تاجکستان، سنکیانگ 6اعشاریہ 1اور پاکستان میں 5اعشاریہ 8 شدت کا زلزلہ - Ummat News

سبز پسند

Well-known member
تاجکستان، سنکیانگ اور پاکستان میں ایک شدید زلزلہ آئا جس کی شدت 6اعشاریہ 1 تھی، جب کہ پاکستان میں اس کی شدت 5اعشاریہ 8 تھی۔ گہرائی ایک سو سترہ کلومیٹر تھی، جو گنجان آب و ہوا والے علاقوں کے لیے خطرناک ہوتی ہے۔

ملک کی مختلف سرحدی علاقوں میں شدت کی گئی اور اس کا ایک ساتھ ساتھ آگاہ کن تباہ کن اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ مظفرآباد، وادی نیلم، سوات، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ اور ایبٹ آباد میں زلزلے کے شدید اثر دیکھے گئے ہیں۔ شہری لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے ہیں۔

تاجکستان اور چین کا سرحدی علاقہ زلزلے کا مرکز تھا، جس کے باعث ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بڑی ہربانی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں مختلف سرکاری اداروں اور سماجی ماحول کی ایک ہی ساتھ ساتھ پہچان ہوئی ہے۔
 
یہ زلزلے کا شکر گزارنا مشکل ہوگا... یہ دیکھنا ہر ایک کے لیے تنگنہ ہوا ہے. مظفرآباد اور وادی نیلم میں سارے گھر ٹوٹ گئے ہیں, لاکھوں لوگ اپنی جائیدادوں سے کھو چکے ہیں. شہری لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے ہیں, ابھار کی صورتحال ہو رہی ہے...

ایسا لگتا ہے کہ جب تک یہ سرحدی علاقے بحالی نہیں ہوتے، ہر ایک کو اپنی زندگی کی پریشانیوں سے جھٹکا ہوا رہے گا.
 
بلاشپوسٹ کا لگتا ہے، زلزلے کے بعد ملک بھر میں کافی آسے موڈ سے نکل کر آئی ہیں، ابھی یہی نہیں لگتا کہ لوگ اپنے گھروں کو بحال کریں گے، دیکھو آبادیات کی اس سے بڑی تباہی!
 
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ زلزلہ بہت تیز نہیں آئیا، ابھی تک ان سارے علاقوں میں آگ لگنے اور سماجی بحران پیدا ہونے کا کوئی وقت نہیں چلا۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ابھی تک کی صورت حال سے واقف ہونے والے لوگ اس قدر نرمی اور سارٹج ہوئے موقف میں پائے جائیں گے؟ یہ ایک حقیقت کہیں بھی یہ بات غلط نہیں، کہ ملکوں اور لوگوں کو پہچان لینا ہوتا ہے۔
 
زلزلے کا یہ اثر دیکھتے ہی انہیں محسوس ہوتا ہے کہ لوگ ایک دو دن میں ہی ایسی چیزوں کی ضرورت کرتے ہیں جو آپ نے زیادہ سے زیادہ سے محفوظ کیا تھا۔ لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہوئے بھی اس طرح کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں، جیسے قیمتوں میں اضافہ، کچھ لوگ ٹیکسٹائل اور کچھ موادیوں کی کیپڈری کرتے رہتے ہیں، یہ زلزلے نے ایک فخر خیز بات بھی سچائی کروای ہے کہ لوگ اپنی زندگیوں کو محفوظ بناتے چلتے رہتے ہیں۔
 
ایسا کیا لگتا ہے ناکام ہونے کے بعد بھی ملک کی پیداواری صلاحیتوں پر اپنی عادت رکھنا چاہئے? یہ زلزلے نہایت خطرناک تھے اور ان سے پہلے کو ہونے والی ساروں صلاحیتوں پر اسے اپنا اثر چاہئے۔

اس وقت ملک میں شہروں میں باہر نکلنے والے لوگ، محلات اور گھروں سے ٹیکسٹائل اور دیگر معیشت کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لاکھوں افراد اپنی زندگیوں کو نئی طرز پر قائم کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ ملک کا ایک بڑا عزم ہے اور ایسا ہونا چاہئے کہ وہ ناکام رہنے سے بھگت نہیں جائے اور اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ اٹھانے کی کوشش کرے۔
 
زلزلے کا یہ تباہ کن اثر دیکھتے ہی بے بس محسوس ہوتا ہے ، تاجکستان اور چین کی سرحدی علاقوں میں ان لوگوں کی جاناں کے نتیجے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بڑی ہربانی ہوئی ہے، مظفرآباد ، وادی نیلم ، سوات ، شانگلہ ، بونیر ، مالاکنڈ اور ایبٹ آباد میں زلزلے کے شدید اثر دیکھے گئے ہیں، لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے ہیں ، زلزلے کی شدت یہاں کس قدر تھی وہ دیکھ کر بے بس محسوس ہوتا ہے
 
یہ زلزلہ کیا بھی ہوا، تو یہ بھی تھا، لگتا ہے کہ جس نے پاکستان کو 5.8 اعشاریہ شدت میں لے گیا وہی ایک ساتھ ساتھ مل کر جبکہ Tajikistan اور China کی طرف بھی چلا گیا، مگر یہ بات کیسے بتائی جاے کہ وہ زلزلے پہلے ہی نہیں تھے یا ان میں سے کسی کو چلا گیا؟
 
zaroor ye taqat ki baat hai, yeh zameen kaisi hai? ek hi ghadi mein kya ho raha hai pakistan ko? taajikistan aur china ke saath mil kar kya banna chahenge?

yeh sabhi samjhne ke liye apni pehli aawaz utha rahi hoon. un logon ko jo zameer mei thi, wo ab jeevan ki chunauti ka maja ban gaye hai. woh log jo khana khaane ke liye the, ab gaareeb ho kar khane ko nahi mil paa rahe hai.

yeh sab kuch ek hi baar zindagi ki ghatna hai, aur humein apne aapko yeh samajhna chahiye. kya logon ne socha tha? ya phir wo jo samjhte the woh nahi, ab yeh saabit ho gaya hai.
 
زلزلے کا یہ اثر و رسخ کو دیکھتے ہوئے، مجھے غور کرنا چاہیے کہ پوری دنیا میں لوگ ہمیں یہی سچائی بات مانتے ہیں کہ زلزلے نہ صرف زمین کو خراب کرتے ہیں بلکہ ہمارے دل اور ذہن کے عزم بھی تباہ कर دیتے ہیں. مظفرآباد، وادی نیلم سے لے کر پورے ملک میں ایسی زلزلے کی شدت نہیں dekھی گئی جیسے اب پاکستان میں دیکھنے کو ملا ہے. آج بھی لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل کر ایک ساتھ ساتھ رہ رہے ہیں، یہ بات تو کہی جا سکتی ہے کہ پوری دنیا کو اپنی قوتوں کی پرولانڈ میں نہ جانا چاہئیے.
 
یہ زلزلے ہندوستانی خطے کے لئے بہت د Arrrrgh ! یہاں اور تھوڈی سے مٹار و مینہ والے علاقوں میں پڑتال ہو گا، انھیں سب سے پہلے اس پر فیکٹریوں اور انڈسٹریز کے قریب ایک سے زیادہ فرار ہونا چاہیے۔
 
یہ زلزلے بے پناہ ہیں، اس کا اثر و رسوخ تمام ممالک پر دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پاکستان کی سرحدی علاقوں کو خاص طور پر کمزور لگ رہا ہے، ان لوگوں کو اپنی جائیداد اور غنائیں بچانے کے لیے زیادہ قوت پزیر کرونا ہو گا۔ ہمارے ملک میں تاکتیں، اہلکار اور معاونت کے ساتھ سرگرمیاں شروع کرنی چاہیے۔ ہم اس نازک وقت میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے اپنے لوگوں کو ملانے پر توجہ دی جائے گا۔
 
بھیٹا اور زلزلے! یہ دیکھنا کتنا حیرانی کن ہے کہ ایک لمحے میں پوری ملکیت متاثر ہوجاتی ہے۔ مظفرآباد اور شانگلہ جیسی علاقوں میں زلزلے کا اثر دیکھتے ہوئے ایک ساتھ ساتھ لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے ہیں۔ یہ بھی دیکھنا کہ تاجکستان اور چین کا سرحدی علاقہ زلزلے کا مرکز تھا، ان دونوں ممالکو کی طرف سے ہرنی پوری ہوئی ہے۔ پورا ملک ہی نہ بھر گیا ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا کتنا خطرناک ہے کہ اس کے بعد کیسا رخ دیتا ہے؟
 
زلزلے کا ایسا یہ اثر تھا جو سب کو دیکھنا پڑا، اس نے لوگوں کی زندگیوں کو بدل دیا ہے۔ مظفرآباد اور وادی نیلم میں زلزلے سے شدید تباہی ہوئی ہے، لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل کر ایک جگہ کا انتخاب کر رہے ہیں۔

زندانیوں کی سہولت اور لازمی معاشرے کو لاحق چیلنجس کو سامنے لानے میں بھی اس نے اپنا کردار ادا کیا ہے، کچھ لوگ یہاں سے جانے کی ایک آزماً عادی گئے تھے تو دوسرے لوگ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اپنے گھروں کو بچا رہے ہیڰ۔

چین اور Tajikistan کا سرحدی علاقہ زلزلے کا مرکز تھا، جو اس کی شدت اور پھیلاؤ کو دکھایا ہے، اب ایسی ہربانی ہوئی ہے جو سب کو دیکھ رہی ہے۔
 
بہت زبردست زلزلہ ہوا، اس کا آؤٹسپوک لگ رہا ہے، مظفرآباد اور وادی نیلم میں کیوں انحطاط دیکھا گیا؟ زلزلے کے بعد گناہgodار لوگوں کو پکڑنا چاہئیے، مگر ہم نے پچھلی بار یہی کیا تھا اور ابھی تو فائدہ جاتی جانب میں بھاگ رہا ہوں گے۔ ہمیں لوگوں کی مدد کرنی چاہئیے، نہ کہ آگ کے لئے زور دےنا چاہئیے۔
 
yalas, zameen ke dinon mein kuch bhi badal nahi hua, ab tak zameen ki majbooti ko koi baat nahin samajh payee hai. Tajikistan aur China ki serhad par ye zameeneri jang aai, toh uss par humein ghabray ki wajah honi chahiye? Pakistan mein bhi bahut se maslemin apne gharon se nikal aaye hain, wo jo pehle thokar ke saath chalte the, ab woh samjhte hain ki zameen ka kya maza hai. Ab log ek doosre se milte hain, apni madad kartay hain, aur sabko yah samajh aaya ki humein ek dusre ki zarurat hai.
 
زلزلے سے متاثر ہونے والوں کے لیے معاونتی کا یہ موقع نہیں چل sakta jahan tak وہ پھینک دیں. ان لوگوں کو آپنی ایمریجنس اور سیکورٹی کی پوری کوشش کرنی چاہیے.

چینی اور تاجکیستان کی سرحدی علاقوں میں شدت زلزلے نے بھی ہمیں ایک بڑی حیرت کا کारनما بنaya. اس سے ان لاکھوں لوگوں کو آپنی جینتیں بچانے کی مشکل کا سامنا करनا पडa.

آج کل ملک میں ہر سرحد پر آونلائن ایسروس لیڈیز چل رہیں ہیں، جن کی ذمہ داری سماجی سول کامیابی کے لئے بھی بڑی ہوگی.
 
واپس
Top