ڈنمارک میں سڑکوں پر نکلنے والے ہزاروں افراد نے گرین لینڈ کے ساتھ ایک جہت کی تشہیر کی، اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو ضم کرنے کی دھمکی پر غور و فکر کرتے ہوئے انھوں نے شدید مذمت کی۔
مظاہرین نے امریکی صدر سے درپیش دھمکی پر توجہ سے گزر کرے ہوئے کہ گرین لینڈ کی خودمختاری کو احترام کیے جائے، اور کہا کہ امریکا اس خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر نے یہ کہا کہ گرین لینڈ اور اس کی معدنی وسائل ان کے لیے بہت اہم ہیں، اور اگر دوسرے ممالک نے اس پر امریکی کنٹرول کی حمایت نہ کی تو وہ تجارتی ٹیرف عائد کر سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ گرین لینڈ کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت اور معدنی وسائل ان کے لیے ضروری ہیں، اور ان کا یہ دعویٰ تھا کہ اگر امریکا نہیں سے کرے تو قومی سلامتی میں بڑا خلا پیدا ہو جائے گا۔
اس مظاہرے کی وہ طاقت کے پیچیدہ رشتے دیکھنے کو عجیب لگتی ہے جس پر غور کرتے ہیں۔ تو ایک طرف یہ امریکی صدر کی جانب سے گرین لینڈ کو ضم کرنے کی دھمکی ہو رہی ہے، اور دوسری طرف ہزاروں لوگ اس پر غضب کا اظہار کر رہے ہیں۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ گرین لینڈ کی خودمختاری اور معدنی وسائل کی بات میں بڑی طاقتوں کے درمیان رشید ہوتی ہے۔ یہ جھگڑا کس طرح معاشرتی ترقی کو متاثر کرے گا، اور کیا اس میں معاشی تنازعات کی بھی کچھ ذمہ داری ہو گی؟
اس مظاہرے کی وہ طاقت کون سے پوری کر رہی ہے؟ یہ کہ انھوں نے امریکی صدر کی دھمکی پر غور و فکر کرتے ہوئے شدید مذمت کی، تو اس میں کوئی عقلانیت نہیں تھی، یہ صرف ایک Political stunt تھا جو انھوں نے اپنی فوجی موجودگی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
جب امریکی صدر نے یہ کہا کہ گرین لینڈ کی خودمختاری کو احترام کیے جائے تو یہ تو ایک دھماکی تھی، لیکن اس کی پابندی انھوں نے اپنی فوجی موجودگی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اس مظا۹رے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امریکی صدر کی ناکامی ہے، انہوں نے ایک بڑی فوجی موجودگی کو استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن مظاہرین نے انھیں یہ جانب بھی دے دیا ہے کہ وہ ان کی سوچوں سے ناز لگا رہے ہیں۔
اس مظاہرے سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ امریکی صدر کی دھمکی پر غور و فکر کرتے ہوئے بڑی تعداد میں اترے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے دل میں امریکی صدر کی دھمکی پر گاہक نہیں ہے بلکہ وہ اپنی ملکیت کو محفوظ رکھنے کے لیے لڑ رہے ہیں! #اعزازگرینلینڈ
اگر امریکی صدر کی دھمکی پر غور و فکر کرنا عجیب نہیں ہوتا تو کیا انھوں نے سوشل میڈیا پر بھی اس بارے میں کچھ کہا ہوگا؟ #امریکیصدر
اس سلسلے میں یہ بات بھی کوئی ایسا مظاہرہ کہ رہا ہو گا جس پر پوری دنیا بھر میں لوگ غور و فکر کریں گی! #مظاہرہگرینلینڈ
اس دھمکی کے لئے امریکی صدر کو کیا جواب دینا چاہیے؟ وہ کہتے ہوئے کہ گرین لینڈ کی معدنی وسائل ان کے لیے ضروری ہیں، یہ کہنا تو نہیں کہ اس خطے میں معاشی اور سیاسی ایکٹوń کا ایسا عمل ہو رہا ہے جو ان کے لیے خطرناک بھی ہو سکta hai. ڈینمارک کے لوگ یہ دیکھتے ہوئے کہ امریکی صدر نے ان کی وکالت نہ کی، تو وہ کیا کرتے؟
اس نئے عہد میں ہر کچھ ایسا ہی ہوتا جائیگا جیسا ہوا دیکھتے ہیں، سڑکوں پر ان کے وادیوں میں جاننے والے لوگوں نے ایک بڑا مظاہرہ شروع کیا اور یہ مظاہرہ اس لئے تھا کہ ان پر امریکی فوج کی موجودگی کو دور کرنا ہی پہلے priority tha, ab woh kisi tarha ka khayal nahin kar rahe hai.
ہزاروں افراد کو چالاک پہنا تھا اس مظاہرے میں، انھوں نے اپنی وطنی کی بہادری کا ظہور دیا اور امریکہ سے دھمکی پر غور کرنے کی توقع تھی، لیکن وائٹ ہاؤس کے اراکین نے اس بات کو انکار کر دیا کہ ان کا خیال ہے کہ گرین لینڈ کو ضم کرنا یہیں تک کہ ایک ایسا خلا پیدا ہونے کے لیے کافی ہے جس سے دنیا کو خطرہ پہنچایا جائے گا۔
اس وقت تک کہ گرین لینڈ کو ان کے قبضے میں نہیں چھوڑا جاتا تو یہ خطہ بڑے تباہ ہونے کی طرف متحرک ہو گیا ہے، مظاہرین نے ایسا کیا کہیں پھر اس سے زیادہ تو نہیں۔
امریکی صدر کی دھمکی پر غور و فکر کرنے کے بجائے انھوں نے اپنی جہت کی تشہیر کرلی۔ یہ بات بھی کوئی بڑا مظاہر نہیں ہوا تو آمریکی صدر نے ہزاروں افراد کے ساتھ اس میں حصہ لینے کی دعوت بھی دی تھی، اور انھوں نے یہ کہا کہ گرین لینڈ کے معدنی وسائل کو اپنے لیے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اس بات پر یقین ہے کہ اگر کہیں ایک ممالک نے ان کے قبضے میں اس خطے کو چھوڑنا نہیں دیا تو وہاں سے ان کی فوجی موجودگی بڑھائی جا سکتی ہے، اور یہاں تک کہ انھوں نے گرین لینڈ کو اپنے قبضے میں چھوڑنا نہ کی تو وہاں سے ان کی تجارتی موجودگی بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔
اس بات پر یقین ہے کہ اگر کہیں ایک ممالک نے ان کے قبضے میں اس خطے کو چھوڑنا نہیں دیا تو وہاں سے ان کی فوجی موجودگی بڑھائی جا سکتی ہے، اور یہاں تک کہ انھوں نے گرین لینڈ کو اپنے قبضے میں چھوڑنا نہ کی تو وہاں سے ان کی تجارتی موجودگی بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔
ایسے میں تو ان کی دھمکی کتنے بڑی تھی کہ لوگ سڑکوں پر اتر کر گرین لینڈ کے لیے ایک جہت کی تشہیر کرتے ہیں، یہ تو بہت متعصبانہ کا کام ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گرین لینڈ کی خودمختاری کو احترام کرنا چاہئے، لیکن اس میں یہ بات بھی شامل ہونی چاہئے کہ ابھی تک انھوں نے اپنی فوجی موجودگی کو جہہاتوں پر لگایا ہے، اور اب وہ یہ دाव رکھتے ہیں کہ اگر دوسرے ممالک ان کی حمایت نہ کریں تو وہ تجارتی ٹیرف عائد کر سکتے ہیں۔
اس مظاہرے کو دیکھتے ہوئے، یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکا نے گرین لینڈ پر اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن وہ یہ جاننے میں کامیاب ہوئے کہ لوگ اس پر لاحقہ نہیں لگا رہے؟ جیسا کہ امریکی صدر نے بتایا، گرین لینڈ کی معدنی وسائل ان کے لیے اہم ہیں، لیکن لوگوں نے اس پر انہیں پکڑنے کی کوشش کر رہی ہے؟ یہ تو بھرام دہلکی ہے!
اس دuniya mein kaun bhi kuchh nahi hota jab tak America ki jaan baahon mein na ho jaye. ye toh graen land ko america ke nalaazmiyon se bachna hi kis tarhai karega. yeh sab kuchh ek sirf sirf kisaan aur poorvi duniya ka koi bhi vyakti nahin jaanta, jo apne desh ki azadi aur samriddhi ko laakhon bar baar sawal kar raha hai. maine suna hai ke yeh America ke sarvinsar ka karya hai, lekin woh kya bata rahe hain? graen land ko america ki fauj se milna hi chahiye.
بغیر کسی سٹاپ کے ہزاروں لوگوں نے امریکی صدر کی دھمکی کو ان کے سامنے ایک ریکارڈ برقرار کر دیا ہے، وہیں ان کے سامنے واضح یہ بات بھی رہی ہے کہ ان کی فوجی موجودگی بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے وہ اپنی نجی منافعوں پر فокस کر رہے ہیں، یہ بات اتنا سادہ ہے کہ اس کو کبھی بھی ایسا لگنا چاہئے کہ وہ خود کی مہنتوں پر غور کرتے ہوئے ان میں بھی اچانک بڑھاؤ کیسے رکھ سکتا ہے؟
ایسا نہیں ہوسکتا، یہ واضح ہے کہ امریکی صدر کے دعویٰ میں کچھ حقیقت ہے، لیکن انہوں نے اس بات پر غور و فکر نہیں کی ہے کہ گرین لینڈ ایک آزاد ملک ہے اور اس کی خودمختاری کو احترام کرنا چاہئے۔
ایسے میٹھے بول بھرنے والے امریکی صدر کو یہ سوچنا چاہئے کہ ان کے دعویٰ پر غور و فکر کریں اور دوسرے ممالک کی مدد سے اس کے حقوق کو بھی جانتے ہیں، نہیں تو یہ بے ایمان ہوگا۔
امریکی صدر کی یہ دعویٰ تھی کہ گرین لینڈ کو امریکا نہیں چھوڑ سکتا، لیکن وہ انھوں نے کیا کھلا؟ یہ کہتا ہوا کہ جب تک انھیں اس پر کنٹرول حاصل کرنا ہوتا ہے تو وہ اس پر اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی کوئی کوشش نہیں کرتے اور وہ یہ کہتے ہوئے لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں کہ گرین لینڈ کی خودمختاری کو احترام کیا جائے؟ بلاش پوسٹر پر امریکا کا یہ دعویٰ تھا اور اس نے انھیں ہزاروں لوگوں میں ایک جہت کی تشہیر کی مگر اب وہ جو کہتا ہوا دیکھتے ہیں، یہ کہ اسی ملک نے امریکا کو ایسا محسوس کیا کہ وہ اس کے لیے قابل اعتماد نہیں ہے؟
main neeche gaya hu, toh maine dekha hai ki America ki baat bahut galat hai. unhone Greenland ko apne pasandida territory banane ki talash shuru kar di hai...
Main socha tha ki america ke president donald trump ek majboot desh hain, lekin ab meri salah karta hoon ki wo iss baat par dhyan na dein. Greenland ki swatantrata ko respect kiya jana chahiye...
Mere pasandida log America ka dushman ban gaye hain, jabki mere liye America ka dost banana jari hai. Maine America ke president donald trump ki baat suni hai aur main usse samjhne mein asafal raha hu...
اس دuniya کی سڑکوں پر جو لوگ آئے ہیں وہ سب کو ایک بات پتہ چل گئی ہے کہ دنیا میں بھی اپنا اہداف اور قومی سلامتی کی توجہ سے بننے والا کوئی بھی ملک اپنی مدد سے نہیں بن سکتا۔ گرین لینڈ کے ساتھ اس معاملے میں دھمکی لگائی گئی ہے تو اس پر لوگوں کی شدید مخالفت بھی ہوئی ہے، اور یہ بات بھی پتہ چلی گئی ہے کہ دنیا میں سب ایک لانے والے ہیں، اس لیے دنیا کو ایسا نہیں بنانا چاہئے کہ ایک ملک کے اہداف سے دوسرے ملک کی مدد لینے والا ہو۔
اس پر بہت چپچप تھا ، گرین لینڈ کی خودمختاری کو کیسے محفوظ رکھا جائے ? امریکا نے اس پر اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی وعدے پر تو قوموں کو کیسے یقین ہوا ? انہیں ملک کے سامنے ایسے دعویٰ کرنا چاہیے جو اس کی صلاحیتوں پر مبنی ہوں، نہیں؟
یہ طاقت کی حقیقت ہے کہ جب آپ سڑکوں پر نکلتے ہیں تو اس پر دھ्यان نہیں پڑتا ہے، لیکن یہ بات بھی تھی کہ ایک دھمکی اور 10000 افراد سڑکوں پر نکل کر شہد کو رکھتے ہیں تو وہ دھمکی اس وقت تک پچتی ہے جب تک اس کا مطلب سامنے آتا ہے - یہ بات بھی ثابت ہوئی کیونکہ یہ لوگ کہتے تھے کہ ان کو اپنی خودمختاری میں احترام ملے گا اور ان کو پہچاننا نہیں ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی اس وقت کی گلائی ہوئی جب امریکی صدر نے یہ کہا کہ وہ فوجی موجودگی بڑھانے اور تجارتی ٹیرف عائد کرنے پر تیار ہیں۔ اسے پورا دنیا جانتا تھا لیکن یہ بات تو صاف ہو گئی کہ وہ لوگ جو خود کو ایسے شخص کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جن کو محبت اور احترام کا انعقاد نہیں ہوتا، وہ یہی حالات بنائیں گے۔
اس مظاہرے کی وہی لگ رہی ہے جس سے میری پچھلی شادی نکل چکی ہے، تھوڑی سی دیر میں سب جانتے ہیں اور مجھے بھی ہی اس کا فائدہ اٹھانا پڑتا ہے
مگر Serious حالات کے باوجود، میری رائے میں یہ بات حق کہ گرین لینڈ کی خودمختاری کو احترام کرنا چاہئیے اور اسے امریکی دستاویزات پر بھی نہیں ہونے دی جا سکتی، مگر وہاں ایسا کیا جائے گا یہ دیکھنا ہی تھوڑا Problem ہے
اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت کی بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے گرین لینڈ پر دباؤ ڈالا اور انھوں نے اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے? یہ بات تو سچ ہے کہ گرین لینڈ میں معدنی وسائل ان کے لیے اہم ہیں لیکن اس پر دباؤ ڈالنے کی जरورت نہیں ہے?
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہاگر دوسرے ممالک نہیں سے کرے تو تجارتی ٹیرف عائد کرتے ہیں۔ ایسا کیسے؟ اس طرح کے استعمال سے بھی قومی سلامتی میں نقصان ہو گا? یہ بات تو توہین دیتی ہے.