باغبانپورہ میں ایک گھر میں جو پچاس سाल کی عمر کے بچوں نے فائرنگ کے ساتھ کھیلنا شروع کیا، جس میں وارث ( چودہ سالہ) کی جان بحق ہو گئی اور محمد آذان (نو سالہ) زخمی ہو گئی۔
پندرہ سالہ عمر کو فوری طور پر شالیمار اسپتال منتقل کیا گیا، اس وقت اس کی حالت بہت کمزور تھی، جس کی وجہ سے وہ جنرل اسپتال لے جا رہا تھا، تاہم ان کی جان نہ ہو سکتی تھی۔ اس حادثے میں ان کے دو بھائی، جو دوسرے برس کی عمر میں تین سालہ ہیں، شدید زخمی ہوئے، جس کا علاج ابھی جاری ہے۔
پولیس نے اس واقعے پر مقدمہ درج کر لیا اور چودہ سالہ وارث کو حراست میں لے کر تفتیش کے حوالے کیا ہے۔ ان تمام حالات میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان تینوں بچوں اور اپنے پریسٹاں میں سے کسی کو بھی ایسے افسوس ناک حادثات سے بچانے کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔
اب تک ان تمام حالات پر تحقیق جاری ہے اور اس وقت یہ بات ابھی پتہ چلی رہی ہے کہ انہیں کس کا ملازمت تھی اور ان کے پاس سے بچوں کو کیسے لگایا گیا۔
پندرہ سالہ عمر کو فوری طور پر شالیمار اسپتال منتقل کیا گیا، اس وقت اس کی حالت بہت کمزور تھی، جس کی وجہ سے وہ جنرل اسپتال لے جا رہا تھا، تاہم ان کی جان نہ ہو سکتی تھی۔ اس حادثے میں ان کے دو بھائی، جو دوسرے برس کی عمر میں تین سालہ ہیں، شدید زخمی ہوئے، جس کا علاج ابھی جاری ہے۔
پولیس نے اس واقعے پر مقدمہ درج کر لیا اور چودہ سالہ وارث کو حراست میں لے کر تفتیش کے حوالے کیا ہے۔ ان تمام حالات میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان تینوں بچوں اور اپنے پریسٹاں میں سے کسی کو بھی ایسے افسوس ناک حادثات سے بچانے کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔
اب تک ان تمام حالات پر تحقیق جاری ہے اور اس وقت یہ بات ابھی پتہ چلی رہی ہے کہ انہیں کس کا ملازمت تھی اور ان کے پاس سے بچوں کو کیسے لگایا گیا۔