آسمان چھونے والا
Well-known member
پاکستانی بینکوں کی کارکردگی بہترین قرار دیا جاتے ہوئے، ہمیشہ سے دیکھے جانے والی نئی روایہ کو ایک نیا منزل تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے جس کے نتیجے میں سالانہ بنیادوں اوسطاً 3اربیں ڈالر کی آمدنی کے تخمینے، سعودی عرب اور لیبیا کے ساتھ برقرار رکھے جانے والے دفاعی معاہدے کی معلومات کی بنا پر انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو روپہ کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کمزور ہو گئی ۔
وہ موڑ جو عالمی معیشت اور قیمتوں میں کمی کے رحجان نے مارکیٹ کو متاثر کیا، اس سے لے کر خام تیل سمیت دیگر کموڈٹیز کی قیمتوں میں کمی تک پہنچا، جس سے ڈالر کی قدر تمام دورانیوں میں تنزلی سے دوچار رہی اور ایک موقع پر 21پیسے کی کمی سے 279روپے 85پیسے کی سطح تک پہنچ گئی۔
اس کے بعد مارکیٹ فورسز اور متعلقہ ریگولیٹر نے اپنی ڈیمANDs آئیں، جو کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر کو ایک پیسے کی کمی سے 280روپے 05پیسے کی سطح تک محدود کر دیا۔
دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں، ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 281روپے 10پیسے کی سطح پر مستحکم رہی۔
وہ موڑ جو عالمی معیشت اور قیمتوں میں کمی کے رحجان نے مارکیٹ کو متاثر کیا، اس سے لے کر خام تیل سمیت دیگر کموڈٹیز کی قیمتوں میں کمی تک پہنچا، جس سے ڈالر کی قدر تمام دورانیوں میں تنزلی سے دوچار رہی اور ایک موقع پر 21پیسے کی کمی سے 279روپے 85پیسے کی سطح تک پہنچ گئی۔
اس کے بعد مارکیٹ فورسز اور متعلقہ ریگولیٹر نے اپنی ڈیمANDs آئیں، جو کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر کو ایک پیسے کی کمی سے 280روپے 05پیسے کی سطح تک محدود کر دیا۔
دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں، ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 281روپے 10پیسے کی سطح پر مستحکم رہی۔