قصہ خوانی یا کسی خوانی | Express News

پانڈا

Well-known member
پشاور کا مشہور بازار قصہ خوانی جتنا مشہور ہے اتنے ہی اس کی رائے میں’’قصے‘‘ بھی شامل ہیں، اور یہی جب ہندوستان سے تجارتی قافلوں کا وہی دور تھا تو لوگ قصے سناتے رہتے تھے۔ لیکن یہ سب کچھ حقیقی نہیں تھا، یہ صرف’’قصے‘‘ اور قصے سنائی گئی جگہوں پر ہوئے تھے۔

تجارت اور قصے کے دو دور ہیں، ایک وہ دور جس میں تاجروں کے قافلے جو سرائیوں سے آتے رہتے تھے اور ایک اس دور میں جس میں یہی قصے سنائے جاتے تھے۔ لیکن قصے کی وہ فصیل اب بھی موجود ہے۔

قافلے ان تاجروں کے ساتھ آتے رہتے جیسا کہ یہ ہم نے خود دیکھا ہے جو نمک منڈی اور ڈبگری میں گھومتے تھے، لیکن قصے سنا کر لوگ اس قدر پھنس جاتے تھے کہ وہوں سے بھاگ نکلتے رہتے تھے اور یہی ہلچل اب تک موجود ہے۔

جب آئینِ مدنیہ کو لागو دیا گیا تو ان لوگوں کے قافلوں کی جانب سے ان سے وٹس پلاز میں ہونے والی تجارت کو بھی تباہ کر دیا گیا اور اس کے بجائے یہاں کے لوگ سرائیوں سے آتے رہتے۔

اس طرح قصہ خوانی ایک ٹنگ اور گنجان علاقہ بن گیا جس میں کوئی جانور بھی نہیں رہتا تھا، کچھ دن ہی پھر ہندوستان سے تجارتی قافلے آئے اور وہی یہاں کے لوگوں کے ہونے والی قصے سناتے رہتے تھے، لیکن یہ بھی حقیقی نہیں تھے۔

جس طرح سے ہندوستان میں اور وسطی ایشیا میں تجارت کی وہ دور موجود تھا، اسی طرح کا ایک بازار پشاور میں بھی موجود تھا جو ’’قصہ خوانی‘‘ کے نام سے مشہور ہو گیا تھا جو اب کچھ دور تک موجود ہے لیکن اس کا اہمیت اس کی قصائیں کا خاتمہ نہیں ہوا۔
 
بہت متعجب کن بات یہ ہے کہ پھر سے ایسے لوگ باقی رہے ہوں جو قصے سناتے رہتے ہیں اور لوگوں کو ان کا بھانپن کر دیتے ہیں… اور یہ سب کچھ ان سے پہلے ہو چکا تھا جس نے یہ market بنایا، اس کی فصیل اب بھی موجود ہے… 😐
 
اس وقت کے بڑے بازاروں میں اناج اور دیگر اشیاء کی دیکھ بھال کیسے کی جاتی ہے؟
 
پشاور کی قصہ خوانی ایک ایسی جگہ ہے جس میں تجارت اور قصے دونوں کو اکٹھا کرتا ہے، لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ یہ دوسرے سے الگ دو مختلف دورز ہیں۔

کچھ لوگ قصے سناتے رہتے تھے، اور کچھ تجارتی قافلوں کا ان کے ساتھ جوڑا تھا، لیکن ایسے کئی دنز پھر ہندوستان سے تجارت کی وہ دور آ گئی جس میں لوگ نہیں سناتے تھے اور نہ ہی ان کے ساتھ قافلوں پھر رہتے تھے۔

اس طرح کی ہلچل اب تک موجود ہے، اور یہی حال ہے جس کا ذکر آئینِ مدنیہ کے بارے میں کیا گیا ہے تاکہ وہ تجارت کو بھی تباہ کر دیا جائے اور اس کے بجائے سرائیوں سے لوگ آتے رہتے، لیکن یہ بھی حقیقی نہیں تھا۔

اسے سمجھنا ضروری ہے کہ جب تجارت اور قصے دونوں ایک ساتھ موجود رہتے ہیں تو یہ حقیقت بنتا ہے، لیکن جب انہیں الگ الگ کیے گئے رہتے ہیں تو صرف ایک ایسا دور موجود ہوتا ہے جس میں قصے سنائے جاتے رہتے ہیں اور تجارتی قافلوں کا جوڑا رہتا ہے۔
 
بھی دیکھو یہ بازار کس طرح بھر گیا تھا لوگوں کے قصائیں سنانے سے، اب اس میں لوگ صرف سرائیوں کی تجارت کرتے رہتے ہیں۔ مگر یہی ہے جو جگہوں پر بھی دیکھا جاتا ہے جب بھی ہندوستان سے کوئی تجارتی قافلا آتا ہے تو وہ یہاں کے لوگوں کے قصائیں سناتے رہتے ہیں۔ مگر ان قصائیں حقیقی نہیں تھیں، جو کچھ سنایا جاتا تھا وہ سب کچھ اس کی قصائیں تھیں۔ یہی اور اس کا ایک ہلچل تھا جو اب بھی دیکھا جاتا ہے۔
 
اس پوری بات پر یہی بات ہے کہ ایک بازار جو تجارت اور قصے دونوں کا مرکز بنتا ہے وہ ابھی بھی اپنی رائے میں موجود ہے۔ وہی جس دور میں لوگ قصے سناتے تھے اور اس وقت بھی ان کو یہ کہا جاتا ہے کہ ایسے قصے سنائے جاتے ہیں لیکن وہ حقیقی نہیں ہیڹ۔ لوگ اسے اپنی تجارت کرنے اور اس کے ساتھ آتے رہتے ہیں جیسا کہ نمک منڈی میں گھومتے ہیں، لیکن ایسے لوگ جو قصوں سنائے جاتے ہیں وہ فاصلے پر موجود نہیں رہ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہی حال جو ہندوستان میں اور وسطی ایشیا میں موجود تھا اب پشاور میں بھی موجود ہے۔
 
واپس
Top