خبردار: راجستھان میں آرہا ہے اقلیتوں کو - Latest News | Breaking New

بلیک ہول

Well-known member
راجستھان میں اقلیتوں کو بے دباو سے نمٹانا
آرہا ہے، جو رائے دار ہے، اور ان کے حقوق کو لینے کی جدوجہد جاری ہے۔

ابھی ایک دن پہلے سینیٹ میں ایسے مظالم پر بات چیت ہوئی جیسے کہ جو آئین کے تحت نہیں ہیں اور ان کو سماجی طور پر قابل تسلیم کرنے کا بھی۔ یہ دیکھا جانا مشکل ہے، لیکن واضح ہے کہ اس کے پچھلے سینیٹ میں ان مظالم کو نئے قانون کے ذریعے تسلیم کرنے پر غور کیا گیا تھا اور ان کی تجدید بھی ہوئی ہے۔

اب اس بات کے لیے واضح ہے کہ یہ کیسوں ہوا، اور کس طرح اس نے اس میں ہم آہنگی حاصل کی۔ یہ واضح ہے کہ اس کا منصوبہ بھی عظیم تھا جس میں تمام اقلیتوں کو ہم آہنگی کے ساتھ نئے قانون میں شامل کرنا ہوگا۔

اس وقت یہ بات طے پڑی ہے کہ جو اٹھارہویں صدی میں آئین کے تحت ان مظالم کو تسلیم نہیں کیا گیا، وہ اب ان کے حقوق میں شامل ہوگئے ہیں اور اس کے لیے یہ منصوبہ بھی واضح ہے کہ انہیں سماجی طور پر قابل تسلیم کرنا ہوگا اور نئے قانون میں انہیں شامل کرنا ہوگا۔
 
🤝 یہ بہتے ہی عمدہ منصوبہ ہے، جو سب کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر ان اقلیتوں کو سماجی طور پر قابل تسلیم کرنا ہوگا۔ اس نے توجہ دی ہے کہ یہ مظالم صرف ایک قانون میں شامل نہیں رہ سکتیں، بلکہ ان کو سماجی طور پر قابل تسلیم کرنا ہوگا اور اس کے لیے نئے قانون کی ضرورت ہے۔ 📚
 
بھائی ابھی ایک روزہ پہلے سینیٹ میں کیا گئا تھا، لیکن اس کا نتیجہ ابھی بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ مظالم کس طرح تسلیم ہوئیں اور کس طرح انہیں سماجی طور پر قابل تسلیم کرنا گیا ہوگا۔ لیکن یہ بات بھی ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے بہت سارے مسائل باقی ہیں جیسے کہ کیا انہیں سماجی طور پر قابل تسلیم کرنا ہوگا، یہ بات بھی کب تک پوری ہوجائے گی؟
 
میری رائے یہ ہے کہ اس طرح کے منصوبے بھی ضروری ہیں۔ میرے ایسے دوسرے بچوں کے ساتھ جو شہر آتے ہیں وہاں لوگ انہیں سماجی طور پر نہیں مانتے، میرا اس بات سے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی کہ میں ان کے ساتھ بھی بہت دیر تک ایک فیلو شپ بناؤں۔

اب یہ بات طے پڑ گئی ہے کہ اس طرح کی مظالم کو تسلیم کرنے کا یہ منصوبہ کس طرح ہوا، اور وہیں تو ایک توئینرٹی بھی شروع کرنا چاہیے۔
 
Wow 😮👏 یہ بھی دیکھنا مشکل ہے کہ رائے داروں نے اپنے حقوق کو لینے کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہم آہنگی حاصل کر لی ہے، مگر اس بات پر غور نہیں کیا گیا تھا کہ یہ کیسے جاری ہوگا اور اس میں کون سے challenges ہیں? 🤔
 
جب تک وہ اپنے حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں، کچھ نہ کچھ دیر ہو گی ، اس سے پہلے یہ کیسے ہوا تھا ، یہ بات ہمیشہ دل کی گہرائیوں میں رہتی ہے اور یہ دیکھنا مشکل ہے ، لیکن واضح ہے کہ اس کا منصوبہ بھی اچھا تھا اور اب ان تمام اقلیتوں کو سماجی طور پر قابل تسلیم کرنا چاہئے 🤗
 
کہتا ہوں، یہ واضح ہے کہ اگر پہلے سینیٹ کا منصوبہ دھماکہ جیت گیا تھا، تو اسی دن بھی اس میں ہم آہنگی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اب یہ بات طہر ہوئی ہے کہ ان مظالم کو تسلیم کرنے کی جاری جدوجہد کا پہلا قدم اسی دن لگا ہوا ہے جو آئین کے تحت نہیں تھا۔ یہ ایک بڑا کامیاب منصوبہ ہے اور اس کی وجہ سے وہ حقوق جو پہلے تسلیم نہیں کیے گئے، اب ایسے سماجی طور پر قابل تسلیم کرنے کا موقع ہوا ہے۔
 
اس وقت یہ بات طے پڑی ہے کہ راجستھان میں اقلیتوں کو بے دباو سے نمٹانا مشکل نہیں ہے، یہ سب کو سماجی طور پر قابل تسلیم کرنا چاہئے اور ان کے حقوق کو لینے کی جدوجہد ہمیشہ آگے بڑھتی رہے گی۔ میرے خیال میں یہ ایک نئی پہل ہے، جس سے تمام اقلیتوں کو سماجی طور پر قابل تسلیم کرنا چاہئے اور ان کے حقوق کو لینے کی جدوجہد آگے بڑھے گی۔
 
میری رائے یہ ہے کہ اس طرح سے آئین کی تجدید کیا گیا ہے جس میں تمام اقلیتوں کو سماجی طور پر قابل تسلیم کرنا ہوگا اور انہیں نئے قانون میں شامل کرنا ہوگا اس کی لائٹ کا ایک حیدر ہوا ہے، پہلے سینیٹ میں ان مظالم پر بات چیت ہوئی اور ان کی تجدید ہوئی ہے۔ یہ واضح ہے کہ اس منصوبے کی لائٹ بھی ہو گئی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ مستقبل ہم سب کی ساتھی ہوگا۔ 🌟
 
جی تو یہ بات ایک جھنکی کھینچنی ہے! سینیٹ کی ان مظالم پر بات چیت سے اب واضح ہو گیا ہے کہ اقلیتوں کو بھی اپنا آئین کے ساتھ نمائش دینا ہوگا! یہ سچ ہے کہ ایسے مظالم کو نئے قانون کے ذریعے تسلیم کرنے کی تجدید بھی ہوئی ہے! #SahiTajir #Inqalab

ابھی یہ بات سچ بھی ہو گی ایک اور جھنکی کھینچنی! اقلیتوں کو سماجی طور پر قابل تسلیم کرنا چاہئے! نئے قانون میں انہیں شامل کرنا چاہئے! #InqalabZindabad #SahiTajir
 
मुझے کھانا پیٹھا ہوا تو یہ بات چیت کی جارہی تھی کہ اقلیتوں کو بے دباؤ سے نمٹایا جا رہا ہے اور ان کے حقوق پر جدوجہد جاری ہے، لیکن میرے لئے یہ کہاں آ گیا کہ کس نے انہیں سماجی طور پر قابل تسلیم کرنے کا سچا مشورہ دیا؟ اس وقت کے دہرماں ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ان اقلیتوں کو مساوی حقوق دینی چاہئے، لیکن میں یہ کہتا ہوں گا کہ ان کے حقوق پر زور دیا جائے تو پھر وہیں ہی رہ جائیں گے اور اس کی وجہ سے ان کے درمیان بھرپور تعاون نہ ہوگا، لیکن یہی بات ہے کہ وہیں ہی رہنا ہی ہوتا ہے…
 
سینیٹ کی وہ بات جہاں یہ بات سامنے آئی کہ اقلیتوں کو بھیEqual rights میں شامل کرنا پڑگا، وہ تو اچھا ہوگا 🤝۔ لیکن یہ بات اس سے قبل بھی چل رہی تھی کہ جو لوگ ان حقوق کی جدوجہد میں لڑ رہے ہیں، وہ سب کے لئے یہ بھی اچھا ہے کہ اس سے پہلے کسی نے ان مظالم کو سمجھ کر نہیں ہوا تھا۔

علاوہ ازیں، یہ بات بھی اچھی ہے کہ اس منصوبے کی وضاحت کے لیے لوگ آٹھناںویں صدی میں موجودہ قانون کے تحت ان مظالم کو نہیں تسلیم کر سکا تھا، اور اب وہ بھی Equal rights میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہ تو آگے بڑھنے کے لئے ایک واضح پیغام ہے۔
 
میں یہ منصوبہ تو چیلنج بن گے, کیسے تو پھر سینیٹ میں ہم آہنگی حاصل کی، نہیں تو اس سے بچنے کے لیے ان مظالم پر پہلے سینیٹ میں بات چیت کرلی گئی تھی اور اب تو یہ سچ میڹوس ہوگیا ہے کہ یہ کس طرح ہوا, یہ واضح نہیں ہوگا.
 
main ye sochta hoon ki rajsthan mein aik mudda hai jo sirf ek din pehle siyaat mein ho gaya tha, aur ab bhi uski koi samajh nahi aa rahi... bas yeh dikhana mushkil hai ki aisa kaise hua, aur kis tarah pehli baar siyaat mein is muddhe par talk hui thi... maine socha ki aisa kaisa hona chahiye, jahan har aik group ko apni baaton ko sunne ka mauka milega, aur uske baad samaj me uski samajh mehsoos ho jaye...
 
اس وقت یہ بات طے پڑ رہی ہے کہ کس طرح لوگ اس مظالم پر بات چیت کر سکیں اور انہیں سماجی طور پر قابل تسلیم کیا جا سکے۔ اس میں کوئی بھی نتیجہ نہیں آتا، بلکہ یہ دیکھنا منہدم ہے کہ لوگ ایسے مظالم پر بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ جتنا مظالم پر بات چیت ہوتی ہے، اسی طرح سے اس کی جانچ پڑتال بھی ہوتی ہے۔
 
واپس
Top