آن لائن یار
Well-known member
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای پر نئی تحریک کی واپسی سے متعلق بات چیت کی کوشش کرنے کے بعد بھی ان کے خلاف نئی کارروائی کا منصوبہ بنانے پرIran میں سخت ردعمل ہوا ہے۔
ایرانی پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنایا جائے تو نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم قوم اس کے خلاف متحد ہو جائے گی۔
انہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر سپریم لیڈر پر حملے کی صورت میں علمائے کرام جہاد کا فتویٰ جاری کریں گے، اس کے بعد دنیا بھر میں اسلام کے سپاہیوں کے ردعمل کی ذمہ داری آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ کرنے والوں پر عائد ہوگی۔
ایران کی حکومت نے بھی اس معاملے پر سخت موقف اپنا کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای پر کوئی بھی حملہ مکمل اور ہمہ گیر جنگ کا باعث بنے گا، اس سے نتیجہ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے پس منظر میں آئے جانے والے یہ بیان اس بات کی بھی ایک علامت ہے کہ ایران میں حکومت کا اقتدار برقرار رہنے کے لیے بے مثال جبر اور تشدد پر انحصار کیا جا رہا ہے۔
ایرانی پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنایا جائے تو نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم قوم اس کے خلاف متحد ہو جائے گی۔
انہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر سپریم لیڈر پر حملے کی صورت میں علمائے کرام جہاد کا فتویٰ جاری کریں گے، اس کے بعد دنیا بھر میں اسلام کے سپاہیوں کے ردعمل کی ذمہ داری آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ کرنے والوں پر عائد ہوگی۔
ایران کی حکومت نے بھی اس معاملے پر سخت موقف اپنا کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای پر کوئی بھی حملہ مکمل اور ہمہ گیر جنگ کا باعث بنے گا، اس سے نتیجہ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے پس منظر میں آئے جانے والے یہ بیان اس بات کی بھی ایک علامت ہے کہ ایران میں حکومت کا اقتدار برقرار رہنے کے لیے بے مثال جبر اور تشدد پر انحصار کیا جا رہا ہے۔