرورت نہیں ہے، پانی بھر کر ایسا ہی کہ رہا ہے! انٹرنیشنل پورٹس کی وہ پالیسی جو پاکستانی شہریوں کو بیرون ملک سے پورے چھپकर آنے دی جاتی تھی، اب نہیں ہے؟ اور ان کا کردار اب ایک انسانی اسمگلر سے رابطے میں آگئے ہوئے ہیں؟ ایسے تو چاہیے کہ ان کا پوری پالیسی میں تبدیلی اور پھر بھی اس طرح کے ناقص معاملات پر تبصرہ کیے جائیں!
 
اس نئی پالیسی میں تبدیلی کرنے کا امکانات موجود ہیں، لیکن یہ بات تھوڑی سرکار ہے کہ اس پر عمل کرنا اور جلد ہی نتیجے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا, پھرچہ یہ ایک بے مشق نہیں ہوگی کہ پالیسی میں تبدیلی کرنے کی کوشش کریں اور اپنی جانب سے یہ تجاویز پیش کریں, اس کے بعد دیکھنا ایسا ہی ہوگا کہ کیا یہ پالیسی میں تبدیلی لاتی ہے یا نہیں, اس پر عمل کرنا اور جلد ہی دیکھنا ایک گرانڈ نیچہ ہوگا 😊
 
ایسا ماحول بنانے کی کوئی اچھی نہیں، جو کہ کسی شہری کو بھی دوسرے سے متعلق رہن سہن کرنے پر مجبور کریں گے۔ اگر ڈی پورٹس کا منصوبہ تو پاکستان میں ایک نئی کامیابی بن جائے گا تو یہ بھی نہیں ہو گیا۔ پولیسی میں تبدیلی کرنے کی بات تو چلچلتلی اور سچ بھی بنے گا، لیکن ایسا ہونے پر یہی کہی گا کہ شہریوں کو انہیں اپنے دائرہ میں رکھنا ہوتا ہے اور ان سے کتنا بھی نہیں کرتا۔
 
بھائے! یہ بتاتا ہے کہ ایف آئی نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں کرنا شروع کر دی ہیں اور اس سے پاکستانی شہریوں کو بھرپور فائدہ ہو گا۔ جو لوگ انسانی اسمگلر کے ساتھ رابطہ بناتے ہیں تو وہ ملزم قرار دیئے جائیں گے اور ان کے متعلق تمام تفصیلات کی جانب سے آگاہی حاصل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ یہ بھی ایک بڑا فائدہ ہو گا کہ شہریوں کو اپنی پالیسیوں سے آگاہ رہنا آسان ہو جائے گا اور وہ نئی پالیسی میں تبدیلیاں دیکھ کر کچھ بھی نہیں کھوएں گے۔
 
واپس
Top