سپریم لیڈر کے بڑے فیصلے کا اعلان سامنے آ گیا - Daily Ausaf

آن لائن یار

Well-known member
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای پر نئی تحریک کی واپسی سے متعلق بات چیت کی کوشش کرنے کے بعد بھی ان کے خلاف نئی کارروائی کا منصوبہ بنانے پرIran میں سخت ردعمل ہوا ہے۔

ایرانی پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنایا جائے تو نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم قوم اس کے خلاف متحد ہو جائے گی۔

انہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر سپریم لیڈر پر حملے کی صورت میں علمائے کرام جہاد کا فتویٰ جاری کریں گے، اس کے بعد دنیا بھر میں اسلام کے سپاہیوں کے ردعمل کی ذمہ داری آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ کرنے والوں پر عائد ہوگی۔

ایران کی حکومت نے بھی اس معاملے پر سخت موقف اپنا کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای پر کوئی بھی حملہ مکمل اور ہمہ گیر جنگ کا باعث بنے گا، اس سے نتیجہ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے پس منظر میں آئے جانے والے یہ بیان اس بات کی بھی ایک علامت ہے کہ ایران میں حکومت کا اقتدار برقرار رہنے کے لیے بے مثال جبر اور تشدد پر انحصار کیا جا رہا ہے۔
 
ایران کی حکومت کو کیا یہ چیلنج کرتا ہے؟ آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے سے پوری دنیا متاثر ہونے کا امکان ہے؟ میروں نے سمجھا ہے انہیں اپنا آپریشن بھارتی میڈیا پر چلائے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن پوری دنیا کے سامنے یہ کیسے آئے؟
 
ایسا لگتا ہے ایران میں حالات پھینکتے جانے کا یہ کچھ عرصہ ہی پورہ نہیں ہو رہا، پہلے بھی تھے جیسے اس کے بعد ہے اور ابھی یہی کچھ کر رہا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے منصوبوں کے بارے میں ایران کی حکومت کو کبھی تو کبھار تنقید کرتے ہیں اور کبھار ان پر چیلنج کرتی ہے لیکن اب بھی وہ یہ سمجھ نہیں رہا ہے کہ اس کی حکومت کو کس کی تلافی کرنی ہوگی۔ اور اس طرح یہ انفرادی مقاصد سے ابھرتی ہوئی معاشی اور سیاسی بحرانوں کا شکار ہے، اسے ہی کبھی تو کبھار ہوش میں پھیلایا جاتا ہے لیکن ابھی بھی وہ نہیں ہو سکا ہے۔
 
ایران کی حکومت کو کچھ واضح بتانا چاہیں کہ جب آپ ایک شخص پر حملے کا منصوبہ بناتے ہیں تو اس میں اور اس سے پہلے کے دھمکیوں کی کوئی مدد نہیں ہوتی کیونکہ یہ لوگوں کا جذبہ ختم کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں اور لوگ بھگتے ہیں 😏۔ یہ بات تو آسان ہے لیکن جب آپ کو ایک دوسرے شخص کی جان کو خطرے میں لایا کرتے ہیں تو پھر یہ بھی اچھی بات نہیں ہوتا۔

یہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر توجہ دلاتے ہوئے تو اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش نہیں کر رہاں کہ اگر ان پر حملے کی صورت میں علمائے کرام جہاد کا فتویٰ جاری ہو تو پھر اس کو انفرادی موقف سمجھنا مشکل ہوتا ہے اور دنیا بھر میں ایک دوسرے شخص کی جان کھونے کا عذب نہیں رہتا۔
 
ایسا تو لگتا ہے کہ ان Iranian politicians ke beech kuch galatfahmi hai, Iran ki government aik strict policy banati hai, aur unki opposition ko zinda rakhne ke liye bhi thakkar dene ka plan bani hai 🤔

Lekin ye toh Iran mein politics ki cheez hoti hai, jahaan har ek party apni alag-alag policies banati hai, aur unhein koi bhi aik dusre party ko reject nahi karta 🤑

Aur agar Iran ke leaders ko zinda rakhne ke liye thakkar dena padta hai, toh ye bhi toh ek galatfahmi hai, kyonki koi bhi nation apni freedom ki zaroorat mein khud ko thakaate nahi de sakta 🚫

Toh Iran mein bhi kuch changes aane chahiye, jahaan government aur opposition dono ke beech dialogue banayein, aur unke beech ek mutual respect banayein 👍
 
ایسے میں تو یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ کوئی بھی شخص جتنا ہی زیادہ مقبول ہوتا ہے اور لوگ اس پر اپنی توجہ مرکوز کرنے لگتے ہیں، وہ ہمیشہ ایسا ہی محسوس کرتا ہے کہ ان کی زندگی میں سہولت ہو رہی ہے اور اس لیے ان پر لوگ اپنی تلافی چاہتے ہیں مگر وہ ذہن بھری ہوئے ہوتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ یہ تو ایک نا-normal اور دلچسپ بات ہو گی۔
 
ایسا لگتا ہے ایران میں حکومت کی پوری کوشش بھی ناکام رہی ہے جب یہ دوسرے ممالک سے مل کر اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے، جب تک ان کی حکومت وادھت پر کمر نہیں رکھی، تو ایسا یقیناً ناکام رہے گا ۔ ایران میں لوگوں کی زندگی بھی یوں ہی جاری رہ گی کی جگہ اچھے تعلقات قائم کرنے پر توجہ دی جا سکی.
 
ایران کی حکومت کو یہ بات کہنا ہی نہیں پتا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای پر حملے سے اسے ایک نئی تحریک میں بدلتے ہوئے ایران کو چیلنج کرنے اور اس کی حقیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ Iran میں وہی تحریریں پڑھتی ہوں جیسا کہ ایران نے برطانیہ اور امریکہ سے اپنی جان بھگادی ہوئی تھی، اب وہی سڑک پر چل رہی ہے جس پر پچیس سال قبل وہ آغست کی ریلی میں تھی اور اب وہ ایک نئی تحریک سے متحرک ہو کر اس کی جانب رہ رہی ہے۔ 🚨
 
یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ ایران کی حکومت کو اس بات پر بہت توجہ دینی پڑی ہے کہ اپنے Leaders کو اچھی طرح سے نियंत्रित رکھنا چاہیے، لگتا ہے انھوں نے سمجھ لیا ہے کہ اگر کسی Person پر حملے کی صورت میں علمائے کرام نے فتویٰ جاری کیا تو دنیا بھر میں Islam ke Spahiyo se baadbaak rehna pasand nahi ہوتا! Lmao
 
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر کرنے والوں کو نچوڑنا ایسا ہی ہے جیسے وہ ملک سے نکل کر اپنی پوری زندگی اس پر لگاتے ہیں … اور اب ان کی جانب سے اس طرح کی بات چیت کی کوشش کرتے ہوئے کہ ان پر مظاہرے اور ناقابل تحاشی رائے کا بھی سامنا کرنا پڑے … اس پر انہوں نے ایک بیان جاری کیا ہے جو ملک کو ایسے متحد کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسے ملک سے باہر بھی ملک کے تمام مسلموں نے ان کے خلاف لڑا اور اس پر اپنی زندگی بھر کی کمرہ bandھ کی ہو …

اس طرح کی بات چیت کی کوشش کرتے ہوئے حکومت Iran کا ایک نئا منصوبہ بنانے میں پریشان تھی اور اس سے انہیں بتایا گیا ہے کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای پر کرنے والوں کو نشانہ بنایا جائے تو نتیجہ ملک تک بھی محدود نہیں رہے گا بلکہ دنیا بھر میںIslam کے سپاہیوں اور عالمی عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں …

اس طرح کی تحریکی کارروائیوں نے ایران کو ایسا ہی دیکھنا پڑا جیسے ملک اس پر بے مثال جبر اور تشدد پر انحصار کر رہا ہے …
 
بھائی، Iran کی situation to bahut mushkil hai, yeh toh supreme leader ko ek naya target banane ka plan bana raha hua hai aur Iran mein government wala to kuch nahi kar rahe, yeh toh bahut galat hai. Iranian parliamentary commission ne bhi bataya hai ki agar supreme leader par attack kiya jaaye to pury Muslim qom against hoga, yeh toh khatarnaak hai.

aur yeh jofatia jamaatein ke baare mein baat kar rahi hain, woh toh bahut gair kanoon aur aiktaariyan ko follow karte hain. Government ne bhi bola hai ki agar supreme leader par attack kiya jaaye to entire region ko affect hoga aur even global instability ka kaaran ban sakta h.

yeh toh Iran mein government ke power ki koshish hai, lekin yeh toh bahut asal ho raha hai, kyunki government wala apne people ko police aur police force se jal diya hota hai. toh yeh toh bahut galat hai ki unke khilaf protest ho rahe hain.

yeh Iranian scenario to bahut mushkil hai aur yeh toh dono side par ek aisa situation ban raha hai jahan koi bhi saamanya insaan ke liye sahi nahi, yeh toh ek disaster ka samna karna padega.
 
بھارتیوں کی ماحولیہ محفوظ بنانے والی پالیسی تو اچھی نہیں، لیکن یہ بات تو چیلنجنگ ہے کہ اگر دوسرے ملکوں میں بھی حکومت مخالف مظاہروں کی صورت میں علمائے کرام جہاد کا فتویٰ جاری کرنے پر مجبور ہوجائیں تو یہ کس طرح آئین میں لگتا ہے؟ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کی حکومت میں بھی شہری آزادی کی کوئی خاصियत نہیں ہے، اور وہ لوگ جو حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کے لیے آتے ہیں انھیں کوئی ایسی قانون نہیں بنایا جاتا ہے جو انھیں قتل یا جلاوطنی پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہ بھی سوچنا مشکل ہے کہ اگرIran میں کوئی معاملے پر حکومت مخالف ادارے قائم کیے جائیں تو کس طرح ان کو سرکار کے درمیان سے باہر رکھا جا سکتا ہے؟
 
واپس
Top