لاہور: پستول سے کھیلتے ہوئے گولی چل گئی، بچہ جاں بحق، دوسرا زخمی

وی لاگر

Well-known member
باغبانپورہ میں ایک گھر میں جو پچاس سाल کی عمر کے بچوں نے فائرنگ کے ساتھ کھیلنا شروع کیا، جس میں وارث ( چودہ سالہ) کی جان بحق ہو گئی اور محمد آذان (نو سالہ) زخمی ہو گئی۔

پندرہ سالہ عمر کو فوری طور پر شالیمار اسپتال منتقل کیا گیا، اس وقت اس کی حالت بہت کمزور تھی، جس کی وجہ سے وہ جنرل اسپتال لے جا رہا تھا، تاہم ان کی جان نہ ہو سکتی تھی۔ اس حادثے میں ان کے دو بھائی، جو دوسرے برس کی عمر میں تین سालہ ہیں، شدید زخمی ہوئے، جس کا علاج ابھی جاری ہے۔

پولیس نے اس واقعے پر مقدمہ درج کر لیا اور چودہ سالہ وارث کو حراست میں لے کر تفتیش کے حوالے کیا ہے۔ ان تمام حالات میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان تینوں بچوں اور اپنے پریسٹاں میں سے کسی کو بھی ایسے افسوس ناک حادثات سے بچانے کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔

اب تک ان تمام حالات پر تحقیق جاری ہے اور اس وقت یہ بات ابھی پتہ چلی رہی ہے کہ انہیں کس کا ملازمت تھی اور ان کے پاس سے بچوں کو کیسے لگایا گیا۔
 
🤦‍♂️ یہ تو ایک حادثہ ہے، پچاس سال کی عمر میں بھی اس طرح کے لوٹیرے کیسے کئے جاتے ہیں؟ اور ایسا لگتا ہے کہ ان کو یہ کام سیکھنے کی ضرورت نہیں تھی، بس اس کا ملازمت تو پتہ چل گئی ہے اور اب وارث کو شالیمار اسپتال لے جاتا ہے۔ ایسا سے بچوں کی جان لی گئی، ان کے دو بھائی زخمی ہوئے اور ابھی ان کی بھی حالت بدل رہی ہے۔ ایسا تو ہوا، لेकिन یہ بات پتہ چلی گئی ہے کہ یہ ملازمت سے قبل اسے پریسیٹیاں بھی ملتی تھیں؟ اور اس سے پہلے بھی اس نے اس طرح کا کام کیا ہو گا؟ یہ بات تو جاری تحقیق میں آئی گی، لیکن یہ صرف ایک حادثہ ہی نہیں بلکہ ایک علامت بھی ہے۔
 
یہ حادثہ ایک شدید وارث بنایا ہوا ہے، نہ صرف دو سالہ بچوں کو زخمی اور چودہ سالہ کے بچے کی جان بحق کر دی گئی ہے، انہیں ایک فائرنگ کھیلنے جگا رہا تھا، اس نے انھیں اس زندگی سے چھٹکارا دिलانے کی جگہ نہیں دی جو انھوں نے اپنی جینڈا میں لکھی ہوئی تھی۔
 
یہ ایک شدید غم کا واقعہ ہے! بچوں کی عمر نوجوانوں کے برعکس ہونے سے ان کے ذہنی و فیزیکل ترقی میں کچھ فرق پڑتا ہے... 🤔🎮

جب بھی کوئی ایسا گیم پلے کھیل رہے ہو اس میں ساتھ ہی ان کی مرضی اور توازن پر زیادہ توجہ نہ دی جائے تو دہشتگوار نتائج ہوتے ہیں... 😷

چودہ سالہ بچے کی جان گئی اس بات کو لاتھ کھینچی ہے کہ پہلے سے اسے ایسا بھی کھیلنے کی اجازت نہ دی جانی چاہیے... 🤷‍♂️
 
یہ تو پوری دنیا کو ڈرک کر رہا ہے۔ یہ وہی نئی Generational نوجوانی جس کا بھی نقصہ دیکھتے ہیں، مگر سچ پوچھیں تو ان کی ایسی اور بہت ہی گہری لپیٹی ہوئی ہے جو سچمایہ بناموں کو ہی اس کی کھلی کھل کر دیکھنا پڑے گا۔
 
یہ بات بہت دुखناک ہے جب تک اس حادثے پر تحقیقات نہیں کی گئی اور ان بچوں کی جان اور صحت پر یقین نہیں کیا گیا تھا، پندرہ سالہ بچے کو جنرل اسپتال لے جانا چاہیے تو اس سے بھی کمزور ہوا اور وارث کی جان بہرہ نکل گئی، یہ ایک کہل کر حادثہ تھا...
 
یہ عجائب ہے کہ وہ پچاس سالہ بچے کس قدر خود کشی اور عدم ذمہ داری کے ساتھ کھیل رہے تھے! 😱 چودہ سالہ وارث کی جان کیسے نہ لگ گئی? ان دو بچوں کی جگہ میں ہمت اور ذمہ داری کی پوری نقصان ہوئی! 🤕

اس حادثے کی وجہ سے ابھی تک یہ بات بھی پتہ نہیں چلی رہی کہ ان تینوں بچوں اور اپنے پریسٹاں میں سے کوئی جانب دیکھ کر آزاز نہیں کیا تھا؟ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ 🤔

اب تک کی تحقیقات کے بعد بھی ان تمام حالات پر اچھی طرح جانت نہیں آئی، اس لیے یہ بات ابھی پتہ چلی رہی ہے کہ انہیں کس کا ملازمت تھی اور ان کے پاس سے بچوں کو کیسے لگایا گیا? یہ ایک اچھا معاملہ نہیں ہو سکتا! 🚫
 
عجीब عجیب! یہ بھول پھونک کیا ہوا ہے?! دوسرے برس کی عمر میں تین سالہ بچوں کو فائرنگ سے نمٹایا جانا نہیں چاہیے، یہ بھلے کیسے ہوا?! ان بچوں کی جان اور جानبنی زخم کے بعد اس وقت کا جواب کیسے ہوسکتا ہے?!

اب تک ایسے افسوسناک حادثات سے نمٹنا تو یہ کہیں نہیں ہوتا، بلکہ پریسٹوں اور والدین کو بھی اس طرح کی ذمہ داری تھی کہ ان تینوں بچوں کو ایسی صورت میں پہنچانا نہ ہوتا۔

اب یہ بات سچ کی ہے کہ انہیں کس کا ملازمت تھی اور اس طرح سے ان کو لگایا گیا، لیکن اس کا جواب تو اب تک نہیں مل سکے گا! یہ حادثہ بھی کبھی نہیں ہوتا، بلکہ اس جگہ میں سے کسی کو بھی ایسا ہونے کی امید نہیں ہونی چاہیے!
 
عجائب! یہ غلطی کیا تو اس گھر میں نہ ہوا? پندرہ سالہ عمر کو فوری طور پر شالیمار اسپتال منتقل کرنا کیا ضرurat تھی؟ اور وہ چودہ سالہ بچا کیسے جان بحق ہو گیا?! یہ ایک جھگڑا ہے، نہ کوئی فائرنگ ہوئی ہوگی تو کیوں ان تینوں بچوں کو دوسرے گھروں میں لے جانا پڑا?! پولیس نے مقدمہ درج کر لیا، کیا اب یہ نکلنے والی بات ہے کہ اس گھر کے پریسٹاں کو بچاؤ کی کوشش نہیں کی? 🙅‍♂️
 
تازہ ترین واقعات سے واقف ہونے پر میں بہت غصے سے ہوا کیا جائے، یہ بھی نا سمجھنا بہرہ روئی ہے کہ 15 سالہ اور 3 سالہ دو بچوں کو ان کی پوری عمر میں بالی چڑیا میں ایسے ساتھ ہی فائرنگ کے ساتھ کھیلایا گیا، جس نے وارث کو 14 سال کی عمر میں جان بحق کر دی اور ان کے دو بھائیوں میں سے ایک کو زخمی کر دیا ہوا ہے تو یہ کیا اس کے بعد وہی بچوں کی مراقبت نہ کریں گے؟ یہ تو انتہائی نا منصوبہ بندی اور انصاف سے نمٹنا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ اس حادثے میں ان بچوں کی زندگی کو کیوں آرام نہیں رکھا جاسکا؟
 
🤯 یہ بات جھمیلی ہے کہ 15 سالہ کی عمر میں ایسے غلطیوں سے کھیلنا شروع کیا جائے جو فائرنگ اور زخمیات کا باعث بنتی ہیں! یہ بچوں کی جانب سے نہیں بلکہ والدین اور اسے لگنے والی سارے لوگوں کے ذمہ ہے۔ اس حادثے میں کوئی نہ کوئی خطرات جانا چاہتا ہو گا اور اس پر سावधانی کرنا چاہیے تاکہ یہ نہ ہوا۔
 
اس حادثے پر مجھے بہت غصہ ہوا ہے، پچاس سال کی عمر میں جو چار بچے ایسے ایک گھر میں فائرنگ کے ساتھ کھیل رہے تھے، اس میں ان دونوں کو جان بحق کر دی اور باقی دو کو زخمی کر دیا! مجھے یہ بہت غمزناک لگ رہا ہے کہ ان کی والدین نے اس طرح اپنے بیٹوں کو ایسے حالات میں پڑایا ہو جس سے انہیں زندگی بھر میں تکلیف پہنچنے کی تلافی دينا padega

اپنی اولاد کے ساتھ ان پر یہ فeras میں رکھنا نہیں چاہیے، اس کے بجائے ان کو بہتر تعلیم دی جانی چاہیے اور انہیں ایسے حالات میں پڑانے کی سے بچایا جائے جو ان کے भविष्य کو خراب نہ کرنا ۔
 
mere dost, ye to apni bachon ko kisi bhi cheez ka khelana bina thinking neeche nazar lagana bahut aasaan hai. mere paas 3 beta hain aur unhein bhi kuchh samay pe tere jaisi hi galtiyan ho sakti hain. ye baat sach hai ki us ghar ke ek cheez ka khelana aisa nahi hai jo woh kisi ko chot pahuncha sake. mere paas aapke 3 beta bhi hain aur unhein bhi samajhna jaroori hai, kyunki ve bhi kuchh na kuchh maantne lagte hain.
 
عجیب بات یہ ہے کہ اس گھر میں جو فائرنگ کے ساتھ کھیلنا شروع کیا، وارث کی جان بحق ہو گئی اور محمد آذان زخمی ہو گئے، ایسا نہیں تھا جیسے ہمیں ان کے ماموں نے بتایا تھا۔ یہ پتہ چلا رہا ہے کہ وارث کا فائرنگ سے لڑنا اور انھیں گریوٹی سے پہنچانے کی وجہ شالیمار اسپتال میں بے چینی ہو رہی تھی، پندرہ سالہ کو جنرل اسپتال لے جا رہا تھا تو اس کا جواب یہ تھا کہ وارث کے گریوٹی میں آنے کی وجہ سے وہ جنرل اسپتال نہیں جاسکتے اور اس لیے ان کا بچونے والے کو جنرل اسپتال لے جانا پڑا۔
 
یہ تو بے حد کے دکھ کا واقعہ ہے ان تینوں چھوٹے بچوں پر حالات جس سے کسی کی جان نکل گئی یا زخمی ہوئی، یہ تو شokin کر لیں مگر اس کے پیچھے کی پہلی بات کیا بتائے گی جو ان کو ایسا ہوا، یہ تو ہمارے سامنے ایک بڑی چیلنج ہے جس پر ہماری اور دوسری دھاری کے لئے توجہ دenus ہے۔
 
میں اس حادثے پر تہقیر کرتا ہوں، یہ بہت گھمنڈگی والا واقعہ ہے۔ چودہ سالہ وارث کی جان بحق ہونے کا یہ حادثہ اس وقت تک نہیں ہوا جب تک ان سے انسفرٹرز کو پوچھا نہیں گیا اور انہیں ایسے افسوس ناک واقعات میں شامل نہیں کیا گیا۔ اب وارث کی زخمی ہونے پر ان کے ماموں نے جس فوری عمل کو اپنے گھر میں دیکھا تو اس سے ان کی زندگی ختم ہوگئی۔ یہ بہت ایسی بات ہے۔
 
واپس
Top