راجستھان میں اقلیتوں کو بے دباو سے نمٹانا
آرہا ہے، جو رائے دار ہے، اور ان کے حقوق کو لینے کی جدوجہد جاری ہے۔
ابھی ایک دن پہلے سینیٹ میں ایسے مظالم پر بات چیت ہوئی جیسے کہ جو آئین کے تحت نہیں ہیں اور ان کو سماجی طور پر قابل تسلیم کرنے کا بھی۔ یہ دیکھا جانا مشکل ہے، لیکن واضح ہے کہ اس کے پچھلے سینیٹ میں ان مظالم کو نئے قانون کے ذریعے تسلیم کرنے پر غور کیا گیا تھا اور ان کی تجدید بھی ہوئی ہے۔
اب اس بات کے لیے واضح ہے کہ یہ کیسوں ہوا، اور کس طرح اس نے اس میں ہم آہنگی حاصل کی۔ یہ واضح ہے کہ اس کا منصوبہ بھی عظیم تھا جس میں تمام اقلیتوں کو ہم آہنگی کے ساتھ نئے قانون میں شامل کرنا ہوگا۔
اس وقت یہ بات طے پڑی ہے کہ جو اٹھارہویں صدی میں آئین کے تحت ان مظالم کو تسلیم نہیں کیا گیا، وہ اب ان کے حقوق میں شامل ہوگئے ہیں اور اس کے لیے یہ منصوبہ بھی واضح ہے کہ انہیں سماجی طور پر قابل تسلیم کرنا ہوگا اور نئے قانون میں انہیں شامل کرنا ہوگا۔
آرہا ہے، جو رائے دار ہے، اور ان کے حقوق کو لینے کی جدوجہد جاری ہے۔
ابھی ایک دن پہلے سینیٹ میں ایسے مظالم پر بات چیت ہوئی جیسے کہ جو آئین کے تحت نہیں ہیں اور ان کو سماجی طور پر قابل تسلیم کرنے کا بھی۔ یہ دیکھا جانا مشکل ہے، لیکن واضح ہے کہ اس کے پچھلے سینیٹ میں ان مظالم کو نئے قانون کے ذریعے تسلیم کرنے پر غور کیا گیا تھا اور ان کی تجدید بھی ہوئی ہے۔
اب اس بات کے لیے واضح ہے کہ یہ کیسوں ہوا، اور کس طرح اس نے اس میں ہم آہنگی حاصل کی۔ یہ واضح ہے کہ اس کا منصوبہ بھی عظیم تھا جس میں تمام اقلیتوں کو ہم آہنگی کے ساتھ نئے قانون میں شامل کرنا ہوگا۔
اس وقت یہ بات طے پڑی ہے کہ جو اٹھارہویں صدی میں آئین کے تحت ان مظالم کو تسلیم نہیں کیا گیا، وہ اب ان کے حقوق میں شامل ہوگئے ہیں اور اس کے لیے یہ منصوبہ بھی واضح ہے کہ انہیں سماجی طور پر قابل تسلیم کرنا ہوگا اور نئے قانون میں انہیں شامل کرنا ہوگا۔