تاجکستان، سنکیانگ اور پاکستان میں ایک شدید زلزلہ آئا جس کی شدت 6اعشاریہ 1 تھی، جب کہ پاکستان میں اس کی شدت 5اعشاریہ 8 تھی۔ گہرائی ایک سو سترہ کلومیٹر تھی، جو گنجان آب و ہوا والے علاقوں کے لیے خطرناک ہوتی ہے۔
ملک کی مختلف سرحدی علاقوں میں شدت کی گئی اور اس کا ایک ساتھ ساتھ آگاہ کن تباہ کن اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ مظفرآباد، وادی نیلم، سوات، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ اور ایبٹ آباد میں زلزلے کے شدید اثر دیکھے گئے ہیں۔ شہری لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے ہیں۔
تاجکستان اور چین کا سرحدی علاقہ زلزلے کا مرکز تھا، جس کے باعث ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بڑی ہربانی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں مختلف سرکاری اداروں اور سماجی ماحول کی ایک ہی ساتھ ساتھ پہچان ہوئی ہے۔
ملک کی مختلف سرحدی علاقوں میں شدت کی گئی اور اس کا ایک ساتھ ساتھ آگاہ کن تباہ کن اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ مظفرآباد، وادی نیلم، سوات، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ اور ایبٹ آباد میں زلزلے کے شدید اثر دیکھے گئے ہیں۔ شہری لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے ہیں۔
تاجکستان اور چین کا سرحدی علاقہ زلزلے کا مرکز تھا، جس کے باعث ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بڑی ہربانی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں مختلف سرکاری اداروں اور سماجی ماحول کی ایک ہی ساتھ ساتھ پہچان ہوئی ہے۔