پشاور کا مشہور بازار قصہ خوانی جتنا مشہور ہے اتنے ہی اس کی رائے میں’’قصے‘‘ بھی شامل ہیں، اور یہی جب ہندوستان سے تجارتی قافلوں کا وہی دور تھا تو لوگ قصے سناتے رہتے تھے۔ لیکن یہ سب کچھ حقیقی نہیں تھا، یہ صرف’’قصے‘‘ اور قصے سنائی گئی جگہوں پر ہوئے تھے۔
تجارت اور قصے کے دو دور ہیں، ایک وہ دور جس میں تاجروں کے قافلے جو سرائیوں سے آتے رہتے تھے اور ایک اس دور میں جس میں یہی قصے سنائے جاتے تھے۔ لیکن قصے کی وہ فصیل اب بھی موجود ہے۔
قافلے ان تاجروں کے ساتھ آتے رہتے جیسا کہ یہ ہم نے خود دیکھا ہے جو نمک منڈی اور ڈبگری میں گھومتے تھے، لیکن قصے سنا کر لوگ اس قدر پھنس جاتے تھے کہ وہوں سے بھاگ نکلتے رہتے تھے اور یہی ہلچل اب تک موجود ہے۔
جب آئینِ مدنیہ کو لागو دیا گیا تو ان لوگوں کے قافلوں کی جانب سے ان سے وٹس پلاز میں ہونے والی تجارت کو بھی تباہ کر دیا گیا اور اس کے بجائے یہاں کے لوگ سرائیوں سے آتے رہتے۔
اس طرح قصہ خوانی ایک ٹنگ اور گنجان علاقہ بن گیا جس میں کوئی جانور بھی نہیں رہتا تھا، کچھ دن ہی پھر ہندوستان سے تجارتی قافلے آئے اور وہی یہاں کے لوگوں کے ہونے والی قصے سناتے رہتے تھے، لیکن یہ بھی حقیقی نہیں تھے۔
جس طرح سے ہندوستان میں اور وسطی ایشیا میں تجارت کی وہ دور موجود تھا، اسی طرح کا ایک بازار پشاور میں بھی موجود تھا جو ’’قصہ خوانی‘‘ کے نام سے مشہور ہو گیا تھا جو اب کچھ دور تک موجود ہے لیکن اس کا اہمیت اس کی قصائیں کا خاتمہ نہیں ہوا۔
تجارت اور قصے کے دو دور ہیں، ایک وہ دور جس میں تاجروں کے قافلے جو سرائیوں سے آتے رہتے تھے اور ایک اس دور میں جس میں یہی قصے سنائے جاتے تھے۔ لیکن قصے کی وہ فصیل اب بھی موجود ہے۔
قافلے ان تاجروں کے ساتھ آتے رہتے جیسا کہ یہ ہم نے خود دیکھا ہے جو نمک منڈی اور ڈبگری میں گھومتے تھے، لیکن قصے سنا کر لوگ اس قدر پھنس جاتے تھے کہ وہوں سے بھاگ نکلتے رہتے تھے اور یہی ہلچل اب تک موجود ہے۔
جب آئینِ مدنیہ کو لागو دیا گیا تو ان لوگوں کے قافلوں کی جانب سے ان سے وٹس پلاز میں ہونے والی تجارت کو بھی تباہ کر دیا گیا اور اس کے بجائے یہاں کے لوگ سرائیوں سے آتے رہتے۔
اس طرح قصہ خوانی ایک ٹنگ اور گنجان علاقہ بن گیا جس میں کوئی جانور بھی نہیں رہتا تھا، کچھ دن ہی پھر ہندوستان سے تجارتی قافلے آئے اور وہی یہاں کے لوگوں کے ہونے والی قصے سناتے رہتے تھے، لیکن یہ بھی حقیقی نہیں تھے۔
جس طرح سے ہندوستان میں اور وسطی ایشیا میں تجارت کی وہ دور موجود تھا، اسی طرح کا ایک بازار پشاور میں بھی موجود تھا جو ’’قصہ خوانی‘‘ کے نام سے مشہور ہو گیا تھا جو اب کچھ دور تک موجود ہے لیکن اس کا اہمیت اس کی قصائیں کا خاتمہ نہیں ہوا۔